ولی خان یونیورسٹی کھولنے کی تیاریاں

ولی خان یونیورسٹی کھولنے کی تیاریاں

توہین رسالت کے الزام میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں طالب علم کے قتل کے افسوسناک واقعے کے بعد بند ہونے والی یونیورسٹی کے کھلنے سے قبل پرو وائس چانسلر کی تقرری اور دیگر انتظامات قابل اطمینان امور ہیں۔ یونیورسٹی میں یقینا سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے جس کاانتظام بھی کرلیا گیا ہوگا۔ اس کے باوجود بھی یونیورسٹی کے ماحول کو کشیدگی سے بچانے اور طالب علموں کو پر امن تعلیمی ماحول اور ساز گار فضا کی فراہمی کے لئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اولاً کوئی مشکل کھڑی نہیں ہوگی اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس سے بہتر طریقے سے نمٹا جاسکے۔ ہمارے تئیں یہ پرو وائس چانسلرکا امتحان ہوگا کہ وہ یونیورسٹی کے ماحول کو پر امن رکھتے ہوئے مشال قتل کیس کے محرکات کے ضمن میں بھی اپنے حصے کا کام انجام دیں۔ مشال کے والد کا یہ بیان فکر انگیز اور پرو وائس چانسلر سمیت دیگر تمام متعلقین اور اداروں کے لئے اہم ہے کہ مشال قتل کیس کے فنکار تو پکڑے گئے ہدایتکاروں کے خلاف کارروائی باقی ہے۔ مشال قتل کیس کے ہدایت کار یونیورسٹی کے اندر ہی تلاش کئے جاسکتے ہیں اور جامعہ کی چار دیواری کے اندر ہی ہدایت کاروں کو تلاش کیاجانا چاہئے۔ اگر بیرونی عناصر تک بات جاتی ہے تو بھی اس سے گریز نہیں کیاجانا چاہئے۔ اس نوعیت کا واقعہ گہرے اثرات رکھتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس طرح کے واقعے سے متاثر ہو کر دیگرہدایتکاروں کی بھی اس کی نظیر قائم کرنا نا ممکن نہیں۔ ولی خان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر یونیورسٹی میں ہونے والی غیر قانونی بھرتی اور نوکریوں کی منڈی لگانے والوں سے ناواقف نہیں ہوں گے اور نہ ہی کرپشن و بد عنوانی کے واقعات ان سے چھپے ہوئے ہوں گے۔ کم از کم ان کو اس کا اندازہ ضرور ہوگا اب یونیورسٹی کے انتظامی سر براہ کے طور پر ان کی ریکارڈ تک رسائی بہ آسانی ہوگئی ہے تو وہ ریکارڈ کی مدد بھی لے سکتے ہیں جس کی روشنی میں وہ نیب اور متعلقہ اداروں کو معلومات فراہم کرسکتے ہیں اور جن امور پر داخلی طور پر تادیب ممکن ہو ان کے خلاف خود انتظامی کارروائی کرسکتے ہیں۔ ان کو اس ضمن میں صرف اس وجہ سے دبائو میں نہیں آنا چاہئے کہ یونیورسٹی میں مشال کے قتل کے ہدایتکار اور کردار موجود ہیں۔

اداریہ