Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

یہ واقعہ بریدہ سعودی عرب میں 1361ہجری میں پیش آیا۔ کچھ لوگ اونٹوں پر سفر کر رہے تھے۔ ان مسافروں میں ابن سمحان اور اس کا بیٹا ابراہیم بھی تھا۔ ان کے بیٹے کی عمر اس وقت تقریباً پندرہ سال تھی۔ موسم انتہائی گرم تھا، موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں باربار پانی پینا پڑتا۔ پانی کا ذخیرہ ان کے پاس کم ہو رہا تھا جبکہ ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا باقی تھا۔ ابن سمحان اس راستے اور راستے میں آنے والے کنوؤں اور تالابوں کے بارے میں بخوبی جانتے تھے۔ ان کی معلومات کے مطابق قریب کوئی بھی کنواں نہیں تھا۔ انہیں پانی کے حصول میں شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ جب ان کے پاس پانی کا ذخیرہ خاصا کم رہ گیا اور ان کیلئے مزید سفر جاری رکھنا مشکل ہوگیا تو انہوں نے قافلے کو ایک جگہ ٹھہرایا اور وہ مفلح سبیعی کو ساتھ لیکر پانی کی تلاش کیلئے روانہ ہوئے۔ تلاش بسیار کے باوجود انہیں پانی نہ ملا۔ انہیں پیاس بھی ستانے لگی‘ پھر وہ خطرناک لمحہ بھی آگیا‘ جب ان کے پاس پانی بالکل ختم ہوگیا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان کی پیاس بڑھتی گئی اور وہ نڈھال ہوگئے۔ بالآخر وہ چلنے پھرنے سے عاجز آگئے اور پھر ان کیلئے کلام کرنا بھی دوبھر ہوگیا۔ وہ صرف اشاروں سے بات چیت کرنے لگے۔ اب سارے ظاہری اسباب ختم ہو گئے تھے۔ صرف اور صرف ایک ہی در کھلا تھا۔ انہوں نے بھی اسی در کی طرف توجہ کی اور بڑی عاجزی وانکساری سے رب تعالیٰ سے التجا شروع کردی کہ وہ انہیں اس گمبھیر صورتحال سے نکالے۔ رب تعالیٰ نے ان کی التجا سنی، دور کہیں سے ایک بادل آیا اور ان کے اوپر یہ بادل کچھ دیر گرجا‘ پھر موسلادھار بارش ہونے لگی۔ پانی کیلئے ترسے ہوئے سیراب ہوگئے۔ انہوں نے خوب جی بھر کر پانی پیا اور پاس موجود مشکیزوں کو بھی بھر لیا۔ پھر واپس آکر اپنے ساتھیوں کو بھی پلایا اور اطمینان کیساتھ اپنے سفر پر رواں دواں ہوگئے۔ رب تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:

ترجمہ: ’’مجبور جب انتہائی لاچاری کے عالم میں پکارتا ہے تو کون اس کی پکار کو سنتا ہے اور اس کی پریشانی دور کرتا ہے۔ اس نے تمہیں زمین میں خلفاء بنایا ہے۔ کیا خدا کے علاوہ بھی کوئی اور معبود برحق ہے۔ تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔‘‘ (بحوالہ: دعاؤں کی قبولیت)

حضرت ابن مسعودؓ کی زندگی کا آخری وقت آیا تو حضرت عثمان ذوالنورینؓ ان کی عیادت کیلئے تشریف لائے‘ پوچھا کیا شکایت ہے؟ فرمایا: اپنی خطاؤں کی شکایت ہے۔ دریافت کیا: کیا چاہتے ہو؟ جواب ملا: خدا کی رحمت، حضرت عثمانؓ نے فرمایا: کیا آپ کو وہ عطایانہ دوں جو کئی برسوں سے آپ نے وصول نہیں کئے؟ فرمایا: مجھے ان کی حاجت نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ کے گھر والوں کو ضرورت ہوگی تو فرمایا کہ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ ہر رات سورۃ الواقعہ پڑھا کریں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر رات سورۃ الواقعہ پڑھ کر سویا کرے تو وہ کبھی فقر وفاقہ کا شکار نہیں ہوگا۔

(مشکوٰۃ المصابیح)

متعلقہ خبریں