Daily Mashriq


''اچھے ''دہشت گرد کے غم میں گھلتی جمہوریت

''اچھے ''دہشت گرد کے غم میں گھلتی جمہوریت

ملک میںخود مذمتی اور خود ملامتی کے شوق میں مبتلا دانشوروں کا ایک گروہ ہمیشہ امریکہ کا بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان پراچھے اور برے طالبان کی تفریق روا رکھنے کا الزام عائدکر تا چلا آیاہے۔ ان کے خیال میں دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اچھے اور برے کی دوعینکیں رکھتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں دہشت گرد اور شدت پسند کو دیکھنے کے لئے ایک عینک مستعمل ہی نہیں رہی۔ اب دنیا کے ہر ملک اور سیاسی اور عسکری اتحاد کے پاس دو الگ الگ پیمانے اور معیار ہیں ۔جو بندوق بردار ایک طاقت کا وولن ہے وہ دوسرے ملک کا ہیرو ہے ۔بہت ہی غیر جانبداری اپنائی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک اچھا دہشت گرد ہے تو دوسرا برا۔ بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو ہی لیجئے جو اس وقت کال کوٹھڑی میں موت کا انتظار کر رہا ہے ۔پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو کی بنے گئے دہشت گردی کے جال اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بے پناہ جانی ومالی نقصان کی فائلیں موجود ہیں مگر بھارت کی وزیر خارجہ کے نزدیک وہ بھارت ماتا کا بیٹا ہے گویا کہ وہ بھارت کا ''اچھا ''دہشت گرد ہے ۔بھارت اپنے اس ہیرو کی جان بچانے کے لئے ہر حیلہ اور حربہ اختیار کررہا ہے کیونکہ وہ بھارت کی حکمران کلاس کے سینے پر سانپ کی طرح لوٹنے والے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی سرگرمیوں کا نگران تھااور بھارت اس منصوبے تلے اپنی انا کو کچلتا ہوا دیکھ اور محسوس کر رہا ہے ۔اس تڑپ اور بے چینی کا ایک اہم موڑ یہ ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی رہائی کے لئے ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا اور عالمی عدالت سے استدعاکی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان تمام ممکنہ راستوں پر غور کرنے سے پہلے کلبھوشن یادیو کو پھانسی نہ دے۔ خود بھارتی اداروں نے یہ کہنا شروع کردیاتھا کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے جبکہ بعد میں عالمی عدالت انصاف نے ایسے کسی حکم امتناعی کی تردید کی البتہ دونوں ملکوں کو اپنا موقف پیش کرنے کے لئے ہیگ طلب کر لیا ہے ۔پاکستان بھی اس حوالے سے اپنا مقدمہ تیار کرچکا ہے ۔کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر سزائے موت سنارکھی ہے۔ کلبھوشن یادیو کے معاملے کو ہیگ تک پہنچانے کی کہانی بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے ''بھارت کلبھوشن کی جان بچانے کے لئے ہیگ کیسے پہنچا '' کے عنوان سے بیان کی ہے ۔جس میںمضمون نگار شبھجیت رائے کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان سے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر سیاسی اور سفارتی چینلوں سے رابطہ رکھے ہوئے تھا۔اس سلسلے میں قانونی کارروائی کا امکان تو اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب لاہور بار ایسوسی ایشن نے کلبھوشن یادیو کا کیس لڑنے والوں کو سختی سے متنبہ کیا تھا کہ ایسا کرنے والوں کی رکنیت معطل کی جائے گی ۔تاہم اس کے باوجود بھارت کلبھوشن تک قونصلر سطح کی رسائی کا مطالبہ کر رہا تھا ۔کلبھوشن کی ماں کی ویزے کی درخواست پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تک پہنچائی جا چکی تھی ۔دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو کلبھوشن کی چارج شیٹ اور دوسرے کاغذات فراہم کرنے کا کہہ دیا گیا تھا تاکہ مقدمہ لڑنے کی صورتیں نکالی جائیں۔ اسلام آباد میںبھارتی ہائی کمیشن میں موجود بھارتی ڈیفنس ایڈوائزر کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ اس حوالے سے پاکستانی فوج کا عندیہ معلوم کر ے۔ چنانچہ آئی ایس پی آر کے ترجمان سے ٹویٹ واپس لینے کی پریس کانفرنس میںکلبھوشن سے متعلق سوال پوچھا گیا تو فوج کے ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کلبھوشن کی سزا حتمی ہے اور یہ تمام کارروائی مکمل اور تقاضے پورے کرنے کے بعد سنائی گئی ہے ۔جس کے بعد بھارت نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔بھارتی اخبار کی بیان کردہ کہانی میں بھارتی تاجر سجن جندال کی پاکستان میں آمد کا کوئی ذکر نہیں تاہم اس سے انداز ہ ہورہا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کے ایک نیٹ ورک کے سرپرست کے غم میں اپنی جمہوریت اور امن پسندی کو کیسا روگ لگائے بیٹھا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت ہو یا وہ کسی جیل میں سڑھ سڑھ کر ''سپاہی مقبول حسین ''بن کر رہ جائے مگر اس کا نام اور وجود بھارت کے لئے مکافات عمل ہے۔بھارت نے کئی عشروں سے دہشت گردی کے نام پر پاکستان کے خلاف الزامات کی وہ گرد اُڑائی ہے کہ ایک دور میں پاکستان کا چہرہ پہچاننا مشکل ہوگیا تھا ۔بھارت خود کو سب سے بڑی جمہوریت اور ایسی مظلوم سیکولر ریاست بنا کر پیش کرتا رہا جسے پاکستان اور اسلامی شدت پسندی کا سامنا ہے اور جو وجہ بے وجہ بھارت کے وجود پر زخم لگاتی ہے ۔اب بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس کرنل کی پاکستانی حدود میں گرفتاری سے یوں لگ رہا ہے کہ پاکستان کا پائوں بھارت کی دُم پر پڑ گیا ہے ۔دنیا میں خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے والا بھارت کلبھوشن کی شکل میں ایک ظالم کے روپ میں سامنے آرہا ہے ۔جب بھی کلبھوشن کا نام آتا ہے تو اس کے تعارف میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ بھارت کا کرنل ہے اور پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔پاکستانی فوج کو دہشت گردوں کی سرپرست ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے بھارت کی فوج کی دہشت گردی کا یہ کھلا ثبوت ہے ۔ دنیا اس پر منافقانہ رویہ کب تک اپنا سکتی ہے کہ دہشت گردی صرف وہی ہوتی ہے جو پاکستان کا کوئی شخص یا گروہ بھارت کے خلاف کرے اور اگر بھارت کی فوج کا افسر ایسی کارروائی کرے تو بھولا بھٹکا راہی یا بھارت ماتا کا بیٹا بن جاتا ہے۔یہ تو اچھے اور برے دہشت گرد کی لکیر ہوئی۔کلبھوشن یادیو کے غم میں صرف بھارت اکیلا ہی گھلا نہیں جا رہا بلکہ علاقے کے کئی اور ملک بھی'' کلبھوشن لورز''فورم بنا کر پاکستان کو دھمکانے میں مصروف ہیں۔اس طرح پاکستان کا دہشت گرد اور کلبھوشن یادیو بھارت سمیت کئی طاقتوں کا لاڈلا ہے۔یوںاچھے اور برے کی عینک تو پھریہاں صاف دکھائی دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں