ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

جو قارئین مختلف موضوعات کو زیربحث لانے کی فرمائش کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ان کے نشاندہی کردہ موضوعات پر معمول کے کالموں میں روشنی ڈالنے کی اپنی سی کوشش ہوگی اور ہوتی رہتی ہے۔ اس ہفتہ وار کالم میں مسائل ومشکلات کی نشاندہی پر مبنی مواد ہی شامل اشاعت ہوگا۔ دراصل یہ کالم قارئین کا کالم ہے اس میں ان کے ارسال کردہ مواد ہی کو سمویا جاتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ کالم نہیں بلکہ قارئین نامہ ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک گرلز ایلیمنٹری ٹیچر کی فریاد ہے کہ ان کو بارہ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے مگر وہ بھی کبھی دو کبھی چار ماہ بعد، اسی طرح ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں کا بھی مستقل مسئلہ چلا آرہا ہے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پی کے حکام سے گزارش ہے کہ وہ بیچاری لڑکیوں کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کا بندوبست کریں اور اسے بیگار کیمپ نہ بنائیں۔ بلند وبانگ دعوے کرنیوالی حکومت اور محکمہ تعلیم توجہ دے۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل پڑانگ غار کے رہائشی لشمینا بیماری کا اجتماعی طور پر شکار ہیں۔ علاج کیلئے پشاور سے مہنگا علاج کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، انجکشن اولاً دستیاب نہیں اور اگر ہو بھی تو میڈیکل سٹور والے اُلٹی چھری سے ذبح کرتے ہیں۔ مقامی بی ایچ یو کو لشمینا کی ادویات مل جائیں تو عوام کو سہولت ہوگی۔ کنٹرول کیلئے سپرے کا بندوبست ہونا چاہئے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی امسال پھر سے ڈینگی کا خطرہ ہے۔ یہاں پر بھی بروقت سپرے شروع کرنے کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ حیات آباد سے ملنے والی پیغامات کے مطابق وہاں پر بیس اور تیس سال قبل تعمیرشدہ پانی کی ٹینکیوں کی صفائی ایک بار بھی نہیں ہوئی۔ پانی کی پائپ لائنیں رسنے لگی ہیں، ایف9 نواب مارکیٹ کے آس پاس تجاوزات اور تیماردار بدستور موجود ہیں۔ شجرکاری کے موسم میں جو پودے لگائے گئے تھے ان کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے سب صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، ساتھ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ نیب زدہ ڈپٹی ڈائریکٹر کے سوات تبادلے کی فائل چیف سیکرٹری نے نہیں سکریٹری لوکل کونسل بورڈ نے روک رکھی ہے۔ باقی آئندہ۔ میرے سسرال ڈیرہ اسماعیل خان سے محمد عدنان نے نقل کی روک تھام سے ایک قدم آگے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، انہوں نے درست نشاندہی کی ہے کہ پرچے جانچنے والے اساتذہ کرام ایمانداری کا مظاہرہ کریں تاکہ اچھے پرچے دینے والوں کو کم اور اچھے پرچے نہ دینے والوں کو اچھے نمبروں کی خوشگوار حیرت نہ ہو۔ واقعی ہمارے امتحانی نظام کا یہ سنگین مسئلہ ہے، یہ صرف میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور یونیورسٹی کی سطح تک نہیں پبلک سروس کمیشن کی سطح پر بھی اس قسم کی انہونیاں ہوتی ہیں۔ انٹرویو میں تو نمبر ہی سفارش والوں کو ملتے ہیں، کچھ اس طرف بھی توجہ ہونی چاہئے تاکہ قابل نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں گم ہونے سے بچ جائیں۔ مالاکنڈ سے نیک خان نے عدالت عالیہ پشاور کی جانب سے درجہ چہارم کی ملازمتوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے دینے کا حکم جاری کرنے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی طرف توجہ دلائی ہے جس کا نوٹس لینا عدالت عالیہ پشاور کے معزز منصفین کا منصب ہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ یہ تجویز روزنامہ مشرق کے اداریہ نویس کی تھی ہم تو کوشش کرتے رہتے ہیں کہ حقداروں کو ان کے حقوق ملیں مگر راستے میں دیواریں اور چٹانیں حائل ہیں۔ مجھے اس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب ریلوے ہیڈکوارٹر اور ذیلی دفاتر میں کوئی نوجوان سلام کے بعد تعارف کراتے ہوئے کہتا ہے کہ میڈم میں آپ کی طرف سے میرٹ پر بھرتی شدہ ریلوے کا ملازم ہوں، آپ نہ ہوتیں تو ہمیں بھرتی کس نے کرنا تھا۔ میرے ہمکار جو حقیقی خوشی ومسرت کے متلاشی ہیں وہ کوشش کریں تو ان کو بھی اس طرح کے خوشگوار تجربات میسر آئیں گے۔ کسی حقدار کو اس کا حق دینا اس پر احسان نہیں لیکن وہ آپ کو بھولتا بھی کبھی نہیں۔ میرے ایک قاری بھائی پرائس مجسٹریٹ ہیں، انہوں نے کارلائیقہ کیلئے تابعداری کا میسج کیا ہے۔ بھائی آپ تو سب سے قیمتی بندے اور عہدے پر فائز ہیں۔ میری آپ سے یہی گزارش ہے کہ آپ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی ذمہ داری نبھا کر غریب عوام کو براہ راست فائدہ پہنچائیں اور ساتھ ثواب بھی کمائیں۔ جتنے بھی پرائس مجسٹریٹس ہیں ان سے میں اپیل کرتی ہوں کہ وہ بڑھتی مہنگائی کی روک تھام کیلئے قیمتوں کو کنٹرول میں رکھ کر اپنا خصوصی کردار ادا کریں۔ ایک قاری نے درست نشاندہی کی ہے کہ سی اینڈ ڈبلیو، ٹی ایم ایز، پی ڈی اے اور دیگر اداروں میں ٹھیکے کمیشن لیکر دینے کا رواج عام ہے۔ کمیشن دیئے بغیر اور مک مکا نہ کر کے ٹھیکے کا حصول ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھیکیدار ناقص میٹریل استعمال کرتا ہے اور سرکاری کام ڈھنگ، معیار اور ترتیب سے نہیں ہوتے، جس پر کمیشن لینے والے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ چترال سے ایک قاری نے بھی چترال میں نوے فیصد ٹھیکے ایک ایکسین کے بھائی کے ہونے کا انکشاف کیا ہے، ایک بھائی ٹھیکہ دار اور دوسرا بھائی ضلع کا ایکسین ہو تو بہتی گنگا کو بھی شرمانا تعجب کی بات نہیں۔ نیب والے کہاں سو رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کو کیا ہو گیا ہے۔ صرف دعوؤں سے نہیں ہوتا کچھ کر کے دکھانے کی ضرورت ہے۔ کب جاگو گے اُٹھ جاؤ۔ اس صورتحال پر کبھی کبھی تو دل جمہوریت، اصول، قانون، ضابطے ادارے سب تیاگ کر ایک بے رحم انقلاب کی دھائی دیتا ہے یا پھر ایک ایسے خلیفہ وقت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو خلافت راشدہ کا نمونہ ہو۔ جو ہر راشی وبدعنوان کو سزا دے اور حقدار کو اس کا حق ادا کرنے کا فرض نبھائے۔ اس قوم کے حق میں دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ قارئین 03379750639 پر میسج اور واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

اداریہ