Daily Mashriq


سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت آج ہوگی

سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت آج ہوگی

اسلام آباد/کراچی: سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں ملک کی اعلیٰ عدالت کے 2 ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت آج (جمعہ) کو ہوگی۔

ایک طرف جہاں سب کی نظریں سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت پر ہیں تو وہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر امان اللہ کانرانی نے سپریم کورٹ کے باہر ریفرنسز کی کاپیاں جلانے کے عزم کا دوبارہ اظہار کیا ہے جبکہ وکلا برادری کے ایک حصے کے علاوہ دیگر وکلا نے پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی کال پر ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

ادھر چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیتھ پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل کے 5 اراکین سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا کے خلاف برطانیہ میں مبینہ طور پر جائیدادیں رکھنے سے متعلق ریفرنسز کی سماعت 2 بجے کریں گے۔

اٹارنی جنرل انور منصور جنہیں بطور پراسیکیوٹر پیش ہونے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل سے نوٹس موصول ہوا تھا وہ اس معاملے میں رسمی سماعت کے آغاز میں کونسل کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے، اگر کونسل ان کے دلائل سے قائل ہوجاتی ہے تو وہ ججز کو نوٹسز جاری کرے گی اور ان سے ان کے خلاف الزامات کے جواب مانگے گی یا پھر کارروائی کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن پہلے ہی اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی رکنیت ختم کرچکی ہے۔

دوسری جانب وکلا کی مختلف باڈیز کی طرح اعلیٰ حکومتی اراکین نے بھی جوڈیشل کونسل کی ابتدائی سماعت کو دور سے دیکھنے اور کسی بھی معاملے میں مداخلت کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے دونوں ججز کی قسمت سے متعلق کیے جانے والے فیصلے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر ایس سی بی اے کے صدر امان اللہ کانرانی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعتوں کے خلاف سپریم کورٹ کی عمارت کے احاطے میں پرامن احتجاج کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل عدالت عظمیٰ کا ماتحت ادارہ ہے، جس نے 20 جولائی 2007 کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے خلاف شروع کیے گئے ریفرنس کو باہر پھینک دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 13 ججز میں سے 3 کے مقابلے میں 10 ججز کی اکثریت نے ریفرنس کو مذموم مقاصد کے ساتھ دائر کرنے پر غیر قانونی کہا تھا، لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل کو موجودہ ریفرنسز کو سپریم کورٹ کے اکثریت فیصلے کی روشنی میں ڈراپ کرنے کے علاوہ جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم امان اللہ کانرانی کے سیکریٹری عظمت اللہ چوہدری سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی حدود میں کوئی احتجاج نہیں ہونا چاہیے اور وکلا کو سماعتوں میں شامل ہونے کی اجازت دینی چاہیے جبکہ صوبائی بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کو اپنے متعلقہ مقامات پر احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے۔

سابق ایس سی بی اے صدر علی احمد کرد نے سپریم کورٹ کے ماتحت سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک کمزور باڈی قرار دیا جبکہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے وزیر قانون کی رکنیت ختم کرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی طور پر وزیر کے پاس کچھ نہیں بچتا کیونکہ وکلا کی اعلیٰ باڈی نے انہیں باہر نکال پھینکا ہے۔

علاوہ ازیں سینئر وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی پاکستان بار کونسل کی کال پر جمعہ کو عدالتی کارروائیوں میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

نجی ریفرنس

دریں اثنا ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی کو لکھے گئے 2 خطوط کو ججز کے ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کہتے ہوئے نجی ریفرنس دائر کردیا۔

اس ریفرنس میں موقف اپنایا گیا کہ جج خطوط لکھ کر غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان خطوط کو مبینہ طور پر ذرائع ابلاغ کے ساتھ شیئر کیا گیا، لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر انہیں ہٹانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں