Daily Mashriq

بلیو ایریا فائرنگ کیس: ملزم سکندر کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

بلیو ایریا فائرنگ کیس: ملزم سکندر کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلو ایریا فائرنگ کیس کے ملزم محمد سکندر کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اپیل پر سماعت کی تھی۔

خیال ہرے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے بلیو ایریا میں فائرنگ کرکےعلاقے کو یرغمال بنانے والے ملزم سکندر کو 16 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے ملزم سکندر پر ایک لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو 6 ماہ مزید قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب کیس میں نامزد سکندر کی بیوی کنول کو عدالت نے باعزت بری کردیا۔

یاد رہے کہ اگست 2013 میں دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت سے نالاں اسلحے سے لیس ایک عام شہری نے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی تھی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

تقریباً پانچ گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران متعدد بار سینئر پولیس افسران نے ملزم سکندر سے مذاکرات کرنے کی کوششیں کی تاہم وہ کامیاب نہیں ہوسکے اور اس دوران وہ اپنے اہلیہ کے ذریعے بھی حکام تک اپنے مطالبات تحریری طور پر پہنچاتا رہا۔

سکندر ہتھیاروں کے ساتھ شام ساڑھے 5 بجے سے رات کے 11 بجے تک جناح ایونیو کے علاقے میں کھڑا رہا تھا، جہاں قریب ہی مصروف تجارتی علاقہ ہے اور اس سڑک کے اختتام پر ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس واقع ہے۔

بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کی مدد سے موقع پر موجود سیکورٹی اہلکار نے ملزم سکندر پر قابو پالیا تھا لیکن وہ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔

سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے پولیس اور انتظامیہ کو یہ ہدایت کی تھی کہ مسلح شخص کو ہر صورت زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے۔

واقعے میں سکندر کی بیوی کنول اور اس کے بچے محفوظ رہے تھے جبکہ اس کی سیاہ رنگ کی گاڑی کو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا تھا۔

واقعے کے بعد ملزم سکندر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سکندر وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ وہ وہ اسلام آباد میں دہشت پھیلانے کے بجائے اپنے بچوں کے ہمراہ پکنک منانے آئے تھے۔

دوسری جانب استغاثی کا کہنا تھا کہ سکندر نے اسلحہ دکھا کر عوام میں خوف و حراس پھیلایا اور جناح ایوینیو میں نظام زندگی کو مفلوج بنائے رکھا تھا۔

متعلقہ خبریں