Daily Mashriq

افغانستان سے پاکستانی شہریوں کی جلد واپسی یقینی بنائی جائے

افغانستان سے پاکستانی شہریوں کی جلد واپسی یقینی بنائی جائے

دوران آپریشن نقل مکانی کرنے والوں پر افغانستان میں گھیرا تنگ کرنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دو صوبوں پکتیا اور پکتیکا میں افغان فورسز نے پاکستان کی جانب سے متاثرین کی واپسی کیلئے بھیجے گئے فارم پھاڑ دئیے ہیں اور فارم لے جانے والے افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ خوست کے گولان متاثرین کیمپ میں شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ وہ وزیرستان واپس جانا چاہتے ہیں مگر افغان فوج ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے بھی معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو سالوں تک پناہ دی اب بھی ہزاروں افغان مہاجرین پاکستان کی سرزمین پر باعزت طریقے سے نہ صرف رہائش پذیر ہیں بلکہ ان کو کاروبار وروزگار کی پوری آزادی ہے یہاں تک کہ اب ان کو بنک اکاؤنٹ تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس پر بجائے اس کے کہ افغان حکومت ممنون احسان ہوتی وہاں پر بہ امر مجبوری گئے چند خاندانوں کی واپسی ان کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ پاکستانی حکومت پر اپنے شہریوں کا تحفظ سفارتی اور ہر سطح پر فرض ہے اور ان کی واپسی کیلئے اقدامات حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے جس میں افغان فوج کو رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ افغان حکومت اپنے شہریوں کو واپس بلائے اور ہمارے ہم وطنوں کو وطن واپس آنے کی نہ صرف اجازت دے بلکہ ان سے ہر ممکن تعاون کیا جائے۔ اس سے قبل کہ افغانستان میں پاکستانی شہریوں کو مزید تکالیف دی جائیں اور ان کے تحفظ کا سوال اٹھے وزارت خارجہ کو اس ضمن میں افغان حکومت سے بات کرنی چاہئے۔ متعلقہ وزارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں کی جلد سے جلد واپسی میں اپنا کردار ادا کرے اور جلد سے جلد پاکستانی شہریوں کی واپسی یقینی بنائی جائے۔

ویزے کی آسان سہولت کی فراہمی

پاکستان کا آن لائن ویزہ دینے کا امریکی وبرطانوی طرز کا نظام متعارف کرانا پاکستان آنے والے غیرملکی شہریوں کیلئے آسانی کا باعث ثابت ہوگا۔ ویزہ حصول کا عمل 3مراحل میں فوری طور پر مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں ویزہ فیس، درخواست اور دستاویزات آن لائن جمع ہوسکیں گی۔ دوسرے مرحلے میں ویزہ کی کارروائی اور تیسرے مرحلے میں اجراء ہوگا۔ 175ممالک کے شہریوں کو پاکستانی آن لائن ویزہ کی سہولت ملے گی۔ سیاحت اور غیر ملکیوں کی پاکستان آمد کی حوصلہ افزائی کے تناظر میں ہم اگر اس کا جائزہ لیں تو اس کی افادیت واہمیت سیاحت کے فروغ اور غیر ملکیوں کی پاکستان آمد میں اضافہ اور اس سے وابستہ فوائد کا حصول فطری امر ہے لیکن اگر ہم اس معاملے کا جائزہ پاکستان پر گزرے ہوئے حالیہ سالوں کے تناظر میں لیں تو یہ ایک سیکورٹی رسک نظر آئے گا جس کا پاکستان کو تلخ تجربہ ہے۔ پاکستان آنے والے ہر سیاح اور غیر ملکی پر تو جاسوسی اور کسی خاص مقصد ومشن کے تحت آمد کا شک تو مناسب نہ ہوگا لیکن سیاحوں کے روپ میں پاکستان آنے والے ایجنٹوں کی بھرمار کوئی پوشیدہ امر نہیں، اس لئے اس معاملے میں احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کا مشورہ غلط نہ ہوگا۔ ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے جتنے بھی اقدامات کئے جائیں کافی نہیں، سیاحوں کی تعداد میں اضافے پر ان کی نگرانی اور تحفظ کے بہتر انتظامات میں بھی اضافہ ضرور ہوگا۔

پانی کے نلکوں کی رجسٹریشن مہم‘ شہری تعاون کریں

پشاور میں پانی کے کنکشنز کی رجسٹریشن کے پہلے مرحلے میں شہر کی 9یونین کونسلوں میں 65ہزار سے زائد کنکشنز کا اندراج کیا گیا ہے جو مثبت پیش رفت ہے۔ ذرائع کے مطابق تصدیق کا عمل مکمل ہوتے ہی صارفین کو بل کے اجراء کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لاکھوں کی آبادی والے شہر میں ڈھائی لاکھ کنکشنز حقیقت پسندانہ ہدف نہیں البتہ مرحلہ وار اندراج ہوتا رہا تو پانی کے غیر قانونی کنکشنز کو قانونی بنانے اور بلوں کی وصولی ممکن ہوسکے گی جس سے ڈبلیو ایس ایس پی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور کمپنی اپنے وسائل کے استعمال سے اپنے مسائل پر قابو پاسکے گی۔ اس مہم میں عوام کو خود اپنے مفاد میں کمپنی سے تعاون کرنا چاہئے تاکہ کمپنی ان کو آبنوشی کی فراہمی کی خدمات بہتر طور پر انجام دے سکے۔

متعلقہ خبریں