Daily Mashriq

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

کوئی مائی کا لعل کسی کو گرفتار نہیں کرتا، ہم خود اپنے آپ کو گرفتار کرواتے ہیں اور یوں گرفتاریوں کا نہ ختم ہونے والا سیزن اُتر آتا ہے۔ کوئے یار میں جو پہنچا دیتا ہے گرفتار بلا کو اجڑے دیار میں اور یوں بہادر شاہ ظفر جیسا مغلیہ سلطنت کا چشم وچراغ تک پکار پکار کر کہہ اٹھتا ہے کہ

لگتا نہیں ہے دل میرا اُجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

اگر ہم کو معلوم ہے کہ انگارے پھانکنے سے ہمارے ہاتھ یا منہ جل جائے گا۔ بھسم کردے گی ہماری یہ حرکت ہمارے وجود کو تو ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جلی ہوئی روٹی کھانے سے ہمارے پیٹ میں درد اُٹھ سکتا ہے۔ ہم نے بچپن کے زمانے میں اپنی درسی کتابوں میں ایسی ہی اک کہانی پڑھی تھی جس میں معالج مریض کے پیٹ کا علاج کرنے کی بجائے اس کی آنکھوں کیلئے سرمہ تجویز کرتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ اس کہانی کے بھولے باچھا نے اپنے معالج سے پوچھا تھا کہ درد میرے پیٹ میں ہے لیکن آپ میری آنکھوں کا علاج کیوں کر رہے ہیں۔ جس کے جواب میں معالج نے کہا تھا کہ یہ نقص تمہارے پیٹ کا نہیں تمہاری آنکھوں کا ہے۔ اگر تمہاری بینائی ٹھیک ہوتی تو تمہیں روٹی کھاتے وقت جلی ہوئی روٹی نظر آجاتی اور تم اسے کھانا تو دور کی بات ہے تم اس کو ہاتھ بھی نہ لگاتے، سو اس کا مطلب یہ ہوا سارا فساد یا نقص تمہاری آنکھوں یا اس کی بینائی کا تھا جس کے سبب تم گرفتار بلا ہوئے، تم نے قانون قدرت کی خلاف ورزی کی جس کی سزا تمہیں بھگتنی پڑی۔ قانون قاعدے یا اصول وضوابط کی خلاف ورزی کرنا اور اس کی پاداش میں ملزم کو مجرم ثابت کرکے سزاوار ٹھہرانا صرف عدلیہ یا مقننہ کے دائرۂ اختیار میں نہیں، زندگی کے ہر شعبہ میں اگر آپ ایک مقررہ حد سے تجاوز کریں گے تو آپ کا جرم ثابت ہو نہ ہو آپ کو سزا بھگتنی پڑے گی۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں اس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ اگر آپ ظلم یا زیادتی کریں گے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں گے یا زندگی گزارنے کے لگے بندھے اصولوں کی خلاف ورزی کریں گے تو اسے قانون قدرت کی خلاف ورزی سمجھ کر آپ کو عدالت خداوندی میں قابل تعزیر قرار دیکر گرفتار کر لیا جائے گا۔ اللہ نہ کرے، آپ اس شکنجے میں جکڑے جائیں جو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہ ہونے کے مصداق نہ نظر آتا ہے اور نہ سنائی دیتا ہے اور جب کوئی ایسے شکنجے میں پھنستا ہے تو تڑپ تڑپ کر پکار اُٹھتا ہے کہ

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

ہم زندگی کے کسی بھی موڑ پر جب گرفتار بلا ہوتے ہیں، ہم پر جب اُفتاد پڑتی ہے تو اپنے گناہ یا قصور سے صرف نظر کرتے ہوئے کاتب تقدیر کو موردالزام ٹھہرانے لگتے ہیں اور اس بات کو یکسر بھول جاتے ہیں کہ

ہیں ہاتھ کی لکیریں مٹھی میں تیری بند

مشکل نہیں ہے ہرگز تقدیر کو ہرانا

جو لوگ قانون قدرت کی گرفت یا اس کے شکنجے سے بچنا چاہتے ہیں ان کو علم ہونا چاہئے کہ اگر وہ چاہیں تو دریاؤں کے پانی کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ ستاروں پر کمندیں ڈال سکتے ہیں، رات کو دن میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہم وہ سب کچھ نہیں کرپاتے جس کے کرنے کا ہمیں اختیار دیا گیا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ہمیں ہر روز 24اشرفیوں کا گرانقدر تحفہ ملتا ہے۔اگرشومئی قسمت سے 24 اشرفیوں کا یہ تحفہ ہم سے ضائع ہوجاتا ہے تو قدرت ہمیں ’’گزشتہ را صلواۃ آئندہ راہ احتیاط‘‘ کے مصداق ایک اور موقع دیتے ہوئے کہتی ہے کہ کوئی بات نہیں، رات گئی بات گئی، یہ لو نئی صبح کا نیا تحفہ، مزید چوبیس اشرفیاں، انہیں قدرے احتیاط سے خرچ کرنا۔ گویا اگلے شب وروز کیلئے ہماری قسمت اور اس کا اختیار ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا ہے اور ہم میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو خاطر میں ہی نہیں لاتے اس متاع گرانقدر کو جو ہر صبح ہمیں ودیعت ہوتی ہے معلوم نہیں کہاں ہوتا ہے ان کے اندر کی عدالت کا وہ جج جسے عرف عام میں ضمیر کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن بہت ظالم ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنے اندر کے جج کو اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر اس کو قتل کرنے کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، کلام مجید فرقان حمید کی آیتوں میں ایسے لوگوں کو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرایا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود جس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی یا جو گناہ درگناہ یا جرم درجرم کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے اور کلام مجید میں ان کے متعلق دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ اندھے ہیں، گونگے ہیں، بہرے ہیں یہ لوگ اور دردناک عذاب ہے ایسے لوگوں کیلئے، ہم بڑھتی مہنگائی کا رونا تو روتے ہیں لیکن مہنگائی ختم کرنے کی اجتماعی کوشش نہیں کرتے ہر قیمت پر اشیائے صرف خریدتے ہیں، ذخیرہ اندوزی سے باز نہیں آتے، رشوت خوری، چور بازاری، الزام تراشی، دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ مارنا اور لوٹ کھسوٹ جیسے بہت سے جرائم کو جز وزیست بنا کر اپنے کھیتوں کی ہر ڈالی پر اذیت کاشت کرتے رہتے ہیں اور یوں اپنے گریباں میں جھانکنے کی بجائے سارے شہر کی بند قباء کی جانب انگلی اٹھا کر بلک بلک کر روتے ہوئے کہتے رہتے ہیں

تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں

کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے

متعلقہ خبریں