Daily Mashriq

احساس ذمہ داری

احساس ذمہ داری

اگر اخبارات کے حوالے سے کہا جائے کہ ان کی مثال اس آئینے جیسی ہے جس میں سب کو اپنی شکل نظر آتی ہے تو شاید نامناسب نہیں ہوگا۔ بات شاید اتنی واضح نہیں ہے اسے دوچار مثالوں کی مدد سے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے ڈبلیو ایس ایس پی نے پہلے تو ان لوگوں پر جرمانے عائد کئے جو سڑکوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنے کے مرتکب ہوتے ہیں اب دوسرا اہم فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ جن گھروں سے کوڑا کرکٹ گلیوں میں پھینکا جاتا ہے اب ان پر بھی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس لئے بھی خوش آئند ہے کہ ہمارے معاشرے میں اپنی رہائشی گلیوں میں گند ڈالنا اور کوڑا کرکٹ پھینکنا کوئی نامناسب بات ہی نہیں سمجھی جاتی۔ ہر دوسرے دن اس قسم کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں لیکن اس کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ لوگ بڑے آرام سے اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ اپنی ہی گلی کے کسی چوراہے میں خاموشی سے ڈال کر چلتے بنتے ہیں انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اس سے ہمارا محلہ بدصورت نظر آتا ہے، ہماری ہی گلی سے بدبو کے بھبکے اُٹھتے ہیں۔ اپنی گلیوں کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں میں تبدیل کرکے ہم باہر سے آنے والے مہمانوں کو کیا پیغام دیتے ہیں وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہی کہ ان لوگوں میں صفائی نام کو بھی نہیں ہے، انہیں تہذیب چھو کر بھی نہیں گزری! ہمارے پیارے شہر پشاور کی آج کی صورتحال پر نظر پڑتی ہے تو دل اداس ہوجاتا ہے، کچھ اس قسم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں ’’پشاور میں راہزنی کی وارداتیں، نقدی اور موبائل چھین لئے گئے۔ کاکا خیل ٹاؤن، بھانہ ماڑی اور ہشتنگری چوک سے تین موٹر سائیکلیں چوری، تمام وارداتوں کے ملزم فرار‘‘۔ ظاہر ہے کہ تمام وارداتوں کے ملزموں نے فرار ہی ہونا ہوتا ہے۔ ہماری پولیس کی مصروفیت اتنی زیادہ ہے کہ انہیں ان ملزموں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ پشاور شہر کے چوراہوں پر کھڑے ہماری جان ومال کے محافظ موٹر سائیکل سواروں کے کا غذات کی جانچ پڑتال کرتے رہتے ہیں (یہ ٹریفک پولیس کا کام ہے) ہم نے ایک تھانیدار سے جب درد دل بیان کیا تو وہ فرمانے لگے کہ جناب پولیس بھی کیا کرے ہم جن تو نہیں ہیں کہ ہر جگہ پہنچ جائیں۔ پشاور شہر کی آبادی بے تحاشہ بڑھ چکی ہے لاکھوں کی آبادی کے اس شہر میں اگر دوچار وارداتیں ہو جائیں تو کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا کہ جناب بہت سی ایسی وارداتیں بھی ہوتی ہیں جو رپورٹ ہی نہیں کی جاتیں لوگ اتنے مایوس ہوچکے ہیں کہ انہیں تھانے میں رپورٹ درج کرواتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ پولیس تفتیش کے نام پر انہیں اتنا تنگ کرتی ہے کہ انہیں لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں کچھ عرصہ پہلے ایک بیکری والے سے گن پوائنٹ پر راہزن نقدی چھین کر لے گئے تھے اس نے کسی سے مشورہ کئے بغیر تھانے میں رپورٹ درج کروا دی۔ وہ اس خوش فہمی میں تھا کہ گن پوائنٹ پر چھینی گئی رقم واپس مل جائے گی۔ تھانیدار نے بیکری والے کیساتھ ہونے والے ظلم کا بڑی سختی سے نوٹس لیا، وہ شام کے وقت دو تین سپاہیوں کیساتھ بیکری پر تفتیش کی غرض سے پہنچ جاتے بیکری والا ان کی گرماگرم چائے اور دوسرے لوازمات سے خوب خاطر تواضع کرتا۔ لٹنے والے دکاندار کا کہنا ہے کہ راہزن اتنی رقم نہیں لے گئے تھے جتنے روپوں کی چائے پولیس والے نوش جاں کرگئے۔ اس سارے قصے کو سن کر کسی صاحب کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ وہ تھانے میں رپورٹ ہی درج نہ کرواتا۔ تو جناب گزارش یہ ہے کہ یہ تو کوئی مسئلے کا حل نہیں ہے ایسی بہت سی وارداتیں بڑے تواتر کیساتھ ہوتی ہیں جن کی رپورٹ درج نہیں کروائی جاتی، لوگ عزت سادات بچانے کیلئے تھانہ کلچر سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں! تھانہ کلچر کی تبدیلی کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے تھانوں کی مجموعی صورتحال اب بھی بڑی خراب ہے۔ خواتین کے تاریخی بازار مینابازار میں جیب تراشی کی وارداتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں ان وارداتوں میں خواتین ہی ملوث ہوتی ہیں۔ خواتین کے اس تاریخی بازار میں زنانہ پولیس کی موجودگی بہت ضروری ہے لیکن اس پر بھی کوئی زیادہ توجہ نہیں دیتا۔ دکاندار کئی مرتبہ جیب تراش خواتین کو دوران واردات رنگے ہاتھوں پکڑ بھی لیتے ہیں لیکن اس مقام پر ان کے پر جلتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ صنف نازک کے احترام میں وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے! آج کل بہت سی وارداتیں سواریوں والی ٹیکسیوں میں بھی بڑے دھڑلے کیساتھ کی جاتی ہیں، ڈرائیور عقبی نشست پر دو جیب تراش بٹھا کر کسی خوش لباس کھاتے پیتے شخص کو ان کے درمیان بٹھا دیتا ہے، جب وہ اپنی منزل مقصود پر اترتا ہے تو اس کی جیب کٹ چکی ہوتی ہے! کالم کے آغاز میں ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔ شہر کی صفائی اور نالیوں کو ہر قسم کے گند سے پاک صاف رکھنا ان کی ذمہ داری ہے تاکہ نکاسی کے نظام میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے۔ تین دن پہلے پشاور میں صرف ایک دن موسلادھار بارش ہوئی اور سارا شہر ایک بپھرے ہوئے دریا کا منظر پیش کرنے لگا، گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا، ہر طرف ٹریفک جام کے مناظر نظر آنے لگے! بس ذرا سے احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ ارباب اختیار کے پاس ان مسائل کا حل نہ ہو!

متعلقہ خبریں