Daily Mashriq

نواب شاہ کا صدر لاہور کا وزیراعظم

نواب شاہ کا صدر لاہور کا وزیراعظم

آصف زرداری اور میاں نواز شریف دونوں کی اسیری سے اس لحاظ سے بینظیر بھٹو شہید کی روح مطمئن اور آسودہ ہوگی کہ آج پاکستان کی سیاست کا ایک گہرا تضاد دور ہوگیا۔ وہ تضاد جس کی نشاندہی کیساتھ ان کے برسوں پرانے زخم تازہ ہونے لگتے۔ ان زخموں کا تعلق بینظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے ہوتا تھا۔ بینظیر بھٹو کا موقف تھا کہ ان کے والد عدالتی قتل کا شکار ہوئے اگر ان کا تعلق سندھ کی بجائے بڑے صوبے سے ہوتا شاید قانون اپنا منہ موڑ کر اور مونچھ نیچی کرکے گزر جانے میں دیر نہ لگاتا۔ وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے میاں نوازشریف بھٹوز کے مقابلے میں بہ اہتمام اتارے گئے تو قدم قدم پر بینظیر بھٹو کو سسٹم، ریاست اور اداروں کے دہرے روئیے مزید دکھ دیتے۔ بالخصوص میاں نوازشریف کی حکومت کی عدالت کے ذریعے بحالی اور جسٹس نسیم حسن شاہ فیصلے سے ان کے ضبط کا بندھ ٹوٹ گیا اور انہوں نے لاڑکانہ کے وزیراعظم کیلئے ایک معیار اور لاہور کے وزیراعظم کیلئے دوسرے معیار کو جم کر ہدف تنقید بنایا۔ وہ میثاق جمہوریت تک لاڑکانہ کے وزیراعظم اور لاہور کے وزیراعظم کے حوالے سے پائے جانے والے دوہرے رویوں اور متضاد فیصلوں پر تنقید کرتی رہیں۔ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے بھٹوز کی لگیسی کی نمائندہ اور ترجمان بینظیر بھٹو مدت ہوئی آسودۂ خاک ہیں اور اس لگیسی کو ان کے شریک حیات نواب شاہ کے آصف زرداری آگے بڑھا رہے ہیں۔ لاہور کے وزیراعظم میاں نوازشریف تین بار وزیراعظم بننے کے باجود آج جیل میں ہیں اور آخرکار بینظیر بھٹو کی لگیسی کے وارث سابق صدر آصف زرداری بھی جیل پہنچ گئے۔ یوں بندہ وصاحب ایک ہوگئے اور نواب شاہ کا صدر اور لاہور کا وزیراعظم دونوں قید ی قرار پائے۔ اس طرح پاکستانی سیاست کا ایک گہرا تضاد دور ہوگیا۔ آصف زرداری اور میاں نوازشریف نوے کی دہائی کی متحارب سیاسی قوتوں کے نمائندہ اور علامتیں ہیں۔ دونوں جماعتیں مختلف اوقات میں مختلف دورانیوں کیلئے اقتدار میں رہ چکی ہیں اور نوے کی دہائی دونوں جماعتوں نے لڑتے بھڑتے گزارنے کے بعد دوہزار کی دہائی میں لڑائی ختم کرکے صلح اور آشتی کی راہ پر آنے کا باقاعدہ معاہدہ کیا جسے میثاق جمہوریت کہا جا تا ہے۔ دونوں جماعتوں کی قیادتیں عملی طور پر اگلی نسل کو منتقل ہو چکی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی باگیں بلاول بھٹو زرداری سنبھال چکے ہیں تو مسلم لیگ ن کی قیادت عملی طور پر مریم نوازکے ہاتھ آچکی ہے۔کچھ عرصے قبل آصف زرداری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’نیب کی کیا مجال، کیا حیثیت کہ مجھے گرفتار کرے‘‘ ایک اور مقام پر انہوں نے خود کو پیش آمدہ حالات پر ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ کا تبصرہ کیا تھا جو ان کی خوداعتمادی کا مظہر تھا۔ ضمانت منسوخی کے بعد نیب نے انہیں اسلام آباد کے زرداری ہاؤس سے گرفتار کر لیا ۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے اس گرفتاری کی مذمت کی ہے اور ملک میں کئی شہروں میں اس گرفتاری کیخلاف محدود پیمانے پر احتجاج بھی ہوا ہے۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد حمزہ شہباز بھی نیب کے مہمان بن گئے۔ یہ دونوں گرفتاریاں ایسے وقت میں ہوئیں جب اپوزیشن کی جماعتیں ایک آل پارٹیز کانفرنس بلانے کیلئے مشاورت کررہی ہیں جس کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز دونوں حکومت پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمان اس تلخی کو مزاحمت کا رنگ دینے کے خواب بُن رہے ہیں۔ آصف زرداری کی گرفتاری مشتعل اپوزیشن کو مزید بھڑکانے کا باعث بن سکتی ہے مگراپوزیشن کے بھڑک اُٹھنے اور شور وغل مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ کسی بھی احتجاجی تحریک کی کامیابی کیلئے عوام کا متحرک ہونا لازمی تقاضا ہوتا ہے۔ اپنے کارکنوں سے خوئے مزاحمت آصف زرداری نے خود ہی بہت محنت سے چھینی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں میں مزاحمت کے جراثیم نکال کر انہیں مفاہمت کا ایسا انجکشن لگایا کہ کارکن اب سڑکوں اور گلیوں کا رخ کرنے سے خوفزدہ اور گریزاں دکھائی دیتا ہے۔ لے دیکر مزاحمت کا سارا بوجھ مولانا فضل الرحمان کے کندھوں پر پڑ سکتا ہے جن کی قوت کا راز مدرسوں کے طالب علم ہیں۔ مولانا نے میثاق جمہوریت کے بغیر مفاہمت اور ڈیل کا جو اسلوب سیاست میں متعارف کرایا ہے اس میں ان کے پیروکاروں میں جہادی خُوبُو باقی نہیں رہی۔ پھر حالات نے سیاسی کارکن کو کائیاں اور چالاک بنا دیا ہے۔ فوجی حکومتوں بالخصوص جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے مزدوروں اور طلبہ کی انجمن سازی سمیت بہت سے فیصلوں سے معاشرے کو ڈی پولیٹسائز کرنے کا جو عمل شروع کیا تھا سیاسی جماعتوں نے اس کو فروغ دیا۔ روپے پیسے کی ریل پیل نے سیاسی کارکنوں کو نظریات سے دور اور بیگانہ کر دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ نظرئیے کی طاقت اور کشش ہوتی تھی جو کسی سیاسی کارکن کو لاٹھی کھانے، جیل جانے حتیٰ کہ جان دینے پر آمادہ کرتی تھی۔ اب قیادت اگر پیسہ بنانے کی مشین بن جائے تو کارکن میں جہد مسلسل اور مزاحمت کا جذبہ کیونکر پیدا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی مزاحمتی سیاست کیساتھ یہی واردات ہو چکی ہے۔ ان حالات میں آصف زرداری کی گرفتاری کسی بڑے سیاسی طوفان کی بنیاد ثابت نہیں ہو سکتی البتہ ملک کا منظر اور نظام کے بدلتے ہوئے انداز بتا رہے ہیں کہ جس بے رحم احتساب کی آہٹ مدتوں سے سنائی دے رہی تھی وہ ہماری قومی دہلیز پار کر چکا ہے۔

متعلقہ خبریں