Daily Mashriq

تقریبات میں جھلملاتی روشنیاں صحت کے لیے خطرناک  

تقریبات میں جھلملاتی روشنیاں صحت کے لیے خطرناک  

پارٹی ہو یا شادی کی تقریب، رنگ برنگی جھلملاتی روشنیاں اس تقریب کی سجاوٹ کا حصہ ہوتی ہیں جس سے تقریب کو چار چاند لگانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ روشنیاں صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ رنگ برنگی جھلملاتی تیز روشنیاں وقتی طور پر تو اچھی لگ سکتی ہیں لیکن ان کا نتیجہ مرگی کے جھٹکوں کی صورت میں نکل سکتا ہے اور جن میں مرگی کے اثرات نمودار نہیں ہوں گے وہ بھی ان روشنیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والی اس ٹیم کے لیے تحقیق کی وجہ 20 سالہ لڑکا بنا۔ یہ لڑکا ایک فیسٹیول میں گرپڑا اور اسے جھٹکے لگنا شروع ہوگئے حالانکہ یہ لڑکا مرگی کا شکار نہیں تھا۔

ایپی لیپسی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ فیسٹیولز اور دیگر تقریبات کو اپنے لائٹنگ تجویز کردہ حد تک ہی رکھنی چاہیے۔ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو کی تجویز کردہ حد 4 ہرٹز ہے یعنی ایک سیکنڈ میں چار دفعہ جھلملاہٹ۔

ایپی لیپسی (مرگی) کی بیماری میں دماغ متاثر ہوتا ہے، اس کی کئی اقسام ہیں اور یہ کسی بھی عمر میں لاحق ہوسکتی ہے۔ایپی لیپسی یعنی مرگی کے شکار 3 فی صد لوگ روشنی سے حساس ہوتے ہیں، مطلب کہ ان کے جھٹکے جھلملاتی روشنیوں سے شروع ہو جاتے ہیں۔

اس تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم نے فیسٹیولز کا انتخاب اپنے پراجیکٹ کے لیے کیا کیونکہ وہاں ایسی روشنیوں سے جوش اور ولولے کو بڑھانے کا کام لیا جاتا ہے۔

2015 میں انہوں نے پورے نیدر لینڈ سے طبی امداد حاصل کرنے والوں کے ڈیٹا کو چیک کیا، اس میں 28 دن اور رات میں ہونے والے ڈانس میوزک فیسٹیولز میں جانے والے 4 لاکھ لوگ شامل تھے، رات میں فیسٹیول میں شرکت کرنے والے 30 لوگوں جب کہ دن میں ایسی تقریبات میں جانے والے 9 لوگوں کو جھٹکوں کے بعد طبی امداد کی ضرورت محسوس ہوئی۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یقیناً یہ روشنیاں ان جھٹکوں کی واحد وجہ نہیں ہوں گی، نیند کی کمی، تیز موسیقی اور کسی قسم کی منشیات بھی اس کی وجہ بن سکتی ہیں۔

تحیقیقاتی ٹیم کے رکن نے برطانوی ادارے کو دیے جانے والے اپنے انٹر ویو میں بتایا کہ مرگی کے بغیر لوگوں پر ان جھلملاتی روشنیوں کا اتنا اثر نہیں ہوتا تاہم ایسے بہت سے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جنہیں معلوم ہی نہ ہو کہ انہیں مرگی ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریبات میں جانا اور ایسی تقریبات کا انعقاد غلط نہیں ہے، بس ہونا یہ چاہیے کہ اس میں سب کا خیال رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں