Daily Mashriq


دوست بڑھائیے دشمن نہیں

دوست بڑھائیے دشمن نہیں

عسکری دانش کے جتنے شاہکار نجی ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہیں ہمیں قومی سلامتی کی زیر زبر رٹوانے اور قومی مفادات کا پہاڑہ پڑھانے میں مصروف ہیں۔ ان میں اکثر ٹی وی چینلوں کے پروگراموں تک کیسے پہنچے یہ بذات خود ''قومی راز'' ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ خارجہ امور کے حوالے سے جولائی 1977ء کے بعد سے سول پالیسی سازوں کا کوئی تعلق نہیں۔ پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں کچھ آزاد روی کے مظاہرے دیکھنے میں آئے مگر اس آزادی کے پر کاٹنے میں دیر نہیں لگائی۔ اصل مالکوں نے میمو گیٹ سکینڈل تو آپ کو یاد ہی ہوگا۔ ارے وہی جس کے لئے قبلہ میاں محمد نواز شریف کالا کوٹ پہن کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں جا پیش ہوئے تھے۔ اس کالم کے قارئین کو یاد ہوگا ان دنوں ان سطور میں عرض کیا تھا ساری کہانی فرضی ہے۔ منصور اعجاز نامی جس شخص کے گرد یہ کہانی گھومتی رہی وہ جنرل پاشا کی اہلیہ کا قریبی عزیز تھا۔ اسی کیس میں اس وقت کے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سیکرٹری دفاع کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنے بیان حلفی براہ راست سپریم کورٹ میں جمع کروائے تھے۔ چند برس بعد آج بھی ایک صحافی کی حیثیت سے اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ پیپلز پارٹی کی آزاد روی (خارجہ پالیسی کے معاملے میں) اصل مالکوں کو قبول نہیں تھی کیونکہ یہ کہیں اور وعدے وعید کئے ہوئے تھے۔ دنیا بھر میں قومی سلامتی اور قومی مفادات منتخب پارلیمانیں طے کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں فرشتے اور ان کے ترجمان سمجھاتے ہیں۔ اب ستم یہ ہوا کہ الیکٹرانک میڈیا کی سکرینوں پر عسکری دانش کے جن شاہلکاروں کو لا بٹھایا گیا وہ انگریزی کے ساتھ اردو بھی منہ بگاڑ کر بولتے ہیں۔کبھی کبھی تو ایسا لگتاہے کہ اصل مالکان اب اپنے سابق ساتھیوں کے ذریعے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانیوں کے حصے کی ساری عقل اللہ تعالیٰ نے ان عسکری دانش کے شاہکاروں کو عطا کردی ہے۔ جمہوریت سے ان ''دانش وروں'' کو خدا واسطے کابیر تو ہے ہی علاقائی تعلقات کے حوالے سے بھی یہ برتری کے زعم کا شکار ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ چند اہل صحافت اصل مالکان کی خوشنودی کے لئے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے تاریخ پر دھول ڈالتے پھرتے ہیں۔ کل ایک سابق عسکری ایک چینل پر فرما رہے تھے افغانستان احسان فراموش ہے۔ کیا معطر زبان ہے ۔ سفارتی آداب سے ناواقف ان صاحب سے کوئی دریافت کرے کہ افعان پالیسی نے اس ملک کو دیا کیا؟ چند درجن یا چند صد افراد اس پالیسی کی بدولت اربوں پتی ہوئے اور عام آدمی کی قسمت میں حیاتی بھر کے دکھ۔ فقط اس افغان پالیسی نے پاکستانی معیشت کو پچھلے چار عشروں کے دوران 80ارب ڈالر کے قریب کا نقصان پہنچایا۔ جنرل ضیاء نے ایک قسم کی پالیسی سے ہمارا ستیا ناس کرایا تو جنرل مشرف الٹی زقند بھرتے ہوئے جس انتہا پر کھڑے ہوئے اس سے سوا ستیاناس ہوا۔افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے دورہ پاکستان پر آنے سے انکار بلا شبہ درست نہیں مگر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عسکری دانش کے نمونوں اور چند صحافیوں نے جو کچھ کیا وہ کیسے آسمانی کلام کا درجہ پا جائے گا؟ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی جس کی جنرل ضیاء الحق نے بنیاد رکھی اس میں کثیر النسلی ملک کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھنے کی بجائے فقط پشتون افغانوں کو اہمیت و افضلیت حاصل تھی۔ ہماری پوری ریاست اس وقت گل بدین حکمت یار کی پشت پر کھڑی تھی جب حزب اسلامی اور احمد شاہ مسعود کے جنگجوئوں کے درمیان کابل پر قبضہ کے لئے جنگ جاری تھی۔ اگلے مرحلہ میں ریاست نے سارا وزن افغان طالبان کے پلڑے میں ڈالے رکھا۔ معاف کیجئے گا دوسروں کو احسان فراموش کہنا بہت آسان ہے مگر اپنی کج ادائیوں پر غور مشکل ترین کام ہے۔ یہی صورتحال پچھلے چند دنوں سے پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ہے۔ ایرانی آرمی چیف کے جس بیان پر تنازعہ پیدا ہوا اور تنازعے میں من پسند رنگ بھرے جا رہے ہیں' بیان کا اصل فارسی متن کسی فارسی خواندہ صاحب علم کے سامنے رکھ کر دریافت کیجئے کہ اس بیان کا جو ترجمہ پاکستانی اردو اخبارات نے کیا وہ لفظی طور پر درست ہے؟ ایرانی آرمی چیف کا بیان سفارتی آداب کے منافی تھا مگر پچھلے چند دنوں سے ہمارے یہاں ''اتحاد تلاثہ'' کی جو ترکیب عسکری دانش کے نوری نت اور یک از مجاوران نظریہ پاکستان استعمال کر رہے ہیں وہ سفارتی آداب کو جوتے مارنے کے مترادف ہے یا پھولوں کا چادر چڑھانے کے؟ ہمارے ان عسکری دانشوروں کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت سے ہماری لڑائی روز اول سے ہے۔ افغانستان اور ایران سے تعلقات اور نفرت کو بھارت کی سطح پر لا کر وہ پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کر رہے بلکہ اس ملک کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں جس نے انہیں ایک عام آدمی کی سطح سے اٹھا کر جنرل بنا دیا۔ بہت خدمت کی آپ نے ملک کی مگر کیا اللہ واسطے کی؟ جی نہیں تمام تر لوازمات و مراعات سمیت رخصت ہوئے اپنے ادارے سے۔ زندگی آپ نے عسکریوں کے درمیان گزاردی۔ یقینا اپنے کام کی آپ کو سوجھ بوجھ ہوگی۔ لیکن سفارتکاری اور خارجہ پالیسی چیز دیگر است۔ زمینی حقائق کو مسخ کرکے ہیرو اور دانشور بننے کی ضرورت نہیں۔پاکستان سمندر کے درمیان کسی جزیرے کا نام نہیں جنوبی ایشیاء کی جغرافیائی حدود کے اندر واقع ملک ہے جو چار پڑوسی رکھتا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی ملک کے چار میں سے تین پڑوسی اس کے دشمن ہوں اور وہ تعمیر و ترقی کے اہداف حاصل کرلے۔ بھارت کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو افغانستان اور ایران برادر اسلامی ممالک کے طور پر نہ سہی پڑوسیوں کی حیثیت سے اہمیت کے حامل ہیں۔ بھارت سے سرد جنگ کے ماحول میں رہتے پاکستان کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنی دو مزید سرحدوں کو غیر محفوظ کرلے۔ سو اے پیارے عسکری دانشورو اور عبداللہ دیوانوں اس ملک پر رحم کرو۔ دوستوں کی تعداد بڑھا نہیں سکتے تو زہر آلودہ باتوں سے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ تو نہ کرو۔

متعلقہ خبریں