جمہوریت، ربانی اور سنجرانی

جمہوریت، ربانی اور سنجرانی

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد سینیٹ کا انتخابی عمل مکمل ہوگیا۔ چیئرمین کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے اُمیدوار صادق سنجرانی نے بزرگ سیاسی شخصیت راجہ ظفر الحق کو ہرایا جبکہ ڈپٹی چیئرمین کیلئے بھی اپوزیشن پارٹیوں کے نامزد اُمیدوار سلیم مانڈی والا منتخب ہوئے۔ چیئرمین سینیٹ کا تعلق ملک کے سب سے پسماندہ صوبے بلوچستان سے ہے اور ماضی میں ان کی وابستگی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے رہی ہے۔ اس وقت وہ سینیٹ میں آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ پیپلز پارٹی میں آصف علی زرداری کا بس چلتا تو ان کی پسندیدہ شخصیت فاروق ایچ نائیک یا کوئی ہوتا اور مسلم لیگ ن میں نوازشریف کیلئے موجود ہ وقت اور حالات میں ایک جنگجو چیئرمین کی صورت پرویز رشید بہتر پسند تھے۔ پرویز رشید اور فاروق ایچ نائیک جیسے ناموں پر اصرار کا مطلب محاذ آرائی کو بڑھانے کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اپنی اپنی پسند کے ان چکروں سے نکلنے اور میثاق جمہوریت کا بھرم رکھنے کیلئے نوازشریف نے اس مسئلے کا حل رضاربانی کی صورت میں ایک مشترکہ اُمیدوار کی صورت میں نکالنے کی کوشش کی تھی مگر حالات کے بھنور میں پھنسی ہوئی دونوں جماعتیں اس حد تک جانے کو تیار نہ تھیں اور واپسی کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتی تھیں۔ مسلم لیگ ن نے کسی عقاب کی بجائے راجہ ظفر الحق جیسی فاختہ کو اس دشت میں پرواز کیلئے چھوڑ دیا جو بھلے سے مسلم لیگ ن کے سہی مگر اب بھی انہیں سب اپنا سمجھتے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے عمران خان کی پچ پر کھیل کر مشکل سے نکلنے کا راستہ یوں ڈھونڈ نکالا کہ وہ صادق سنجرانی کے نام پر متفق ہوگئی۔ سینیٹ کا یہ انتخابی مرحلہ دو حوالوں سے خاصا اہم ہے۔ اول یہ کہ سینیٹ انتخابات کا منعقد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کسی رکاوٹ اور سپیڈ بریکر کا شکار نہیں ہوا بلکہ جہاں ایک طرف سیاسی راہنماؤں کیخلاف تحقیقات کا عمل عدالتوں اور نیب جیسے اداروں میں جاری ہے وہیں ملک میں جمہوری عمل اپنی روایتی رفتار اور روایتی حسن وقبوح کیساتھ جاری ہے۔ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت انہی شکوک وشبہات بلکہ الزامات کیساتھ گزر گئی اور ملک میں کوئی بغاوت اور انقلاب برپا نہیں ہوا۔ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں بھی کبھی فوجی تو کبھی عدالتی مارشل لاء کی باتیں ہوتی چلی آرہی ہیں اور یہ خدشات پیدا کرنے میں حکمران جماعت پیش پیش ہے۔ اس کے باوجود ملک میں بظاہر کسی اپ سیٹ کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ البتہ چند افراد حکومتی منظر سے ہٹ گئے ہیں اور تاثر یہی دیا جا رہا ہے کہ اس سے جمہوریت کی لٹیا ہی ڈوب کر رہ گئی ہے۔ یہ تاثر قعطی درست نہیں اور نہ ہی جمہوریت کے حقیقی تصور سے لگاؤ کھاتا ہے۔ جمہوریت افراد اور شخصیات کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت روایات، اقدار اور متحرک نظام کا نام ہے۔ یہاں افراد ایک معین اور متعین وقت کیلئے عوامی طاقت سے برسراقتدار آتے ہیں اور عوام یا عوامی نمائندے چاہیں تو انہیں اس متعین وقت سے پہلے بھی گھر بھیج سکتے ہیں۔ افراد بدلتے رہتے ہیں مگر سسٹم کی گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتی ہے۔ جمہوریت میں افراد ناگزیر نہیں ہوتے اقدار ناگزیر ہوتی ہیں اور ان اقدار سے ہٹتے ہوئے نظام کو جمہوریت کے سوا کوئی بھی نام دیا جاسکتا ہے۔ افراد کی ناگزیریت اور افراد کو ملک اور نظام کے متبادل سمجھنا شہنشاہیت اور شخصی نظام کا خاصہ ہوتا ہے۔ جمہوری اور غیرجمہوری نظام میں یہی باریک سا فرق ہوتا ہے۔ سینیٹ ملک کا ایوان بالا ہے اور اس ایوان کے انتخابی عمل کی تکمیل نے جمہوری عمل کو قیاس آرائیوں اور پیش گوئیوں کی دھند سے آزاد کر دیا۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی الگ الگ پوزیشنوں نے میثاق جمہوریت نامی معاہدہ کے تابوت میں آخری کیلیں ٹھونک دی ہیں اور اب یہ مردہ اس تابوت سے کبھی باہر نہیں آئے گا۔ برطانوی حکومت نے جنرل مشرف کے دور میں میگنا کارٹا کی طرز پر دو اہم جلاوطن لیڈروں میاں نوازشریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان جمہوریت پر کاربند رہنے اور ایک دوسرے کیخلاف کسی سازش کا حصہ نہ بننے بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاہدہ کرایا تھا۔ اس وقت ملک میں یہی دو اہم اور بڑی جماعتیں تھیں گویا کہ اس معاہدے کے ذریعے ملک کی مجموعی اور غالب سیاسی قوت کے درمیان ایک نقطہ اتصال قائم کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے بے وقعت ہونے کا عمل اسی وقت شروع ہوا تھا جب اس معاہدے کے اہم فریق پیپلز پارٹی نے جنرل پرویز مشرف کیساتھ پس پردہ مذاکرات شروع کئے تھے جو ایک این آر او پر منتج تھے۔ بعد میں دونوں طرف سے ہونیوالے حکومتی اقدامات اور یک طرفہ فیصلوں کی وجہ سے اس معاہدے کی روشنائی بتدریج کم ہوتی چلی گئی تھی۔ ہر فریق نے مشکل لمحوں میں دوسرے کو پکارا مگر ہر آواز صدا بہ صحرا ہو کر واپس لوٹ آتی رہی۔ سینیٹ کے چیئرمین کا معرکہ وہ آخری لمحہ تھا جب مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت کا حوالہ دئیے بغیر پیپلزپارٹی کے چیئرمین سینیٹ رضاربانی کو اپنانے کی پیشکش کی تھی مگر آصف علی زرداری نے یہ آواز سنی ان سنی کر دی تھی۔ انہوں نے رضاربانی کی جگہ صادق سنجرانی کی حمایت کا فیصلہ کرکے اپنی سیاست کو بند گلی سے نکالنے کا سامان کیا۔ تاہم خوش آئند عمل یہ ہے کہ خطرات اور افواہوں کے باجود جمہوریت کی گاڑی منزل کی جانب رواں دواں ہے اور سسٹم کی روانی ہی بہت سے مسائل کا حل ہے۔

اداریہ