Daily Mashriq


’’ووٹ کی عزت‘‘

’’ووٹ کی عزت‘‘

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا نتیجہ توقعات خاص طور پر حکمران اتحاد کے اندازوں کے برعکس نکلا۔ مسلم لیگ ن اور اتحادی ایک دن پہلے تک پراعتماد تھے کہ 103کے ایوان میں انہیں آسانی سے 53ووٹ حاصل ہوجائیں گے لیکن نتیجہ کا اعلان ہوا تو تحریک انصاف‘ پیپلز پارٹی اور آزاد سینیٹرز کے امیدوار صادق سنجرانی 57ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو 46ووٹ مل سکے ۔ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا نتیجہ نکلا تو مسلم لیگ اور اتحادیوں کے امیدوار عثمان کاکڑ کے راجہ ظفر الحق کے ووٹوں کی نسبت مزید دو ووٹ کم نکلے اوراپوزیشن کے سلیم مانڈوی والا کامیاب ہوگئے۔ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں ایم کیو ایم نے حصہ نہیں لیا کیونکہ ایم کیو ایم کے اعلان کے مطابق اس کے ارکان سلیم مانڈوی والا کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے اس کے باوجود سلیم مانڈوی والا کو 54اور عثمان کاکڑ کو 44ووٹ ملے۔ مسلم لیگ ن اور اتحادیوںکیلئے یہ نتیجہ توقعات کے برعکس رہا اور شنید ہے کہ اس پر غور کرنے کیلئے اہم اجلاس بلایاجا رہا ہے جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کس کس نے وعدے یا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ۔ انتخاب کے بعد ن لیگ اور اتحادیوں کے امیدوار راجہ ظفر الحق نے نہایت مختصر تقریر کی ۔ انہوں نے نئے چیئرمین کوجو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔اس توقع کااظہار کیا کہ وہ ایوان کو اعلیٰ روایات کے مطابق چلاتے رہیں گے اورکہاانتخاب جمہوری طریقے سے ہوا۔ لیکن ن لیگ اور اس کے اتحادی جماعتوں کے لیڈروں نے اس نتیجے پر سخت برہمی کااظہار کیا۔ مریم نواز کا ردعمل بہت سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ شطرنج کے مہرو تم جیتے نہیں تمہیں بدترین شکست ہوئی ہے۔ سینیٹ کے ارکان کی اکثریت کو شطرنج کے مہرے کہہ کر انہوں نے ملک کے سب سے بڑے جمہوری ادارے ایوان بالا کی توہین کی ہے۔ ن لیگ کے اتحادی نیشنل پارٹی کے میرحاصل بزنجو مریم نواز سے بھی آگے نکل گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج پارلیمان کا منہ کالا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایوان میںبیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے۔لیکن انہوں نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا۔ ن لیگ کی وفاقی وزیر مریم اورنگزیب اور دانیال عزیز نے بھی انتخاب میں دھاندلی کاتاثر دیا اور کہا کہ زرداری اور عمران خان نے جمہوریت کی پیٹ میں چھرا گھونپا۔ایسے ہی ریمارکس خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ خان نے دئیے۔ انتخاب کے نتیجے میں ہار جیت ہوتی ہی ہے ۔ اس کی وجوہ بھی ہوتی ہیں ۔ لیکن اپنی پسندکانتیجہ نہ آئے تو اظہار برہمی ان پر ہونا چاہیے جنہوں نے ہارنے والے کی توقع کے مطابق ووٹ نہ دیا۔ اس پر سارے ایوان کو مطعون کرنا نہایت نازیبا حرکت ہے۔ مریم نواز کیلئے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کا نتیجہ بہت زیادہ ناپسندیدہ ہو سکتا ہے کہ اس میں ان کے ’’روک سکو تو پھر روک لو‘‘ کے چیلنج کا جواب مضمر ہے۔ لیکن ایوان کے معزز ارکان کو شطرنج کے مہرے کہنا ایوان بالا اور ملک کے جمہوری نظام کی توہین ہے۔ میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ اس انتخاب کیلئے صوبائی اسمبلیوں کو منڈیوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ ان کا اشارہ ووٹوں کی خرید و فروخت کے الزامات کی طرف تھا۔ لیکن انہیں یہ احتجاج اس وقت کرنا چاہیے تھا جب سینیٹ کے ارکان کے انتخابات ہوئے تھے۔ سینیٹ کے ارکان کے انتخابات پر ن لیگ اور اتحادی مطمئن رہے اور چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے دن تک یہ دعویٰ کرتے رہے کہ انہی ’’منڈیوں‘‘ سے منتخب ہو کر آنیوالے 53ارکان حکمران اتحاد کے امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن نتیجہ ان توقعات کے برعکس نکلا۔ ن لیگ اور اتحادیوں کو اس کی ذمہ داری میاں نواز شریف پر ڈالنی چاہئے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کا نام ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ کیلئے تجویز کر کے اپنی انتخابی مہم جوئی میں پیپلزپارٹی کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی جس سے پیپلز پارٹی حتمی طور پر انکارکر چکی تھی۔پیپلز پارٹی کے آصف زرداری جو مصلحت بینی اور مصالحت کاری میں ایک مقام رکھتے ہیں میاں صاحب کی اس چال میں نہیں آئے۔ اس پر میاں نواز شریف کو فوراً اپنا امیدوار نامزد کرنا چاہیے تھا تاکہ اپنے حامیوں کو اس نام پر قائل کر سکیں ۔ انہوں نے شاید اس زعم میں کہ جو کچھ وہ کہہ دیں گے ان کے اتحادی اور دوسرے سینیٹرز اس پر فدا ہو جائیں گے ، انہوں نے عین انتخاب کے دن راجہ ظفر الحق کے نام کا اعلان کیا اور راجہ صاحب کے حق میں سب کو قائل کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ جبکہ توقع ہے کہ ان کے حامی ووٹر فیصلہ کر چکے تھے ۔میاں نواز شریف کے اس تذبذب کی وجہ سے راجہ ظفر الحق مضبوط امیدوار ثابت نہ ہو سکے ۔ ن لیگ کے پانچ جماعتی اتحاد کے کل ووٹ اکثریتی ووٹ نہیں تھے۔ انہیں فاٹا ‘ دیگر آزاد ارکان اور چھوٹی پارٹیوں کے ووٹ درکار تھے لیکن امیدوار کے نام کے اعلان میں تذبذب کے باعث اتحاد کے باہر کے ووٹروں نے اندھیرے میںرہنے کی بجائے اپنے انتخاب کا فیصلہ کر لیا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کے کم از کم دو سینیٹرز نے پارٹی لائن کے مطابق ووٹ نہیںدیا ۔مسلم لیگ ن کے متعدد لیڈرتو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر کھل کر مخالفانہ ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں ۔ لیکن خود میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے متوقع صدر میاں شہباز شریف اس پر خاموش ہیں۔ ن لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس متوقع ہے جس میں شنید ہے کہ پارٹی کی صدارت پر میاں شہباز شریف کو فائز کیا جائے گا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں لیڈر بھی میر حاصل بزنجو اور پارٹی کے وزراء کی آواز میں آواز ملاتے ہیں یا ملک کے جمہوری اداروں کی ضرورت اور اہمیت کو مقدم رکھتے ہوئے سینیٹ کے ارکان کے ’’ووٹ کو عزت دیتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں