Daily Mashriq

’’ہاتھی‘‘ پہاڑ کے نیچے، مگر۔۔؟

’’ہاتھی‘‘ پہاڑ کے نیچے، مگر۔۔؟

جو لوگ الطاف حسین کی گرفتاری پر گزشتہ روز بغلیں بجا بجا کر اسے ’’کارنامہ‘‘ قرار دے رہے تھے ان کی ساری ہیکڑی آج نکل گئی جب موصوف کو ضمانت پر رہا کر کے یہ ریمارکس دیئے گئے کہ ثبوت تحقیقات کیلئے ناکافی ہیں، البتہ اگلے چھ ماہ تک یہ تحقیقات جاری رہ سکتی ہیں اور انہیں دوبارہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے، پولیس نے ان سے مختلف سوالات کئے مگر انہوں نے اپنا نام، پیدائش اور رہائش کے علاوہ کسی اور بات کا جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور غالباً اپنے وکیلوں کی ہدایت پر جو دوران تفتیش ان کیساتھ موجود تھے، بقول شاعر لندن پولیس کو بتایا کہ

خموشی گفتگوہے بے زبانی ہے زباں میری

گویا موصوف نے برطانوی قوانین کے مطابق برطانوی پولیس کو کہہ دیا ہے،کرلو جو کرنا ہے، حالانکہ پولیس نے انہیں مزید بارہ گھنٹے زیر حراست رکھنے کی درخواست دیدی ہے لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا، بلکہ ممکن ہے کہ الطاف حسین اس پر خوش بھی ہوں اس لئے کہ دوران حراست انہیں ہر طرح کی سہولیات بھی حاصل رہیں گی اور جب ایک شخص برطانوی پولیس کیلئے’’وی وی آئی پی‘‘ ہو، اسے بھلا کیا غم، ہر طرح کے ’’خورد ونوش‘‘کی ذمہ داری سرکاری طور پر حاصل رہنے کی یہ عیاشی مغربی ممالک کے قوانین کا خاصا ہے اور ماضی میں مختلف ممالک کے جیلوں میں ملنے والی ’’عیاشانہ سہولیات‘‘ کی وجہ سے ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض قیدیوں نے رہا ہونے سے ہی انکار کر دیا کہ مفت میں حاصل آسانیاں کیوں چھوڑی جائیں اور باہر نکل کر ایک بار پھر دنیا کے بکھیڑوں میں پڑا جائے اور جہاں تک الطاف بھائی کا تعلق ہے تو اس سے پہلے ان کیخلاف منی لانڈرنگ کے مضبوط دستاویزی ثبوتوں کے باوجود انہیں نہ صرف رہا کرنا پڑا بلکہ ان پر لگائے جانے والے الزامات کو بھی بلیک بورڈ پر کپڑا پھیر کر یوں مٹا دیا گیا کہ وہ نہائے دھوئے گھوڑے کی مانند صاف بچ نکلے کیونکہ اگر ان پر الزامات ثابت ہو جاتے تو پھر نہ صرف اس کے ڈانڈے بھارتی خفیہ ایجسنی را بلکہ برطانوی ادارے ایم آئی6 تک جا پہنچتے اور اپنے کسی ’’مبینہ‘‘ ایجنٹ کو یہ ایجنسیاں کسی جال میں پھنسنے نہیں دیتیں۔ اس لئے اگر اتنے اہم ثبوتوں کے باوجود منی لانڈرنگ جیسے خطرناک مقدمے سے ان کا کچھ نہیں بگڑا تو ان کے مبینہ دھمکی آمیز بیانات پر یہ کہہ دینا کہ ثبوت ناکافی ہیں اور تفتیش جاری رہے گی کے الفاظ تو کسی قطار شمار ہی میں نہیں آتے بلکہ یہاں تو برطانوی پولیس اور برطانوی قوانین کو ’’ناکافی ثبوتوں‘‘ کے بیانئے کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ

عشق وحسن سب فانی، پھر غرور کیا معنی

کس شمار میں تم ہو، کس قطار میں ہم ہیں

تاہم سوال یہ ہے کہ جب ثبوت ناکافی تھے تو بھائی صاحب پر ہاتھ ہی کیوں ڈالا گیا؟ اس کا بظاہر جواب تو بس یہی بنتا ہے کہ جن لوگوں نے ثبوت فراہم کئے انہیں بقول کسے ’’کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں‘‘ کی کیفیت سے دوچار کرنے کا بہانہ تو درکار تھا نا، اور حسب سابق برطانوی پولیس نے ایک بار پھر الطاف حسین کو گرفتار کرنے کے بعد دبی زبان میں سمجھا دیا ہے کہ

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

اس لئے ممکن ہے اب واپس گھر پہنچنے کے بعد الطاف حسین ایک بار پھر ’’نئی ترنگ‘‘ میں ایک اور ویڈیو ریکارڈ کروا کے سوشل میڈیا پر ڈال دیں اور وہ مختلف ایپس کے ذریعے وائرل ہو جائے جیسا کہ وہ ایک پاکستانی عدالت کے احکامات کے تحت اپنی زبان بندی کے بعد اسی وسیلے سے اپنے دل کا غبار نکالتے ہوئے کبھی کسی اور کبھی کسی کو دھمکی آمیز زبان میں پیغامات بھیجتے رہتے ہیں کہ ان کے مختلف سیاسی رہنماؤں اور بعض دوسرے لوگوں کو دی گئی تنبیہہ سوشل میڈیا پر یوٹیوب، فیس بک وغیرہ پر موجود ہیں تو اب جن حلقوں نے موصوف کیخلاف ثبوت برطانوی پولیس کو فراہم کر کے بزعم خویش یہ سوچ لیا تھا کہ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے، تو مسئلہ یہاں کچھ اور تھا یعنی یہاں محاورے والا اونٹ نہیں تھا بلکہ کوئی ’’ہاتھی‘‘ تھا جو سفید بھی نہیں ہے بلکہ ’’سیاہ‘‘ ہے جس کی نسل ’’کم‘‘ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ اہمیت ہے اس لئے جن کی وہ ’’ملکیت‘‘ ہے وہ اسے کسی خطرے سے دوچار ہونے کا خطرہ کسی بھی طور مول لینے کو تیار نہیں ہو سکتے، اگرچہ اس ہاتھی نے ’’ہاتھی پھرے گاؤں گاؤں، جس کا ہاتھی اس کا ناؤں‘‘ کے مصداق را کی دعوت پر چند برس پہلے بھارت کے دورے کے دوران اس ملک اور اس کے اساسی نظریئے کا جو حشر نشر یہ کرتے ہوئے کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان بنانے کا جرم ہمارے بزرگوں سے سرزد ہوا تھا، اس کو اگرچہ بھارتی میڈیا نے اپنے پروپیگنڈے کیلئے استعمال کر کے خوب اودھم مچا دیا تھا مگر اس سے را کے مکروہ چہرے سے نقاب جس طرح سرک گیا تھا اس کے بعد نہ صرف را، بلکہ ایم آئی6 بھی خاصے ہوشیار ہوگئے تھے، یہاں تک کہ درپردہ سی آئی اے بھی اپنے مقاصد کیلئے بھائی کو استعمال کرتی رہتی ہے لیکن اس سارے معاملے میں وہ اس ’’ہاتھی‘‘ کی قربانی دینے کو یہ کہہ کر تیار نہیں ہو سکتی کہ زندہ ہاتھی ایک لاکھ کا اور مرے تو سوا لاکھ کا ہو جاتا ہے کیونکہ ان ایجنسیوں کے منصوبوں میں اس ہاتھی کی مستقبل میں پھر ضرورت پڑ سکتی ہے۔ سو بھائی کا برطانوی پولیس کے پاس آنا جانا لگا رہے گا اور جو لوگ ثبوت فراہم کر کے خوش ہو رہے ہیں وہ اسی طرح ’’ورنہ‘‘ پر لگے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں