Daily Mashriq

ٹیکس وصولی کا عزم اور اس کے تقاضے

ٹیکس وصولی کا عزم اور اس کے تقاضے

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو دیکھنا ہوگا، ٹیکس وصولی میں کسی کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں۔ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امیر لوگوں کو پاکستان کیساتھ سچا ومخلص ہونا ہوگا اور ٹیکس دینے ہوں گے۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارے ملک میں امیر طبقہ کم ٹیکس دیتا ہے، ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح 11،12فیصد ہے جو دنیا کی کم ترین شرح میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ برآمدی شعبے کے ٹیکس نظام میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی بلکہ ہم برآمد کنندگان کو مدد دینے کیلئے مزید اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس وقت ہمارے اندازے کے مطابق مقامی شعبے میں 1200ارب روپے کی ٹیکسٹائل کی سیل ہورہی ہے لیکن ہمیں6سے8ارب روپے ٹیکس ملتا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ اس ملک میں کاروبار کریں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ200ارب پر6یا8ارب کا ٹیکس دیں۔ مشیر خزانہ اگر ان ممکنہ اقدامات کا بھی تذکرہ کرتے جو ٹیکس وصولی یقینی بنانے کیلئے اُٹھائے جائیں گے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اگر دیکھا جائے تو مشیر خزانہ کا سوائے بڑے بڑوں کو ناراض کرنے کے جملے کے علاوہ یہ ایک سٹیریو ٹائپ پریس کانفرنس تھی جس میں اسی قسم کے عزائم کا اظہار کیا جاتا ہے اور اسی قسم کی مشکلات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مشیر خزانہ پہلے بھی کسی سابقہ حکومت کے عہدیدار کے طور پر قبل ازیں بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں بہرحال اگر یہ روایتی جملوں کا اظہار نہ ہو اور حکومت حقیقی معنوں میں ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنائے اور اس ضمن میں کسی سے رعایت نہ برتنے کا حقیقی مظاہرہ کیا جائے تو محصولات کے ہدف کا حصول ممکن ہوگا۔ ایف بی آر کو ہر سال جو ہدف دیا جاتا ہے اس میں کبھی نہ ہونی والی کامیابی وہ سقم ہے جس کے باعث سارا نظام جمود کا شکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نادہندگی کی وجوہات میں ایف بی آر اور حکومت کی پالیسیوں کا ممد ومعاون ہونے کی بجائے رکاوٹ کا باعث ہونا بھی کوئی اچھنبے کی بات نہیں جو لوگ ٹیکس دینے کے خواہاں ہوتے ہیں ان کیلئے اگر ایسا سہل نظام متعارف کرایا جائے کہ وہ چارٹر اکاؤنٹنٹ کی خدمات کے حصول کے بغیر سہل طریقے سے ریٹرن جمع کراسکیں تو ٹیکس نیٹ میں خودبخود اضافہ ہوگا۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے رجوع پر مجبوری اور ٹیکس کیساتھ فرم کو بھی ادائیگی کیلئے لوگ تیار نہیں اس لئے درمیانی فرم کی ضرورت باقی نہ رہنے دیا جائے بصورت دیگر فرمز اپنے کلائنٹس کو ٹیکس دینے کی بجائے ٹیکس بچانے کے طریقے بتا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ ریونیو کا زیادہ تر انحصار ٹیکس وصولیوں پر ہوتا ہے اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل اسٹیٹ بینک کی ایک چشم کشا رپورٹ سامنے آئی تھی کہ پاکستان کے 5کروڑ 75لاکھ ملازمت پیشہ افراد میں سے اکثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ ملک میں 54ہزار کمپنیاں ایسی ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کرتیں یا ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرا رہیں، پاکستان میں سالانہ 6سے 8سو ارب روپیہ اسمگلنگ کے باعث ٹیکس میں شامل نہیں ہوتا، لگ بھگ 7سو ارب روپیہ انڈر انوائسنگ کی نذر ہو کر سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہونے پاتا۔ خود وزیراعظم پاکستان اس بات پر تعجب کا اظہار کر چکے ہیں اور جواب بھی خود ہی دے چکے ہیں کہ پاکستان میں لوگ خیرات زیادہ ادا کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے، وجہ حکومتوں کی چوری ہے، اب یہ چوری روکنا کسی اور کا نہیں خود حکومت کا کام ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ایف بی آر کی وصولی کا ہدف مسلسل ناکامی سے دوچار ہے حکومت کو حاصل ہونے والے ٹیکس میں کمی ہو رہی ہے اس میں وہ لوگ شامل نہیں جو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔ عوام ٹیکس کیوں نہیں دیتے اس سوال کا آسان جواب یہی ہے کہ عوام کو اعتبار ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ انہی پر خرچ ہوگا تو وہ لازمی طور پر ٹیکس ادا کریں گے اور بخوشی بھی۔ پاکستان کس عمیق مالیاتی بحران سے دوچار ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بصد کوشش پاکستان کے مالیاتی بحران کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی معاشرہ غربا کی مدد نہیں کر سکتا تو وہ امیروں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا۔ یہی بات بہت عرصہ قبل سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کی تھی کہ اگر غریبوں پر دھیان نہ دیا گیا تو وہ امیروں کو لوٹیں گے پھر نہ ہم رہیں گے نہ اسمبلیاں، کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عوام اس وقت قابلِ رحم حالت میں ہیں۔ پیٹ بھریں تو ستر پوشی مشکل اور ستر ڈھانپیں تو پیٹ خالی۔ اب یہ اس حکومت اور اس کی معاشی ٹیم کا امتحان ہے اور خاص طور پر مشیر خزانہ کا جو مقتدروں کو ناراض کر کے ٹیکس وصولی کیلئے پرعزم ہیں وہ اس ضمن میں جتنی کامیابیاںحاصل کریں گے وہی حکومت کا حاصل اور ملک وقوم کی خدمت قرار پائے گی۔

متعلقہ خبریں