Daily Mashriq

جناب وزیراعظم! کچھ مطالعہ بھی کر لیجئے

جناب وزیراعظم! کچھ مطالعہ بھی کر لیجئے

جناب عمران خان نے بجٹ پیش کئے جانے کے لگ بھگ ساڑھے سات گھنٹے بعد نصف شب میں ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا۔ وہ دو ہزار گیارہ کے اکتوبر سے جو کہتے چلے آرہے ہیں اس خطاب نصف شب میں اس کے علاوہ انہوں نے جو کہا اس پر تنازعات کھڑے ہوگئے ہیں۔ خان صاحب انٹرنیشنل سطح کے کرکٹر رہے ہیں‘ کمنٹری سے جی بہلانے کیساتھ انہوں نے منہ مانگا حق خدمت لیا۔ یہ ان کا حق تھا اور کرکٹ پر ان کی معلومات یقینا مجھ اور آپ سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہوں گی۔ تاریخ‘ مسلم تاریخ ہو یا متحدہ ہندوستان اور پھر بٹوارے کے بعد کی تاریخ اس حوالے سے ان کا مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کتابیں وہ شوق سے کبھی بھی نہیں پڑھتے تھے۔ ایک زمانہ میں خلیفہ ہارون الرشید ان کے اتالیق بنے، انہیں تاریخ وسیاست سمجھاتے تھے۔ مگر وہ پرانے پاکستان ان برسوں کی بات ہے جب وہ ابھی لیڈر نہیں بنے تھے۔ بجٹ والی شام کے بعد ڈھلتی نصف شب کے لمحوں میں انہوں نے جو خطاب کیا اس کیلئے اولین اعلان یہ تھا کہ خطاب سوا نو بجے نشر ہوگا، پھر وقت آگے بڑھتا گیا۔ فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ اس خطاب کے مندرجات چچا غفور کے معاونین کی طرف سے نوک پلک سنوارنے کے بعد بھجوائے گئے مگر اپنی فہم سے انہوں نے پھر بھی چند باتیں کہہ ڈالیں۔ اولاً تو وہی کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، اللہ نے کرم کیا ہے جن چوروں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا ہمارے دور میں وہ جیلوں میں ہیں۔ آصف زرداری‘ نواز شریف اور لندن میں الطاف حسین کی گرفتاری کو انہوں نے اللہ کا کرم قرار دیا۔ الطاف حسین 24گھنٹے بعد ضمانت پر رہا ہو گئے۔ لندن پولیس کے مطابق چالان کیلئے ابھی مستند مواد موجود نہیں۔ نواز شریف جیل میں ہیں اور زرداری صاحب بھی۔ اچھا یہ دونوں بھی پہلی بار جیل یاترا پر نہیں گئے‘ آصف زرداری پہلی بار اگست 1990ء میں اس وقت گرفتار ہوئے جب صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت اور اسمبلیوں کو رخصت کرکے نئے انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ اسحاق نواز تنازعہ‘ نون لیگ کی حکومت کے خاتمہ کا باعث بنا۔ صدر اسحاق نے میر بلخ شیر مزاری کی سربراہی میں نگران حکومت بنوائی، اس نگران حکومت میں آصف زرداری وفاقی وزیر ماحولیات تھے‘ حلف بھی صدر اسحاق نے لیا جنہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کرتے وقت قوم سے خطاب میں کرپشن کہانیاں سنائی تھیں۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت بحال کر دی۔بعدازاں کاکڑ فارمولہ کے تحت صدر اسحاق اور شریف حکومت دونوں رخصت ہوگئے۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی، اسے 1997ء میں اس کے اپنے صدر سردار فاروق لغاری نے برطرف کیا۔ الزام کرپشن کا تھا مگر سازش مری میں تیار ہوئی، اس سازش کا ایک کردار محترمہ سیدہ عابدہ حسین نہ صرف حیات ہیں بلکہ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں پوری داستان لکھی ہے۔ بینظیر حکومت کے خاتمہ پر زرداری صاحب لاہور کے گورنر ہاؤس سے گرفتار کئے گئے جہاں وہ گورنر کے مہمان کے طور پر مقیم تھے۔ احتساب سیل والے حسن وسیم افضل نے ہم اخبار نویسوں کو زرداری کے بیڈ روم سے سونا‘ ڈالر اور دوسری کرنسیوں کے صندوق برآمد ہونے کی اطلاع پریس بریفنگ میں دی۔ ان سے پوچھا گیا سونا، ڈالر اور دوسری کرنسیوں سے بھرے7عدد صندوق کیا گورنر ہاؤس کے اس کمرے سے برآمد ہوئے جس میں آصف زرداری مقیم تھے؟ انہوں نے رعونت بھرے انداز میں کہا۔ ’’جی وہ اس بیڈ کے نیچے سے برآمد ہوئے جس پر آصف زرداری سوتے تھے‘‘۔ مجموعی طور پر برآمد ہوا خزانہ 70کروڑ ڈالر مالیت کا تھا۔ یہ سونا، رقم اور دیگر اشیاء کہاں گئے آج تک کوئی نہیں جان پایا۔ انتخابات کے بعد نواز شریف اقتدار میں آئے، پانچ مقدمات ان کے دور میں قائم ہوئے، پھر دو مقدمات میں زرداری کو ملوث کیا۔ ایک مقدمہ نظام الدین کے قتل کا تھا اور دوسرا منشیات کی سمگلنگ کا‘ اس دوسرے مقدمہ میں رحیم یار خان جیل میں بند ایک سمگلر عارف بلوچ کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی بہت کوششیں ہوئیں، اسے خصوصی طیارے پر رحیم یار خان سے لاہور لا کر جناب نواز شریف وشہباز شریف کے دربار میں پیش کیا گیا‘ حامی بھرنے کے باوجود عدالتی عمل کے دوران عارف بلوچ نے جو بیان دیا اس نے شریف حکومت کے چہرے پر سیاہی مل دی۔ اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھی جرنیلوں نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اقتدار پرویز مشرف نے چیف ایگزیکٹو کے طور پر سنبھال لیا‘ دسمبر2000ء تک شریف خاندان کے مرد جیلوں میں رہے، پھر ایک دس سالہ معاہدہ جلاوطنی کے تحت شریف خاندان سعودی عرب چلا گیا۔ حمزہ شہباز ملک میں رہے اور خاندانی کاروبار کی دیکھ بھال کرتے رہے۔نصف شب کی تقریر کرتے وقت وزیراعظم ان تفصیلات سے لاعلم تھے یا ان کا ذکر ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ انہوں نے مسلم تاریخ کے حوالے سے جنگ بدر اور جنگ احد کے واقعات کا جس انداز میں ذکر کیا وہ درست نہیں۔ الفاظ کاچناؤ مناسب نہیں تھا اور تاریخ سے لاعلمی بھی عیاں تھی۔ کس نے مشورہ دیا؟ یقینا کسی نے نہیں انہیں خود شوق ہے ایک تاریخ دان کے طور پر گفتگو کا، خطاب کے اس حصے پر ہنگامہ برپا ہے۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی جیسی سیکولر جماعتوں کے دوست مذہبی کارڈ کھیل رہے ہیں یہ مزید نامناسب بات ہے۔تاریخ وسیاسیات اور صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے وزیراعظم کی خدمت میں مؤدبانہ درخواست ہے۔ حضور براہ کرم ہر فن مولانا بننے کی کوششیں ترک کر دیجئے۔ تاریخ آپ کا میدان نہیں، مذہبی معاملات پر علم بھی واجبی ہے۔ سیاست‘ اوئے تجھے چھوڑوں گا نہیں پر استوار ہے اس لئے قوم سے خطاب کرتے وقت اتنی ہی بات کیا کیجئے جتنی جانتے ہو۔ ویسے بھی جو جس کا کام ہے اسے ہی ساجھے ہے یا پھر کچھ مطالعہ کر لیجئے۔

متعلقہ خبریں