Daily Mashriq


سیاست میں کچھ بھی نا ممکن نہیں

سیاست میں کچھ بھی نا ممکن نہیں

سینیٹ کے انتخابات کے دوران جو سیاسی جوڑ توڑ ہوئی اور حالیہ کچھ عرصے میں سیاست کا رخ جس طرح تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا تھا سینیٹ کے انتخابی نتائج نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی کی پیاری جماعتیں اب مخالف اور ماضی وماضی قریب کے مخالفین سجدہ سہو کر چکے ہیں۔ پانامہ اور بدعنوانی وکرپشن اور توہین عدالت پر مبنی فضا میں نہ صرف سیاسی بیانیہ تبدیل ہوگیا ہے بلکہ ادھر کی اُدھر اور اُدھر کی ادھر کی صورت میں تبدیلی نمودار کردی ہے۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت ابتدائیہ تھی جس کی تکمیل سینیٹ کے انتخابات کے نتائج میں سامنے آنے سے ہو چکی ہے اس ساری صورتحال نے ملکی سیاست وماحول میں ملک میں دو ایسی قوتوں کا تاثر اُبھارا ہے جن میں سے پہلے دریا کے اس پار ہے اور دوسرے دریا کے اس پار، جس کے آئندہ عام انتخابات پر اثرانداز ہونا فطری امر ہوگا۔ دیکھا جائے تو جو اب بالادست ہیں اور جن کی بالادستی کو چیلنج مشکل دکھائی دیتا ہے وہ سیاسی اور عوامی پلیٹ فارم پر ہاتھ پیر مارنے کے باوجود مشکلات سے دوچار ہوں گے اور مخالفین کا بیانیہ مضبوط ہوگا۔ جہاں تک حکمران جماعت کی سینیٹ انتخابات میں ناکامی کا تعلق ہے تو جن پتوں پر ان کا تکیہ تھا انہوں نے ہوا اور دغا دی ہے یا پھر اپنے پرایوں سے مل گئے اور تبدیلی باہر سے نہیں اندر سے آئی ہے۔ اس بارے فی الوقت درست اندازہ مشکل ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو شبہ ہے کہ ان کی پارٹی کے2سینیٹرز سمیت تقریباً 7سینیٹرز نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں دھوکا دیا۔ حکمران جماعت کے اُمیدوار راجا ظفرالحق نے سینیٹ چیئرمین کی نشست پر46 ووٹ حاصل کئے، ان ووٹ کی تعداد چار جماعتوں کے سینیٹ اراکین پر مشتمل ہے جوحکمران جماعت کے اتحادی رہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی اتحادیوں کے علاوہ راجا ظفرالحق کو باہر سے ووٹ نہیں ملا یا اسی سیاسی اتحاد میں سے ہی کسی ممبر نے پارٹی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت کو ووٹ ڈالا۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن)رہنماؤں نے بھرپور اعتماد سے کہا تھا کہ پارٹی نے تمام اتحادی جماعتوں کیساتھ مشاورت مکمل کرلی ہے اور حکمران جماعت57 ووٹ لیکر کامیاب ہو گی۔ مسلم لیگ کے بیانیہ کے مطابق ان کے حساب سے57ووٹ پارٹی کے تھے جبکہ اپوزیشن کو46ووٹ ملنے تھے تاہم صورتحال یکسر بدل گئی۔ اعداد وشمار کی روشنی میں پانچ پارٹی پر مشتمل حکمران سیاسی اتحاد کے48ممبر سینیٹ میں تھے جبکہ کل نشستیں104 ہیں، نومنتخب سینیٹر اسحق ڈار کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کا ایک ووٹ کم ہوا اور32 سینیٹرز رہ گئے، پانچ پانچ سینیٹرز پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) اور نیشنل پارٹی (این پی) چار سینیٹرز جمیعت علمائے اسلام (ف) جبکہ ایک سینیٹر مسلم لیگ (ف) سے ہے۔ جماعت اسلامی (جے آئی) کے دو، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی ایم) اور وفاقی کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے ایک ایک اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے ایک سینیٹر کو ملا کر کل ووٹ کی تعداد53 بنتے تو ہے، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مسلم لیگ (ن)کو شبہ ہے کہ جمیعت علمائے اسلام کے چار سینیٹرز اور فاٹا کے سینیٹرز نے مخالف جماعت کو ووٹ دیئے کیونکہ جے یو آئی (ف) ڈپٹی چیئرمین کیلئے اپنے اُمیدوار کو نامزد کرانا چاہتی تھی لیکن پی کے ایم اے پارٹی کے مقابلے میں ہار گئی، جس کے بعد لگتا ہے کہ جے یوآئی (ف) کی دلچسپی انتخابی عمل میں نہیں رہی اور ٹھیک اسی وقت جے یو آئی (ف) نے مسلم لیگ (ن) کیخلاف ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہو، اس شبہ کو اسلئے بھی تقویت ملتی ہے کہ سینیٹ انتخابات کے دوران جب جے یو آئی (ف) کے سینیٹرزکے نام پکارے گئے تھے تو وہ موجود نہیں تھے جس پر خیال کیا گیا کہ وہ بعد میں آکر ووٹ ڈالیںگے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ فاٹا سینیٹرز نے مخالف جماعت کو ووٹ دیئے۔ انتخابات میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے، ہار کی سو وجوہات اور جیت کا ایک ہی باپ ہوتا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں جس قسم کی ہارجیت ہوئی ہے اسے ملکی سیاست میں انتخابی نتائج کا بدترین چہرہ قرار دینے والوں کا اپنا نقطہ نظر ہے اس کی وجوہات جاننا مسلم لیگ (ن) کا مسئلہ ہے لیکن جو طرزسیاست ایک مرتبہ پھر متعارف نظر آتی ہے یہ شاید آخری ایسا سیاسی چہرہ اور حربہ ہے جو پھر نظر نہیں آنا چاہئے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کیوں ہاری اور اس کی ہار کی وجوہات کیا تھیں اس سے قطع نظر ملکی سیاست سمٹ کر تین سے دو گروپوں میں جس طرح سامنے آئی ہے 2018ء کے عام انتخابات اس کے بیانیہ میں لڑے جائیں گے اور اتحادوں واتحادیوں کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) کو اتحادوں اور اتحادیوں پر تکیہ کرنے کی بجائے تن تنہا سخت حالات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس دریا کو پار کرنے کے بعد ہی مسلم لیگ (ن) اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ شناور کہلائے۔ دیکھا جائے تو سینیٹ میں شکست عام انتخابات میں نقصان اُٹھانے والوں کیلئے معاون اور کامیاب ہونیوالوں کی راہ کی رکاوٹ ثابت ہوگی۔ جہاں تک اس انتخاب کو بلوچستان کی محرومی دور ہونے سے جوڑنے کا تعلق ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر بلوچستان کے عوام کی سن لی جائے۔ ہمارے تئیں چیئرمین سینیٹ اگر ایسا کر پائیں تب ہی اس کی جیت بلوچستان کے عوام کی تسلی کا باعث بن پائے گی اور وفاق مضبوط ہوگا اور حقوق بلوچستان کا تسلسل قرار پائے گا۔ اس موقع پر اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ سابق صدر جنرل مشرف کے بلوچستان کیلئے پیکج اور حقوق بلوچستان کے پیپلز پارٹی کے منصوبے پر عملدرآمد کہاں تک ہوا اور ان مساعی کے باوجود بلوچستان کے عوام احساس محرومی کا شکار کیوں ہیں اور صورتحال میں تبدیلی کیوں نہیں آتی۔ مسلم لیگ (ن) کی ابتک تند وتیز ہواؤں اور بگولوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت ہی اسے مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر سامنے لائی تھی۔ اگر اتحادیوں کی بجائے اپنوں کا بوری میں چھید کرنے کا انکشاف سامنے آتا ہے تو اس کی کمال رفوگری کے بغیر مسلم لیگ (ن) آئندہ عام انتخابات میں بہترکارکردگی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔

متعلقہ خبریں