Daily Mashriq


سانحہ مستونگ

سانحہ مستونگ

اگرچہ بلوچستان میں بم دھماکوں' فرقہ وارانہ قتل و غارت گری اور ناراض عناصر کی کارروائیوں پر قابو پالیاگیا ہے۔ بلوچستان میں نو ماہ میں ہونے والے واقعات کا ایک اجمالی جائزہ لیا جائے تو سانحہ مستونگ نو ماہ کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کا چوتھا بڑا واقعہ ہے۔ نو ماہ میں چار بڑے واقعات میں 232 جاں بحق جبکہ 339 زخمی ہوئے۔ 8اگست 2016ء کو سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں 80افراد جاں بحق ہوئے۔ دوسرا دلخراش واقعہ 25 اکتوبر 2016ء کو پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں رونما ہوا جس میں دہشت گرد پی ٹی سی کی عقبی دیوار پھلانگ کر با آسانی اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کا تیسرا بڑا واقعہ 12نومبر 2016ء کو ضلع خضدار تحصیل وڈھ میں درگاہ شاہ نورانی میں ہوا۔ اس خود کش حملے میں 54 سے زائد معصوم شہری جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 12مئی 2017ء کو رونما ہونے والا سانحہ مستونگ بلوچستان میں گزشتہ نو ماہ کے دوران دہشت گردی کاچوتھا بڑا واقعہ ہے جس میں 25افراد شہید اور 30زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ڈپٹی چیئر مین سینٹ مولانا غفورحیدری بھی شامل ہیں۔گزشتہ نو ماہ کے دوران بلوچستان میں ہونے والے بڑے واقعات سے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ بلوچستان میں ابھی حالات پر قابو پانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ کسی بھی بڑے واقعے کے بعد اس قسم کا بیانیہ اب از بر ہوچکا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا۔ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے اور واقعے میں را کاہاتھ ہوسکتا ہے یا پھر یہ این ڈی ایس کی بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ دھماکہ دہشت گردی تھی اور دہشت گردوں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالا جائے گا اور اس طرح کے دو چار روایتی جملے۔ مولانا غفور حیدری پر حملے کو عینی شاہدین ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ قرار دے رہے ہیں جبکہ علاقہ ڈی پی او بضد ہیں کہ حملہ خود کش تھا۔ ممکن ہے ا ن سطور کی اشاعت تک ان کا سر ملنے کے بعد ڈی این اے کے لئے بھجوایا بھی جا چکا ہو ۔یہ بھی معمول کی کارروائی کا حصہ ہی ہوا کرتا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب اتفاق سے پاک افغان سرحد کئی دنوں سے بند ہے۔ ایسے میں اس امکان کو رد ہی کیا جانا چاہئے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے ہوں گے۔ اگر یہ کہاجائے کہ وہ پہلے سے آکر موقع کی تاک میں تھے تو پھر اس سے مزید سوالات جنم لیں گے۔ ہمارے پاس اس امر کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں کہ حملہ آوروں کی افغانستان سے آمد ہوئی تھی یا نہیں ہمیں اس دعوے کو جھٹلانے کا نہیں رد کرنے کا ضرور حق حاصل ہے اور یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر سرحد پار سے آکر حملہ کرنے والوں کی اس طرح لائن کیسے لگی ہے کہ ان کی روک تھام ممکن نہیں۔ یقینا پکڑے بھی جاتے رہے ہوں گے سیکورٹی فورسز نے انہی دنوں افغانستان پکتیا سے آنے والی بارود سے بھری گاڑی کو کرم ایجنسی کی سرحد پر اڑا دیا۔ ہمارے تئیں اگر سارے حملہ آور بھی افغانستان سے داخل ہو رہے ہیں تو ان کو روکا جائے ان کو موقع پر اڑا دیا جائے اور اگر وہ کسی جگہ دھماکہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس کا ٹھوس شواہد کے ساتھ افغانستان کی حکومت سے رابطہ بھی کیا جائے ۔ احتجاج بھی کیا جائے مگر اس میں راز داری برتی جائے تاکہ خطے کے دونوں ممالک کے درمیان ہر وقت کشیدگی جنگ و جدل اور الزامات کے تبادلے سے پیدا ہونے والا تنائو کا عمل شدت اختیار نہ کرجائے اور عوامی سطح پر نفرت کی جو فضا پھیل جاتی ہے اس میں کمی آئے۔ دوم یہ کہ ہر حملہ خود کش نہیں ہوتا مگر اسے خود کش حملہ قرار دیا جاتا ہے یا بنا دیا جاتا ہے۔ اب تو عوامی سطح پر اس طرح کی بحث ہونے لگی ہے کہ وہ جو فلاں خود کش حملہ ہوا تھا وہ خود کش حملہ نہیں بلکہ دھماکہ تھا۔ اپنے اس دعوے کی تاویل بھی دی جاتی ہے یقینا ہر بار دہرائے جانے والا عمل اور دعویٰ قابل اعتماد نہیں رہا کرتا اورکچھ اطلاعات اور معلومات عوام تک بعض ایسے ذرائع سے بھی پہنچتی ہیں جو ریاستی اداروں کی معلومات اور شواہد سے کم مستند نہیں ہوتیں۔ ویسے بھی نفسیاتی طور پرعوام حکومتی اداروں کے سچ پر عوامی مبالغے کو زیادہ درست سمجھتے ہیں۔ شاید یہ ماحول کے اثرات ہیں یاپھر عوامی تجربہ و نفسیات کا اس میں عمل دخل ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری پر ہونے والا حملہ خود کش تھا یادھماکے سے ان کو اڑانے کی کوشش تھی اس سے قطع نظر یہ امر بھی باعث توجہ ہے کہ ان پر حملہ کیوں اور کس نے کیا۔ ان کو نشانہ کیوںبنایاگیا اس کامقصد کیا تھا۔ عبدالغفور حیدری ایک متوازن اور معتدل شخصیت کے مالک عالم دین اور سیاستدان ہیں۔ بطور ڈپٹی چیئر مین سینٹ ان کو خطرات ضرور ہوں گے اوراس سے ان کو بھی وقتاً فوقتاً باخبر رکھنے کی شنید ہے۔ اس واقعے میں جو بھی عناصر ملوث ہوں ان کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالنے کی ذمہ داری حکام کو نبھانا ہوگی اس کے لئے اولاً حملے کے حوالے سے درست معلومات اکٹھی کرکے اس کاتعین کرنا ہوگا اگر یہ خود کش حملہ نہیں ہے تو اسے خود کش حملہ قرار نہ دیاجائے ۔ دھماکہ سے کسی کی جان لی جائے یا اپنی جان ہلاک کرکے دوسروں کی جان لی جائے یکساں قابل صد مذمت امور ہیں۔

متعلقہ خبریں