Daily Mashriq

میں ہوں پتنگ کاغذی

میں ہوں پتنگ کاغذی

یکہ توت منڈی بیری، یہ پشاور شہر کا گنجان آباد اور مصروف روزگار علاقہ ہے۔ ان دنوں یہاں پتنگ فروشوں کی بہت بڑی ہول سیل مارکیٹ چل رہی ہے۔ فصل خزاں کے اختتام اور فصل بہار کی آمد پر جشن بہاراں کا آغاز اس مارکیٹ کی رونقوں سے شروع ہوتا ہے اور اس مارکیٹ کے ہنگاموں پر ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں پشاور اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ دور پار کے شائقین آکر اپنی مرضی اور منشاء کی پتنگیں، ڈور اور دیگر مصنوعات خریدتے ہیں۔ پتنگ کی ڈور کو مانجھے کے علاوہ موچی تار اور کیمیکل کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پیچ لڑانے والے پتنگ باز یہاں آکر مہنگے سے مہنگا کیمیکل منہ مانگا دام دے کر خریدتے ہیں۔ پتنگ اُڑانے والے موچی تار اور کیمیکل کے علاوہ سیم کی تار سے بھی پتنگ بازی کرتے ہیں جس کی وجہ سے گلا کٹنے جیسے خطرناک اور جان لیوا نتائج بھی سامنے آجاتے ہیں اور یوں پتنگ بازی کا شوق اور پیشہ دونوں سخت تنقید کا شکار ہونے لگتے ہیں اور یوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پتنگ بازی پر پابندی عائد ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں یکہ توت منڈی بیری کے تاجروں کو اپنا کاروبار چھپ چھپا کر یا قانون کے محافظوں سے مل ملا کر جاری رکھنا پڑ جاتا ہے۔ جشن آمد بہار کو بسنت کا تہوارکہا جاتا ہے، حالانکہ بسنت کا موسم مارچ کے وسط یا چیت کے مہینے میں شروع ہوتا ہے لیکن اس کے آثار فروری ہی کے مہینے میں نظر آنے لگتے ہیں، بسنت منانے والے پتنگ بازی کے سیزن کے دوران ایک رات کا تعین کرکے اسے بسنت رات کا نام دیتے ہیں جس کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی ہے۔ اپنے اپنے علاقوں میں بسنت منانے والے سرچ لائٹوں اور برقی قمقموں کے ذریعے فضا کو یوں روشن کرتے ہیںکہ دن کا گمان ہونے لگتا ہے، رات کے اندھیرے میں ہوا میں اڑتی رنگ برنگی پتنگیں، گڈیاں، گڈے، فرفرے، فرفریاں، ڈھال، پریاں، اک اکھا، دو اکھا، رات کے اندھیرے میں اپنی ڈور سمیت نظر آنے لگتے ہیں۔ شور شرابا، ہنگامہ، دھونس دھمکیاں، پیچک دھاریاں، گالم گلوچ، آوازے، ڈھول تماشے، ڈی جے موسیقی، بوکاٹا کے نعرے، ہوائی فائرنگ، ہنگامے اور ہر قسم کی ہلڑ بازی اور قباحتوں کو بسنت کے تہوار کی جزیات کا نام دیا جاتا ہے، ہندوؤں اور سکھوں کا تہوار ہے۔ بسنت کا نام سنتے ہی ناک بھوں چڑھانے والے بسنت منانے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن عقل والوں کے اس طعنے کو پتنگیں اڑانے والے زندہ دلان پشاور یا لاابالی پتنگ باز خاطر میں نہیں لاتے، وہ اپنی دھن میں مست یکہ توت منڈی بیری سے اپنی من پسند پتنگیں، مانجھا ڈور، چرخیاں، گوٹیں خرید کر لیجاتے ہیں اور اُڑتی پتنگوں کیساتھ خود بھی ہوا کے دوش پر اڑنے لگتے ہیں اور نصیب دشمناں ہمیں سننے اور پڑھنے کو یہ خبر بھی ملتی ہے کہ فلاں محلے، گاؤں، دیہہ یا بستی میں کوئی بچہ پتنگ اُڑاتے ہوئے مکان کی چھت سے گر کر اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کر گیا یا اللہ بچائے کوئی شامت مارا پتنگ کی ڈور سے اپنا گلا کٹوا کر اللہ کو پیارا ہوگیا۔ ہمارا آبائی مکان یکہ توت منڈی بیری میں ہے، والد بزرگوار سخت گیر تھے ان کی جلالی طبیعت کے سبب ہم یکہ توت منڈی بیری کے باسی ہوتے ہوئے بھی پتنگ بازی کی علت پوری نہ کرسکتے تھے سو ہم نے اس کا یہ حل نکالا کہ بازار سے چند پتنگیں خرید لاتے اور گھر والوں سے نظریں بچا کر کوٹھے کی چھت پر چڑھ جاتے اور خریدی ہوئی پتنگوں میں سے ایک پتنگ اٹھا کر یکہ توت منڈی کے بازار میں پھینک دیتے۔ چاولوں کی لئی میں پسے ہوئے کانچ کو ڈال کر اسے موچی تار پر لیپ کر کے ہماری گلیوں کے پتنگ باز مانجھا بنا لیتے تھے جسے وہ گڈی گڈے یا پتنگ کی ڈور کے طور استعمال کرتے اور پیچ لڑا کر بوکاٹا کا نعرہ لگانے کا جواز پیدا کرتے۔ بڑا عجیب اور دل پذیر شوق ہے پتنگ بازی کا لیکن بڑے بزرگ اس شوق کو اچھا شوق نہیں سمجھتے۔ اسے وقت اور پیسے کا زیاں سمجھتے ہیں، بسنت کو ہندوانہ رسم کہہ کر پتنگ بازوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، اصل میں وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ ہوائی جہازوں کو ان کی پرواز کے دوران پتنگ بازی ہی کے اصولوں پر ہوا میں موڑا اور متوازن رکھا جاتا ہے۔ ان کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ فیراڈے نے پتنگ اُڑا کر بادلوں میں موجود برق سکونی کا انکشاف کیا تھا اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مارکونی نے اپنی ریڈیائی نشریات کا آغاز پتنگ کی ڈور کا انٹینا بنا کر کیا تھا۔ گراہم بیل نے ٹیلی فونک پیغامات بھیجنے کیلئے بھی پتنگ بازی کا سہارا لیا تھا اور فضاؤں میں تیرنے والے گلائیڈرز بھی پتنگ بازی کے اصولوں کی پیروی میں فضاؤں میں اُڑان بھرتے نظر آتے ہیں۔ چین اور جاپان جیسے ملکوں کے پتنگ باز ڈریگن دیوتا کو فضاؤں میں بلند کرکے اپنی مذہبی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور جس وقت ہم ان کی پتنگ بازی سے وابستہ مصنوعات کا مطالعہ کرتے ہیں تو انگلیوں کو دانتوں تلے دبانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ لوگ ریشمی کپڑے اور چکا چوند روشنیوں سے مزین پتنگیں فضا میں بلند کرتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سماتے، ان کی پتنگیں نہ صرف فضا میں بلند ہوتی ہیں بلکہ گاتی بجاتی موسیقی کا ترنم بھی فضاؤں میں بکھیرتی رہتی ہیں۔ ہم دل پشوری کرنے کے بہانے ٹشو پیپرز یا کاغذی پتنگیں اڑانے لگتے ہیں تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے کیا خوب کہا ہے نظیر اکبر آبادی نے کہ

میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور اس کے ہاتھ میں

چاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا

متعلقہ خبریں