Daily Mashriq


بلدیاتی نظام پر سوال اُٹھ رہے ہیں

بلدیاتی نظام پر سوال اُٹھ رہے ہیں

ڈسٹرکٹ اسمبلی پشاور میں اپوزیشن لیڈر نے موجودہ ضلعی حکومت کو تاریخ کی بدترین حکومت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک موجودہ ضلعی حکومت گزشتہ چار سال میں شہر کی ترقی کیلئے ایک بھی میگا پراجیکٹ نہ دے سکی نہ ہی شہر کو خوبصورتی کیلئے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کو رد کرتے ہوئے پرویز مشرف دور کے بلدیاتی نظام کو دوبارہ رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بی آر ٹی منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی نے پشاور کے عوام کو بے حال کر دیا ہے۔ بغیر پی سی ون کے منصوبے کا آغاز کیا گیا ۔ ڈسٹرکٹ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمد سعید ظاہر ایڈووکیٹ نے مزید بھی بہت سے الزامات لگائے ہیں جن پر بقول شاعر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہے ساز

نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کیلئے

تاہم بی آر ٹی پر بات کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ بلدیاتی نظام پر بات کی جائے جس میں صوبائی حکومت ایک بار پھر تبدیلی کرنے جا رہی ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ جو نظام ہم پر تھوپا گیا ہے اس میں بے شمار خامیاں موجود ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تبدیلیوں کی ضرورت کیوں پیش آتی۔ تاہم تبدیلی کے حوالے سے اگر موجودہ نظام میں خامیاں تلاش کرکے انہیں دور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو معاف کیجئے گا جنر ل مشرف دور کے بلدیاتی نظام میں کونسے سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس نظام نے تو اپنے دعوے کے ان الفاظ جو اختیارات کی نچلی سطح تک رسائی پر مبنی تھے کا مذاق بناتے ہوئے کرپشن کو نچلی سطح تک پہنچا دیا تھا۔ مزید یہ کہ وہ ایک عجیب الخلقت نظام تھا جس میں مزدور‘ کسان اور خواتین کی نمائندگی کے نام پر کھلواڑ کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ ہمارے ہاں کسی غریب مزدور اور کسان کو لوگ روزگار اور مزدوری تو بہت دور کی بات ہے خیرات تک دینے کو تیار نہیں ہوتے تو انہیں ووٹ کہاں سے مل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسان اور مزدور کے نام پر بھی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس غیرجماعتی انتخابی معرکے میں اپنے لوگ ہی میدان میں اُتار دئیے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بلدیاتی نظام کیسا اور کیا ہو؟ دراصل موجودہ جو بھی نظام گزشتہ چند برس کے دوران سامنے آئے ہیں ان میں اس قدر پیچیدگیاں ہوتی ہیں کہ یا تو کسی کی سمجھ میں نہیں آتے یا پھر ان سے وہ مقاصد پورے نہیں ہوتے جن کی ان سے توقعات وابستہ کرکے عوام گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالنے اور اپنے لئے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ اگر یورپی آمریت کے دور پر نظر دوڑائی جائے تو کچھ استثنیات کیساتھ ایوبی دور کا بلدیاتی نظام نہ صرف انتہائی سادہ‘ سہل اور کارکردگی کے حوالے سے نہایت عمدہ بلدیاتی نظام تھا۔ اس میں صرف ایک ہی خرابی تھی کہ موصوف نے ملک میں جمہوریت کو کنٹرول کرنے کیلئے اسے استعمال کیا یعنی عام انتخابات کیلئے اس دور کے بلدیاتی نمائندوں جن کی تعداد 80ہزار تھی کو صدارتی نظام‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے بھی الیکٹورل کالج میں تبدیل کر دیا تھا اور انہی نمائندوں کو ہی یہ حق دیا گیا کہ صرف وہی جمہوریت کو ’’فروغ‘‘ دینے کیلئے ووٹ دینے کے مجاز ہوں گے۔ اس نظام کو بنیادی جمہوریت کا نام دیا گیا تھا۔ یوں ایوب خان نے نہ صرف اپنے بطور صدر مملکت منتخب کروانے کیلئے ملک بھر میں عوام کو ایک آدمی ایک ووٹ کے جمہوری اصول کو مسترد کرتے ہوئے بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت منتخب شدہ 80ہزار نمائندوں کو ووٹنگ کی اجازت دی جبکہ اس بلدیاتی نظام کو عام لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے بہت سے اختیارات دئیے گئے۔ اس نظام کے تحت مختلف علاقوں میں یونین کونسلز قائم کی گئیں جن کے ممبران اپنے لئے ایک چیئرمین منتخب کرتے‘ یہ چیئرمین آگے میونسپل کمیٹی یا میونسپل کارپوریشن کے اجلاسوں میں اپنی اپنی یونین کونسل کے جملہ مسائل پر بحث کرتے‘ ترقیاتی منصوبے منظور کرواتے‘ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے گھریلو مقدمات یا جھگڑے انہی کونسلز کی سطح پر ہی حل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور فریقین کو عدالتوں میں خوار ہونے اور مقدمات پر بھاری اخراجات سے نجات ملتی۔ غرض یہ ایک نہایت کارآمد نظام تھا اس لئے اگر اسی نظام کو آج کے حالات سے مطابقت کے حوالے سے معمولی رد وبدل کیساتھ رائج کیا جائے نہ کہ اس کے تحت منتخب نمائندوں کو آگے جمہوری نظام چلانے یعنی عوام کی بجائے صرف انہی کو ووٹ پول کرکے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندوں کو چننے کا اختیار سونپ دیا جائے جو غیرجمہوری رویہ ہوگا تو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں مگر معاف کیجئے گا ہماری مثال اس غریب شخص کی طرح ہے جس کی اذان پر کلمہ پڑھنے والا کوئی نہیں ہوتا‘ پھر بھی بقول خالد خواجہ

فضول بحث کا دروازہ کھول دیتا ہوں

خموش رہ نہیں سکتا ہوں بول دیتا ہوں

رہ گئی بات بی آر ٹی کی تو مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ منصوبہ تحریک انصاف کے لیڈروں کیلئے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا بن چکا ہے۔ کوئی اچھی بات بھی کرے‘ بہتر تجویز بھی دے تو ان کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے میں اس قدر کمزوریاں در آئی ہیں‘ اتنے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں کہ اس حوالے سے یہ لوگ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں عوام بلا کم وکاست اس کو سچ جانیں اور آنکھیں بند کرکے اس پر یقین کریں۔ اب اگرچہ صورتحال ایک بار پھر واضح ہو کر حالات کی درست تصویر دکھا رہی ہے اور ایک بار پھر اس کے افتتاح کیلئے 23مارچ کو حتمی قرار دیا جا رہا ہے‘ بصورت دیگر متعلقہ حکام کو تنبیہہ تک جاری کی گئی ہے تو دعا ہے کہ اس تاریخ میں مزید تبدیلی نہ ہو‘ حالانکہ محمد سعید ظاہر ایڈووکیٹ نے اسے بھی چیلنج کرتے ہوئے مزید ایک سال تک اس کی تکمیل پر سوال اٹھا دئیے ہیں‘ مگر پھر بھی شبھ شبھ بولو پر عمل کرتے ہوئے ہم کو مثبت گمانی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں