Daily Mashriq


پاکستان افغان مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے، امریکا

پاکستان افغان مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے، امریکا

امریکا نے پاکستان کو افغانستان میں امن معاہدے کی حمایت جاری رکھنے اور دہشت گردوں کی مبینہ ’ناقابل قبول مدد‘ کا سلسلہ ختم کرنے پر ایک مرتبہ پھر زور دے دیا۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اور امریکی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ایلس ویلز نے زور دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں، ہم دفاعی تعاون کو نئے مدراج پر لے جا چکے ہیں۔

سیکریٹری مائیک پومپیو نے واشنگٹن میں انڈین امریکن باشندوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکا نے خطے میں دہشت گردوں کے لیے پاکستان کی ناقابل قبول مدد کے خلاف سخت موقف اختیار کیا‘۔

امریکی قائم مقام اسسٹنٹ سیکریٹری خارجہ ایلس جی ویلز نے کہا کہ ’ہماری ساری ترجیح پاکستان کی جانب سے افغان امن معاہدے میں تعاون پر مرکوز رہی اور خطے میں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ناقابل تنسیخ کارروائی کرے‘۔

مائیک پومپیو نے اسلام آباد اور بیجنگ کے مابین معاہدوں پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ اپنی سرحدوں کے پاس ممالک کے مقابلے میں سمندر پار چین اور پاکستان جیسے ممالک سے روابط رکھنا قدرے مختلف ہے۔

سیکریٹری خارجہ ایلس جی ویلز نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ پیچیدہ اور سلسلہ وار ہیں اور اسلام آباد کے ساتھ جوہری مواد کے عدم پھیلاؤ سے متعلق امور میں روابط انتہائی اہم ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک پاکستان اور امریکا جوہری ہتھیاروں کی عدم پھیلاؤ کی روک تھام کو اعلیٰ درجے کی اہمیت دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی بعض کیٹیگری اور نظام ترسیل پر تحفظات ہیں۔

انہوں نے افغان مفاہمتی عمل سے متعلق کہا کہ ’ہم پاکستان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں ، انہوں نے طالبان کو امن معاہدوں میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے ہمیں اس ضمن میں مثبت کامیابی ملی ہے‘۔

سیکریٹری خارجہ ایلس جی ویلز نے کہا کہ ’لیکن افغان مفاہمتی عمل میں ہمارے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے تاحال بہت کچھ ہونا باقی ہے جس میں پر امن افغانستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنا شامل ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی قیادت پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرحد پر متحرک دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لا کر اپنا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ پر امن افغانستان کی وجہ سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہی ہوگا، اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ اسلام آباد افغان مفاہمتی عمل میں مثبت کردار ادا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ دہشت گرد حملے کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی، اس لیے ضروری ہے کہ سرحدوں پر غیر ریاستی عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ایلس جی ویلز نے خبردار کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں مثلاً لشکر طیبہ اور جیش محمد تاحال عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اور پاکستان میں آزادانہ طور پر فعال ہیں۔

مائیک پومپیو نے واضح کیا کہ بجٹ 2020 میں ’پاکستان کی فوج کے لیے سیکیورٹی تعاون فنڈ شامل نہیں ہے‘۔

خیال رہے کہ مائیک پومپیو کی جانب سے رواں ماہ بھارت، سری لنکا، جاپان اور جنوبی کوریا کا دورہ متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں کو اجازت دی کہ وہ بھارت کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرسکتی ہیں جس میں جنگی ساز و سامان مثلاً یو اے وی اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے مائیک پومپیو نے کہا کہ "ہم نے بھارت کو 'پرائیوٹ کیپیٹل' ریاست کے طور پر ابھرنے کے لیے ایشیا ایج پروگرام شروع کردیا جس کے تحت بھارت اپنی توانائی سیکیورٹی اور بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے گا۔"

متعلقہ خبریں