Daily Mashriq


تحفظ ماحولیات کے محکمے کی صفر کارکردگی

تحفظ ماحولیات کے محکمے کی صفر کارکردگی

ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے احکامات پر محلہ جنگی میں مختلف پریسوں کا معائنہ اور ماحولیاتی ضابطہ اخلاق و قوانین کی خلاف ورزی پر بعض پرنٹنگ پریسوں کے خلاف کارروائی اس صورت میں احسن اقدام ہوتا اگر یہ عدالتی احکامات کی بجائے محکمہ ماحولیات کے حکام خود کرتے۔ اس کارروائی کو تو عدالتی احکامات کی تعمیل کی مجبوری ہی قرار دیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لوگوں کو سرکاری اداروں کے عمال کو فرائض یا د دلانے اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کے لئے عدالت سے ہی رجوع کرنا پڑے گا۔ آخر تحفظ ماحولیات کا ادارہ از خود کارروائی کب کرے گا۔ گزشتہ روز حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ کے کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے دھویں سے شاہ کس اور ارد گرد کے مکینوں کے بے ہوش ہو جانے کا واقعہ سنگین اور غفلت کی انتہا ہے مگر اس کے باوجود محکمہ ماحولیات کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں۔ حیات آباد میں کسی بھی گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر سر بفلک دھوئیں کو اٹھتے پھیلتے اور وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے با آسانی دیکھا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں بھی وہاں پر آلودگی دور سے ہی دکھائی دیتی ہے۔ اگر کسی کو نظر نہیں آتا تو وہ متعلقہ حکام کو کہ وہ ان فیکٹری مالکان کو ماحولیاتی تحفظ کے ضابطہ اخلاق سمجھائیں ۔متعلقہ حکام نے توجہ نہ دی تو صرف شاہ کس کاعلاقہ ہی نہیں بلکہ حیات آباد میں بھی کوئی سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ حیات آباد میں ماحولیاتی آلودگی واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے لیکن متعلقہ حکام کو کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی پی ڈی اے اس بارے میں مشوش ہے۔

متعلقہ خبریں