چیتر رنگ نروئے وے لوکا

چیتر رنگ نروئے وے لوکا

ہمیں بچپن کا وہ زمانہ بھلائے نہیں بھولتا جب ہم پشاور شہرکی گلیوں کی رنگ رلیوں میں مست الست کھیلنے کودنے کے نت نئے بہانے تراشا کرتے تھے۔ ان دنوں چیتر کے آتے آتے گلے میں ڈھول لٹکائے ایک بابا آجاتا اور وہ ڈھول بجاتے ہوئے اس کی تال پر گا رہا ہوتا۔ ’’لالاں والا، لکھاں دا داتا، ددھ بھی دیندا، پتر بھی دیندا،‘‘ ہمیں یہ گیت اتنا ہی یاد رہ گیا جو ہم نے یہاں لکھ دیا۔ اس کے ہمراہ گلی کے بہت سارے بچے ہوتے۔ جو ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل اختیار کر لیتے۔ ان بچوں میں سے ایک کے ہاتھ میںجھنڈا بھی ہوتا جو بانس کے ڈنڈے پر کپڑوں کے رنگ برنگی کٹ پیس باندھ کر بنایا گیا ہوتا اور اس جھنڈے کی چوٹی پر ایک سے زیادہ چھوٹی چھوٹی گڑیاں بندھی ہوتیں۔ یہ بابا۔ ’لالاں والا لکھاں دا داتا‘ گا کر بے اولاد خواتین کی گود بھر جانے کی دعا کرتا اور جو خواتین بااولاد ہونا چاہتیں وہ اس بابے کی دعاؤں کے بدلے میں اس کی جھولی میں اپنے ہاتھ سے تیار کی گئی کپڑے کی گڈی کے علاوہ آٹا، چینی، اجناس یا نقد رقم بھینٹ کرتی رہتیں۔ پشاور شہر کی گلیوں میں یہ بابا بہت سی دعاؤں کے بدلے جھولی بھر منتیں لیکر ایک گلی سے دوسری گلی کی جانب نکل جاتا اور شور مچاتے بچے اس کیساتھ ہو لیتے، لالاں والا لکھاں دا داتا۔ کے مصرعہ کو ہم ’’لالاں والا لکھاں دا دادا‘‘ سمجھتے۔ اور اس بابے کو بھی’لکھاں دا دا‘ دا کہہ کر پکارتے، بچے اور ذہن کے کچے تھے نا۔ لیکن ہمیں بعد میں علم ہوا کہ وہ بابا اپنے گلے میں لٹکائے ڈھول کو پیٹ پیٹ کر جہاں ’لالاں والا سرکار‘ کی کرامتوں کا پرچار کر رہا ہوتا وہاں ڈھول کی تا ل پر اس میلے کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہا ہوتا جو چیت کے مہینے کے دوران پشاور شہر میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ جھنڈوں کا میلہ کہتے تھے پشاور والے اس تہوار کوکہ اس میں چہارسو جھنڈے ہی جھنڈے نظر آتے تھے، چیت کا مہینہ بکرم اجیت کے کیلنڈر کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے جو ہر سال مارچ کے وسط سے شروع ہو کر اپریل کے وسط تک جاری رہتا ہے۔ اس مہینے کے دوران دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر گنگھور گھٹا چھا جاتی ہے اور پھر کبھی رم جھم رم جھم پھوار پڑتی ہے اور کبھی موسلا دھار بارش برسنے لگتی ہے اور پھر یوں ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے آسمان صاف ہوکر نیلے پیلے اور سفید رنگوں کی منظر کشی کرنے لگتا ہے، چیت کے مہینے کو پرانے لوگ چیتر بھی کہتے تھے اور اس مہینے کے دوران آسمان سے برستے ابر رحمت کو چیتر کا برسنا کہتے تھے جن کی تقلید میں ہم بھی چیت کی بارشوں کو چیتر کا برسنا ہی کہیں گے۔ہم یہ بتانا چاہتے ہیں چیتر کے موسم میں پشاور بھر میں میلے لگتے تھے۔ جن میں پشاور کے تمام تر ثقافتی رنگ اپنی اپنی پہچان بن کر درآتے تھے۔ ان میلوں ٹھیلوں میں جھنڈوں کے میلے کی بڑی شہرت تھی۔ یہ میلہ سخی سرور علیہ رحمت کی پشاور شہر آمد کی یاد دلاتا تھا، کہتے ہیں جب آپ پشاور تشریف لائے تو سادات پشاور کی بڑی تعداد ان کا استقبال کرنے کی غرض سے اپنی اپنی درگاہوں کے جھنڈے لیکر پہنچی، اس طرح پشاور کی بہار میں رنگ برنگی جھنڈوں کی فصل بہار کھل اٹھی، اور سخی سرور سرکار کے ڈیرہ غازی خان کوچ کر جانے کے بعد بھی ہر سال رنگ برنگی جھنڈوں کی یہ بہار جھنڈوں کے میلے کے عنوان پشاور شہر میں رنگ ونور کی برسات بن کرآتی رہی۔ اس موضوع پر لکھنے کیلئے راقم السطور نے ڈاکٹر سید امجد حسین کی کتاب ’عالم میں انتخاب‘ کے صفحہ 126پر موجود بابائے ہندکو استاد مختار علی نیئر کے مضمون سے استفادہ کیا ہے، جھنڈوں کے میلے کے حوالے سے کوئی بھی ریسرچ انجن کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے، تاہم اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیرہ غازی خان صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے اسلئے وہاں چیتر کے میلوں کی روایت اب بھی جاری ہے۔ ایک حوالہ کے مطابق چیتر کے مہینے کے میلوں کو مشرقی اور مغربی پنجاب میں سنگ میلے کہا جاتا ہے، یہ میلے گندم کی کٹائی سے قبل شروع ہوتے تھے اور عقیدت مند ولیوں بزرگوں کی درگاہوں میں پہنچ کر وہاں میلے منعقد کرتے اور اپنی فصل کی بہتر کٹائی کیلئے منتیں مانتے اور دعائیں کرتے تھے۔ سخی سرور کے دربار میں یہ میلہ ہر سال سترہ اور اٹھارہ مارچ کو شروع ہوتا اور وہیں سے چیتر کے میلوں کا آغاز ہو جاتا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس قسم کے میلوں پر پابندی لگا دی گئی اور یوں ہم اپنے نین گما کر اپنے آپ سے بچھڑ کر رہ گئے، میلے ٹھیلے ہمارے لوک ادب، لوک موسیقی اور لوک ورثہ کے امین تھے جو سینہ بسینہ سفر کرکے نسل درنسل منتقل ہوتے رہے، ذہن ساتھ نہیں دیتا کہ لالاں والا، لکھاں دا داتا، جیسی لوک صنف موسیقی یا صنف شاعری کو کس نام سے پکارا جائے، جھنڈا بردار بچوں کے جلوس اور گلی گلی پھرنے والے ڈھول بجا کر گانے والے بابے کو کس نام سے یاد کروں، مبہم ہو چکا ہے وہ منظرنامہ اور عین ممکن تھا مٹ جاتا ہمارے مٹ جانے سے پہلے، ہمیں جو جان کاری ہو پائی اسکے مطابق ’چیتر‘ نامی ایک گیت بھی تھا
چیتر رنگ نروئے وے لوکا، چیتر رنگ نروئے وے لوکا!
چیتر رنگ نروئے، بھوئیں تے نِویں حیاتی کھِڑپئی
اسیں موئے دے موئے، وے لوکا! چیتر رنگ نروئے

اداریہ