Daily Mashriq


ہم ترستے رہے چاندنی کے لئے

ہم ترستے رہے چاندنی کے لئے

اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے' سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی سمیت غیر قانونی رویت ہلال کمیٹیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے رمضان یا عید کا غیر سرکاری طور پر اعلان کرنے والے خطیب یا امام مسجد کو ایک سال قید اور 2 سے 5لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کمیٹی کے چیئر مین حافظ حمداللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کی بھی سفارش کردی ہے جبکہ چاند نظر آنے کا اعلان جلدی کرنے کے چکر میں پہل کرنے والے ٹی وی چینل کو دس لاکھ روپے جرمانہ کرنے اور چینل کا لائسنس معطل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل اور کردار کے بارے میں وزارت کے حکام نے بتایا کہ کمیٹی 14ارکان پر مشتمل ہے۔ چیئر مین کی مدت تین سال اور چیئر مین گردشی طریقہ کار کے تحت ہر صوبے سے لیا جائے گا۔ اسحاق اظہر صدیقی نے جو کہا تھا تو اس کا اطلاق ہمارے رویوں پر بھی ہوتا ہے کہ

آسماں پر چاند نکلا بھی تو کیا

گھر کی تاریکی نمایاں ہوگئی

بد قسمتی سے گزشتہ نہ جانے کتنے برسوں سے ہم رمضان اور عید کے چاند پر اکا دکا سال کے سوا کبھی اتفاق رائے کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ اور اب جو سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے رویت ہلال کے حوالے سے جن فیصلوں پر اتفاق رائے کیا ہے اس کے پیچھے اگر دیکھا جائے تو قصور صرف نجی کمیٹیوں کا نہیں بلکہ سرکاری کمیٹی نے بھی کئی بار صرف اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے روزے اور عید خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور صرف اپنی انا کی خاطر ہی ایسا کیا گیا۔ گزشتہ برسوں میں انہی مواقع پر میں نے اپنے کالموں میں ان تلخ حقائق کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی ہے اور اگر ان کالموں کو دیکھا جائے تو جس نے بھی غلط کیا اس کی نشان دہی کی اور خواہ سرکاری رویت ہلال کمیٹی ہو یا پھر نجی کمیٹیاں ان کے مواقف پر بحث کرتے ہوئے درست اور غلط دونوں نکتہ نظر سامنے لاتا رہا۔ یہ نہیں کہ سرکاری کمیٹی ہی ہمیشہ غلط ہوتی ہے یا پھر نجی کمیٹی ہی ہمیشہ درست ہوتی ہے اس لئے میں نے اصل حقائق کے بارے میں استدلال کے ساتھ اظہار خیال کیا اور پھر چودھویں کا چاند دیکھ کر جس کمیٹی نے غلط فیصلہ کیا ہوتا اس پر بھی توجہ دلانے کی کوشش کی جبکہ اسلامی مہینوں کے بارے میں بھی لکھا کہ تیس روز کے دو مہینے تو ایک ساتھ آسکتے ہیں مگر 29 دن کے دو مہینے کبھی ساتھ ساتھ نہیں آتے اور اس طرح صحیح اور غلط فیصلوں کی تشریح بھی کرتا رہا۔

چاند نکلا ہے ترے بعد تو یہ لگتا ہے

میرے آنگن کا پتہ بھول گیا ہوجیسے

سینٹ کمیٹی نے یہ جو سفارش کی ہے یعنی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے اور قرار دیا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی کی مدت تین سال ہو اور یہ روٹیشن کے حوالے سے چاروں صوبوں سے سربراہ کے چنائو پر مبنی ہو تو یہ ایک اہم طرز عمل اور درست فیصلہ ہے۔ اس لئے کہ موجودہ کمیٹی کے جو سربراہ ہیں نہ جانے ان کے پاس کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ گزشتہ لگ بھگ پندرہ سولہ سال سے یہ شخص کمیٹی کی سربراہی سے چمٹا ہوا ہے۔ گزشتہ برس تو لوگوں نے ٹی وی چینلز پر ان کے اسی نا پسندیدہ روئیے کا مظاہرہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا جب انہوں نے وزارت مذہبی امور کے ایک اہلکار سے ٹیلیفون چھین کر اس کے تار کھینچ کر سلسلہ منقطع کرلیا تھا اور بے چارے اہلکار کو باہر نکل جانے کا نادر شاہی حکم بھی صادر کردیا تھا۔ حالانکہ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ زونل رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے جو معلومات موصول ہو رہی تھیں وہ ٹی وی چینلز کے ساتھ شیئر کر رہا تھا جن کی بنیاد پر چینلز مختلف شہروں سے حاصل ہونے والی معلومات لمحہ بہ لمحہ عوام تک پہنچا رہے تھے۔

نوید عید نہ دے مجھ کو آسماں سے اے چاند

کہ میں نے دیکھے ہیں چہرے اداس لوگوں کے

جہاں تک بے چارے مفتی شہاب الدین پوپلز ئی کا تعلق ہے تو انہوں نے کبھی اپنی جانب سے رویت ہلال کا اعلان نہیں کیا بلکہ مستند شہادتوں کی وصولی کے بعد جید علمائے کرام اور مفتیان عظام کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد ہی چاند ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ برس تو مبینہ طور پر انہیں جبراً عمرہ پر بھجوا کر ان سے جان چھڑائی گئی مگر ایسا کب تک ممکن ہوسکتا ہے۔ اگر سرکاری طور پر ملک میں ایک ہی دن روزہ اور ایک ہی دن عید الفطر منانے کی سوچ پنپ رہی ہے تو اصولاً اس سے عدم اتفاق کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ اتفاق رائے سے اگر یہ کام ہوسکیں تو اس میں کیا قباحت ہے بلکہ یہ ایک درست طرز فکر ہے مگر اس کے لئے سب سے پہلے سینٹ کی کمیٹی نے رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کی جو سفارش کی ہے اس پر عمل کرنا پڑے گا اور اگرچہ گزشتہ تقریباً دو تین سال سے ہر بار عوام کے احتجاج پر کمیٹی کے موجودہ چیئر مین کو ہٹانے کی خبریں سامنے آجاتی ہیں مگر بعد میں نہ جانے کیا ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اسی طرح چیئرمینی کی کرسی پر گوند لگا کر اس سے چپکا رہتا ہے۔ جب تک کمیٹی کی سربراہی کا مسند کسی اور کے حوالے نہیں کیاجائے گا یہ مسائل حل ہونے کے نہیں ہیں۔ چونکہ اس وقت وزارت مذہبی امور کے وزیر اور موجودہ چیئر مین ایک ہی علاقے سے ہیں اس لئے امید نہیں کہ کمیٹی کی تشکیل نو کی سفارشات من و عن مان لی جائیں گی۔

بادلوں سے قمر کھیلتا رہ گیا

ہم ترستے رہے چاندنی کیلئے

متعلقہ خبریں