Daily Mashriq

کرتار پور مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد بھارت روانہ

کرتار پور مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد بھارت روانہ

کرتار پور مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد واہگہ کے راستے بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری کے لیے روانہ ہوگیا۔

وفد میں شامل دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ ملاقات کرتار پور سرحد کو کھولنے کے لیے ہے اور ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر پر بھی سایہ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم مذاکرات میں مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی قدم آگے بڑھائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بابا گرونانک دیو جی کا مزار سکھ برادری کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے اور ساتھ ہی اُمید ظاہر کی کہ ’کرتارپور راہداری سے سکھ برادری کو سہولت اور دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہوگا‘۔

منصوبے کے آغاز اور تکمیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور منصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا تھا اور اس کی تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی جانب سے کرتار پور معاہدے کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزا نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ ’30 سے زائد بھارتی صحافیوں نے گزشتہ سال پاکستان میں کرتارپور کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی تھی‘۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور معاہدے کا پاکستان کی سرحد میں سنگ بنیاد 28 نومبر 2018 کو رکھا تھا جس میں دو بھارتی وزیر اور صوبائی وزیر نے بھی شرکت کی تھی۔

کرتارپور نارووال سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر پاک بھارت سرحد کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔

21 جنوری 2019 کو پاکستان نے بھارت کو معاہدے کا حتمی ڈرافٹ پیش کیا تھا اور پاکستان کے وفد کی 14 مارچ کو بھارت دورہ اور اس کے بعد بھارتی وفد کے پاکستان کے دورے کی پیشکش کی تھی۔

متعلقہ خبریں