Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

تیس ہزار کا ریشم خریدا تھا بیچنے کیلئے ۔ بازار میں ایسی الٹ پھیر ی ہوئی کہ دام آسمان سے باتیں کرنے لگے ۔ سودے میں نفع ہی نفع تھا اور نفع بھی ایسا کہ پانچ کے پچاس بن رہے تھے ۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا تھا لیکن اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو روپے پیسے کی جھنکار سے نہیں کسی اور بات سے خوش ہوتے ہیں۔ یونس بن عبید ایک تابعی بزرگ تھے ۔ اُن اللہ کے پیاروں میں سے ایک جو اصول کو روپیہ سے زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں ۔ تیس ہزار کا ریشم یونس بن عبید نے خریدا تھا ۔ وہ اسے منہ مانگے داموں بیچ سکتے تھے ۔ کچھ دن ٹھہر کر بیچتے تو ریشم سونے کے بھائو بکتا لیکن خریداری کے بعد انہیں بیچنے سے زیادہ اس بات کی فکر ہوئی کہ جس سے ریشم خریدا تھا اس سے ملاقات کریں۔ چنانچہ اسے ڈھونڈ نکالا اور اس سے پوچھا تمہیں ریشم کے دام چڑھنے کی اطلاع تھی ؟ اس نے جواب دیا نہیں ! اگر ہوتی تو ان داموں آپکو بیچتا ؟۔ حضرت یونس نے کہا درست کہتے ہو اپنا ریشم لے جائو میں تمہاری لاعلمی سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا ۔ حضرت یونس بن عبید سمجھتے تھے کہ یہ بھی دھوکہ ہے ۔ یہ نہیں کہ حضرت یونس تجارت کے گر سے واقف نہیں تھے برابر واقف تھے لیکن دھوکے فریب یا کسی کی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر پیسہ بنانا وہ حرام سمجھتے تھے ۔ حرام کی روزی کھاں جہنم کے انگارے نگلنا ہے ۔ آج بھی اللہ کے کچھ بندے ایسے ضرور ہوں گے جو دیانت سے کاروبار کرتے ہوں گے لیکن کون جانے اُن کی تعداد کیا ہے ؟ مشکل یہ ہے کہ فرشتے نظر نہیں آتے اور شیطان کے چیلے زمین پر اکڑتے پھرتے ہیں ۔ حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں آنحضرت ؐ نے فرمایا حلال روزی کمانا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں حلال روزی کیلئے محنت کرنا نماز کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے ۔ لوگ جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم چالاکی سے روپیہ کما رہے ہیں لیکن یہ چالا کی کس سے ہورہی ہے ۔ اللہ سے ! اللہ تو ہرطرح کی چال چلنے والوں کو خوب جانتا ہے ۔ابن عسا کر نے لکھا ہے حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ؐ نے فرمایا ذخیرہ اندوزی کرنے والے اور قتل کرنے والے دوزخ میں ایک ہی جگہ ہوں گے ! دوزخ کے بھی کئی درجے ہیں جیسے دنیا کی جیلوں میں جرم کے لحاظ سے جیل کے کئی درجے ہوتے ہیں ویسے ہی آخرت میںبھی حرم کے لحاظ سے گنہگاروں کیلئے دوزخ کے مختلف درجے مقرر ہیں ۔ قاتل اور ذخیرہ اندوز اسفل ترین درجوں میں ہوں گے ۔ ابن عسا کرنے لکھا ہے حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد نبویؐ سنایا کہ جس تاجر نے ایک رات بھی یہ تمنا کی کہ مال مہنگا ہوجائے اور اس خیال سے اسے روک رکھا تو اللہ اس کے چالیس سال تک کے نیک عمل ضائع کر دے گا ۔ مسند امام احمد میں ہے معقل بن یسارنے روایت کی کہ جس نے مہنگا بیچنے کیلئے کھانے پینے کی چیزوں کو چالیس دنتک ذخیرہ کیا تو وہ اللہ سے بے تعلق اور اللہ اس سے بے تعلق ہوگیا سوچئے تو کہ اس بد بخت کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں