جوتاگردی وجوتا دہنی دونوں قابل نفرین ہیں

جوتاگردی وجوتا دہنی دونوں قابل نفرین ہیں

انتہاؤں میں تقسیم معاشرے کا سب سے بڑا الیمہ یہ ہوتا ہے کہ پسند وناپسند کو اندھی عقیدت اور نفرت کی دھونی دیتے رہتے ہیں۔ ہمارے اجتماعی بگاڑ اور کج کی ابتداء کب ہوئی کہانی بڑی طویل ہے۔ ایک طرح سے تو سچ یہ ہے کہ سماجی بگاڑ میں ہم سب کا مساوی حصہ ہے۔ سیاسی ومذہبی رہنماؤں اور کارکنوں، اہل صحافت ودانش اور دوسرے سب اپنے اپنے کج کیساتھ جی رہے ہیں۔ بدزبانی وبدکلامی وبا کے موسم کی طرح پھیلی اور اس سے نجات کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی بجائے بڑھاوے میں کردار ادا کیا گیا۔ سو اب جو ہمارے چاراور ہو رہا ہے اس پر صرف افسوس کیا جا سکتا ہے لیکن کیا محض افسوس کافی ہے؟۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم برائی کے حق میں تاویلات کا انبار لگائے بونوں کے ہجوم میں پھنس گئے ہیں۔ ان سطور میں کئی بار عرض کر چکا کہ جب تک پسند کا ظالم اور مظلوم پالنے کی موروثی بیماری سے نجات حاصل کرنے کی شعوری کوششیں نہیں کی جاتیں، شرف انسانی چھوت کی بیماری رہے گی۔ ہم لمبی چھوڑی بحث نہ بھی اُٹھائیں اور پچھلے دو دنوں کے واقعات کو سامنے رکھ کر بات کریں تو بھی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکے جانے کا واقعہ ہو یا میاں نواز شریف کو لاہور کے ایک دینی مدرسہ میں جوتا مارے جانے کا، ہر دو کی مذمت کرنیوالوں کا تمسخر اُڑانے والے ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ایک برائی پنپ رہی ہے مگر ایک طبقہ اسے ردعمل قرار دے رہا ہے۔ ستم یہ ہے کہ دونوں افسوسناک واقعات کا جواز مذہبی انتہا پسندی سے ڈھونڈا جارہا ہے۔ آپ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے اور نوازشریف کو جوتا مارنے والے ہر دو افراد کے اپنے مذموم کاموں کی انجام دہی کے بعد کے نعروں پر غور کیجئے ساری بات سمجھ جائیں گے۔ لاریب اس سماج کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم میں ہر شخص اپنی ذات، برادری، مسلک، علاقے اور سیاسی گروہوں کا دکھ محسوس کرتا ہے۔ چیک پوسٹوں پر خواتین وحضرات کی تذلیل پر، بلوچستان میں ریاستی اختیارات کے تجاوز اور سندھ میں قوم پرستوں کی جلی ہوئی نعشوں پر جس اجتماعی بے حسی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہی بے حسی فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتوں، جائیدادیں ہتھیانے کیلئے دیگر مذاہب کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ اور سندھ میں ہندو لڑکیوں کا اغوا اور زبردستی تبدیلی مذہب پر جس بے ضمیری کا مظاہرہ ہم سب نے کیا یہ اس کی سزا ہے۔ ہم میں سے بہت سارے ماڈل ٹاؤن لاہور کے افسوسناک سانحہ پر محض اسلئے چُپ رہے کہ مقتولین سے ذات، برادری، مذہب وعقیدے کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ جنرل پرویز مشرف پر جوتا اُچھالا گیا، ہماری اکثریت نے اس میں سے تسکین کشید کرنے کی کوشش میں فرحت محسوس کی۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ اخلاق باختگی کا پہلا قدم بدزبانی ہوتا ہے، افسوس کہ بدزبانی کو سیاست کا معروف حصہ جناب نواز شریف اور ان کے موالیوں نے 1980ء کی دہائی میں بنایا۔ ہم ایسے طالب علموں نے تب بھی عرض کیا تھا کہ زبان پر قابو نہ رہے تو بات ہاتھوں اور لاتوں کے استعمال تک پہنچ جاتی ہے۔ افسوس کہ ہماری نسل کو بگاڑ کے آغاز سے اس کے موجودہ مرحلہ تک کے سارے مراحل کھلی آنکھوں سے دیکھنا پڑے۔ اس دکھ کا اظہار کیسے کروں کہ اتوار کو جب نواز شریف کیساتھ افسوناک واقعہ پیش آیا تو اس کے چند گھنٹے بعد ہمارے ایک بڑے لیڈر کہہ رہے تھے ’’اوئے فلاں تمہاری مونچھوں سے پکڑ کر تمہیں جیل میں ڈالیں گے‘‘۔ ساعت بھر کیلئے رُک کر غور کیجئے، ہمارے اہل صحافت کی اکثریت اور الیکڑانک میڈیا کے چھاتہ برداروں نے تحریر وگفتگو کے ذریعے کیا ماحول بنا دیا ہے، ستم بالائے ستم یہ ہے کہ منبروں پر جلوہ افروز بعض خطیب ننگی گالیاں دیتے ہیں اور پھر ان کے حلال ہونے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ انفرادی رویوں، طرزعمل اور بدزبانیوں نے نقشہ بنا دیا اس میں رنگ بھرا جارہا ہے۔ کاش ہم نے پہلی برائی پر شدید مزاحمتی ردعمل کا مظاہرہ کیا ہوتا آج ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتے۔ یہ ہمارا ملک ہے ہم سب کا ملک اور ہمارا سماج ہے، ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آئندہ نسلوں کو ہم ورثے میں کیا دینا چاہتے ہیں؟۔ کیا 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کیخلاف جو کام طالبان سے لیا گیا اب آنیوالے دنوں میں وہی کام کچھ نئے انداز میں ایک نئی انتہا پسندی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کیخلاف کوئی لینا چاہتا ہے؟۔ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کم ازکم مجھے ان مذہبی وسیاسی جماعتوں کے کارکنوں پر افسوس ہے جو ایسے عمل کو درست قرار دے رہے ہیں۔ انتہا پسندی جنم ہی اس وقت لیتی ہے جب علم، دلیل اور مکالمے کی قبریں کھودی جائیں۔ نواز شریف کی سیاست، انداز فکر مخالفین کیلئے ان کی ناروا جملہ بازی بالخصوص محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کی والدہ مرحومہ کیلئے نونیوں کی بدزبانی وبے لگامی کبھی بھی قابل تحسین نہیں رہی مگر کیا جو اتوار کو نواز شریف کیساتھ ہوا اسے درست قرار دینے کیلئے بھونڈی دلیلیں پیش کی جائیں؟۔ جی نہیں کل یہ نواز شریف کیساتھ ہوا ہے آنیوالے کل میں اس صورتحال کا سامنا کسی اور کو بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ یقین کیجئے جوتاگردی ہو یا جوتا دہنی دونوں شرمناک حد تک قابل نفرت ومذمت ہیں۔ کوئی زندہ انسان ان کی تائید نہیں کر سکتا۔ ہم میں سے ہر شخص کو بدلاؤ لانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ دوسروں کو عزت دیں گے تو ہم عزت کے حقدار ٹھہریں گے۔

اداریہ