Daily Mashriq

مون سون کی بروقت تیاری، احسن اقدام

مون سون کی بروقت تیاری، احسن اقدام

پشاور کیضلعی حکومت کی جانب سے مون سون سیزن میں نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے اور صفائی یقینی بنانے کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی کا تین مہینے کی خصوصی صفائی مہم شرو ع کرنے کا فیصلہ بروقت اور شہریوں کی مشکلات کم کرنے کیلئے ضروری اقدام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مون سون کے سیزن میں پشاور میں نکاسی آب اور صفائی کی ابتر صورتحال کی بڑی وجہ اس کی عدم تیاری رہی ہے۔ صفائی نہ ہونے کے باعث نالیاں بھری رہتی ہیں اور اردگرد کا کوڑا کرکٹ تیز بارش کیساتھ ہی مٹی کیساتھ بہہ کر نالیوں کی مزید بندش کا باعث بنتے رہے ہیں جس سے رہی سہی کسر پوری ہو جاتی تھی۔ پلاسٹک کے تھیلوں کے باعث نکاسی آب کا نظام بری طرح متاثر ہونے کا مشاہدہ اور تجربہ عام ہے۔ اس صورتحال کے باعث پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد میں اب کسی مصلحت اور تاخیر کا مظاہرہ مناسب نہیں۔ توجہ طلب امور یہ بھی ہیںکہ مون سون میں شدید بارشوں کے باعث مکانات گرنے اور خاص طور پر سیلابوں کا خطرہ ہر سال درپیش ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی سال سے اس موسم میں دریاؤں اور پہاڑی نالوں میں طغیانی آتی ہے۔ تیز آندھیاں چلتی ہیں جن سے بڑے بڑے ہورڈنگز زمین بوس ہو جاتے ہیں‘ درخت ٹوٹ جاتے ہیں‘ بجلی کی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس موسم میں شدید سیلاب بھی آتے ہیں جن کے باعث دریاؤں کے قریب آباد لوگوں کو منتقل کیا جاتا ہے اور ان کیلئے سایہ‘ خوراک‘ پانی اور دوائیاں کیساتھ ساتھ ان کے مویشیوں کیلئے چارے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی اس قسم کی صورتحال غیر متوقع نہیں۔ بنابریں حکومت اور بلدیاتی اداروں کے ارکان کو ابھی سے پیش بندی کر لینی چاہئے۔ نکاسی آب کیلئے گندے پانی کے گزرگاہوں کی بروقت صفائی یقینی بنائی جانی چاہئے۔ بجلی کی سپلائی لائنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کیلئے بھی اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ محکمۂ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مستقل رابطہ کا انتظام کیا جانا چاہئے تاکہ موسم کی متوقع تباہ کاری اور اس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے وسائل کا اندازہ بروقت لگایا جاسکے۔ صوبائی حکومت کو متعلقہ اداروں کو تیاری کی حالت میں رہنے کی فوری ہدایت کرنی چاہئے تاکہ عین وقت پر ان اداروں کی کارکردگی حسب دستور صفر بن کر سامنے نہ آئے۔ جملہ اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے روئیے میں تبدیلی لائیں اور صورتحال کا بہتر مقابلہ کرنے کیلئے خود کو بروقت تیار رکھیں۔

بروقت انتظامات پر توجہ کی ضرورت

جون کے اس گرم ترین مہینے میں ضلع چترال کے بعض دیہات میں برفباری کی اطلاعات اس وقت تو خوشگوار حیرت کا باعث ضرور ہیں لیکن وہاں کے مکینوں کیلئے یہ خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ اطلاعات کے مطابق اپر چترال میں وادی تریچ کے آخری گاؤں اور تریچ میر کے دامن پر واقع شاگروم میں آٹھ انچ برف پڑنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ اپر چترال ضلع کے دیہات کھوت، ریچ، مڑپ، یارخون ویلی، بروغل اور لاسپوربالا میں بھی5انچ سے لیکر7انچ تک برف پڑی ہے جبکہ لوئر چترال ضلع کے لوٹ کوہ وادی میں بگشٹ اور گبور میں برف باری ہوئی ہے۔ ہمارے تئیں یہ اطلاعات نامکمل اسلئے ہیں کہ وادی بروغل لاسپور اور دیگر بالائی سرحدی دیہات میں بھی برفباری ہوئی ہوگی بہرحال اس سے قطع نظر یہ صورتحال تشویشناک اس لئے ہے کہ اولاً اس موسم میں برفباری فصلوں اور باغات کی تباہی کیساتھ ساتھ مویشیوں کیلئے چارے کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنا ہوگا۔ اس قسم کے سرد موسم میں فصلوں اور پھلوں کا پک جانا بھی یقینی نہیں خوراک اور ایندھن کی صورتحال اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اس ساری صورتحال کے جائزے کے بعد صوبائی حکومت کو موسم گرما کے ان تین مہینوںکے دوران ہی چترال کے بالائی علاقوں کے گوداموں میں اناج کا ذخیرہ کرنے، مویشیوں کیلئے بوقت ضرورت فراہمی کیلئے بھوسے کا سٹاک اور ایندھن کا بھی مناسب بندوبست یقینی بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ علاقے میں خوراک ایندھن اور چارے کی کمی کے مسائل جنم نہ لیں۔ جاری موسمی صورتحال کے تناظر میں نہ صرف بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور راستوں کی قبل ازوقت بندش کے خطرات ہیں بلکہ اسی صورتحال کے اثرات دیگر علاقوں پر بھی پڑسکتے ہیں بہتر ہوگا کہ چترال قبائلی اضلاع کے سرحدی علاقے، شانگلہ اور دیگر سرد مقامات پر حفظ ماتقدم کے تحت حکومت ابھی سے ضروری اشیاء کی ترسیل اور سٹاک رکھنے کا بندوبست کرے تاکہ حکومت اور عوام دونوں ممکنہ اثرات سے متاثر نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں