مینجمنٹ کیڈر ملازمین سے ناانصافی

مینجمنٹ کیڈر ملازمین سے ناانصافی

خیبرپختونخوا کی حکومت جس طرح سرکاری ملازمین پر مہربان رہی ہے اور انتظامی افسران کو فراخ دلی سے مراعات دی گئی ہیں اس تناظر میں محکمہ تعلیم کے انتظامی کیڈر کے پبلک سروس کمیشن سے آنیوالے افسران کو قلم چھوڑ ہڑتال اور بنی گالہ کا گھیراؤ کرنے پر مجبور کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی سمری میں مختلف اعتراضات لگائے گئے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر گریڈ 19میںخدمات انجام دے رہے ہیں لہٰذا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو گریڈ 20 نہیں دیا جاسکتا حالانکہ محکمہ تعلیم میں پرنسپل جبکہ محکمہ صحت میں ڈی ایچ او گریڈ 20 میں تعینات ہیں جبکہ مینجمنٹ کیڈر کیساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے، ویسے بھی ڈپٹی کمشنر اور محکمہ تعلیم کے ملازمین کا کوئی موازنہ نہیں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر گریڈ اُنیس کا آفسر ضلعی سربراہ اور سیاہ وسفید کا مالک کیوں ہے؟۔ ماہ قبل محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور فنانس نے سمری وزیراعلیٰ کو بھیجی جس میں ان کی اپ گریڈیشن کی سفارش کی گئی تھی لیکن اب سمری پر اعتراضات کئے جارہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ 1990 سے اساتذہ کی 5 بار اپ گریڈیشن کی جا چکی ہے جبکہ مینجمنٹ کیڈر کی ایک بار بھی اپ گریڈیشن نہیں ہوئی۔ کیا یہ ستم بالائے ستم سے کم ہے کہ ڈی ای او دفاتر میں سپرنٹنڈنٹ گریڈ17 میں تعینات ہیں جبکہ کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونیوالے ملازمین 7سال بعد بھی گریڈ 16میں ہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تعلیمی انقلاب جن کے کندھوں پر بیٹھ کر لانا ممکن تھا صوبائی حکومت کا ان کو محروم طبقہ بنا کر رکھنے کا نتیجہ دعوؤں اور وعدوں کی جس ناکامی کی صورت میں سامنے آیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ قطع نظر اس کے ہمارے تئیں مینجمنٹ کیڈر کے افسران کو ترقی نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں دیگر سرکاری ملازمین کی طرح ترقی ان کا بھی حق ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک کو چاہئے کہ وہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اعتراضات کی سمری کو ایک طرف رکھ کر مینجمنٹ کیڈر کے افسران کی فوری ترقی کی منظوری دے اور ان کو احتجاج پر مجبور ہونے سے روکا جائے۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اعتراضات کو سنا جائے تو صوبے میں سوائے اس محکمے کے کسی اور محکمے کے عملے کو نہ تو ترقی دینا ممکن ہوگا اور نہ ہی ان کو مراعات کا حقدار گردانا جا سکے گا۔
زائد المیعاد اشیاء کی فروخت توجہ طلب مسئلہ
شہر میں زائدلمیعاد اشیاء خاص طور پر خوردنی اشیاء کی کھلے عام فروخت کوئی نئی بات نہیں امر واقع یہ ہے کہ اس وقت پشاور میں زائد المیعاد دودھ اور جوس کی کھلے عام فروخت عروج پر ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ زائد المیعاد اشیاء کی فروخت اور عوام کی جانب سے اس کی خرید کی ایک بڑی وجہ دکانداروں اور صارفین کی لاعلمی بھی ہے۔ اس ضمن میں صارفین کی جانب سے احتیاط اور خود اپنے مفاد میں تاریخ اختتام دیکھنے یا پھر کسی سے پوچھ کر چیز استعمال کرنے یا واپس کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک دکانداروں کا تعلق ہے ان کا اس ضمن میں لاعلمی اپنی جگہ لیکن یہ عذر نہیں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جو چیز رکھیں وہ معیاری ہوں، بعض دکانداروں کی جانب سے اس طرح کی اشیاء سستے داموں خرید کر فروخت کرنے کی شکایات ہیں۔ بہرحال وجوہات جو بھی ہوں زائد المیعاد اشیاء کی خرید وفروخت کی روک تھام اور اس ضمن میں شعور اُجاگر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کے نبھانے میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔

اداریہ