Daily Mashriq


والدین کی قدر !! فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔۔

والدین کی قدر !! فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔۔

ماں وہ عظیم ہستی ہے کہ جو اپنی جان پر بڑے سے بڑا صدمہ برداشت کر جاتی ہے۔ پر اس کے کسی جگر کے گوشے کو ذرا بھی تکلیف پہنچے تو وہ تڑپ جاتی ہے ۔ماں ۔۔۔ایک لفظ کس قدر مقدس اور شہد سے میٹھا ہے کہ جسے بولتے ہی منہ میٹھا میٹھا ہو جاتا ہے ۔یہ لفظ بہت سے معنی ، مطلب ،احساس اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ممتا،پیار،محبت،خلوص ،لگن،سچائی ،پاکیزگی ،سکون ،خدمت ،محنت ،عظمت ،دعا،سایہ ،دوست،ہمدرد،رہنما،استاد،بے غرض ، معصومیت، عبادت،ایمان ،دیانت،بردباری ،برداشت،جذبہ ،جنت یہ سب تو صرف ایک ماں کی خوبیوں کی ایک جھلک ہے ورنہ اس عظیم ہستی کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہو جائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہو گی ۔ ماں۔۔ ایک ایسا موضوع کہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کر پاتا ۔اس موضوع پر کافی کتب تو لکھی جا سکتی ہیں مگر ماں کے احسانات ،احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چکایا جا سکتا ۔ماں۔۔محض ایک لفظ نہیں بلکہ محبتوں کا مجموعہ ہے ۔ماں کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھائوں اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے ۔ایک عظمت کی دیوی اور سب کچھ قربان کر دینے والی ہستی کا احساس اجاگر ہوتا ہے ۔ انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ پیار و محبت کرنے والی ہستی ماں کی ہے ۔ماں خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے ۔والدین کے احسانات کے بارے میںسوچا جائے تو سوچ بھی ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے ۔

ایک ہستی جو محبتوں سے مر وجہ ، جس کا ایک ایک لفظ مٹھاس لئے ہو،جس کی بات ہی بے مثال ہو ،جس کی دعا ہر چیز سے قیمتی ہو ، جو سراپا محبت و افتخار ہو ،جو قدرت کا شاہکارہو،جس کے آنسو موتی ہوں ،جس کی نگاہ میں امید کے دیئے جلتے ہوں ،جو تپتی دھوپ میں چھائوں کا بیش قیمت احساس ہو ،جس کی ہر دعا اپنے لئے نہ ہو۔ جس کا دل ہر غرض سے پاک ہو ،جس کی عظمت کو عرش بھی سلام کرتا ہو وہ ہے ماں ۔ اپنی اولاد کی تکلیف کو اپنے اندر سمونے والا ،کتنا حسین احساس ہے ،ہر دھوپ میں ایک ٹھنڈی چھائوں جیسا احساس ۔تازہ بھولوں کی شگفتگی ،نرم کلیوں کی تازگی ،چادہویں کے چاند کی چاندنی اور دنیا بھر کے حسین رشتوں کی محبت کو جمع کر کے بھی اگر ایک اکیلی ''ماں'' سے اس کا مقابلہ کیا جائے تو اس کا رتبہ سب سے بلند ہو گا اور کیوں نہ ہو ،ماں نام ہی ایسے حسین رشتے کا ہے کہ اس کے آگے دنیا کی ہر شے ہیچ ہے ۔تمام تر پریشانیوں ،مصیبتوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود وہ اپنے بچوں کے لئے ایک کومل احساس ہے ۔ایک بے انتہا پر سکون اور آرام دہ شجر کی مانند ،جس میں پناہ گزین ہو کر اولاد خود کو دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتی ہے ۔ماں ہمیں بچپن سے لے بڑے ہونے تک شفقت سے پالتی ہے ۔ ماں ہی ہمیں زندگی گزارنے کی تربیت دیتی ہے ۔صحیح و غلط کی پہچان کر واتی ہے ۔زندگی کے تمام نشیب و فراز سے آگاہ کرتی ہے ۔ہماری زندگی صرف بناتی ہی نہیں بلکہ بہت احسن طریقے سے سنوارتی بھی ہے یعنی کہ ماں ایک بہترین معلمہ ہے ۔ اسلام نے بھی ماں کی محبت ،وقار اور احترا م کا اعتراف کیا ہے اس کی اطاعت اور خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر ،پاکیزہ شبنم،دعائوں کے خزانوں ،زمین و آسمان کی وسعتوں ،جذبوں ،چاہتوں ،چاند کی رحمت ،خلوص،رحمت،راحت ،برکت،عظمت،حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیا یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔محسنِ انسانیت نبی آخرالزماں حضرت محمد ۖکی صاحبزادی خاتون جنت فاطمة الزہرہ ماں کی حیثیت سے ایک زندہ کردار ہیں ۔دنیا کی عظیم ترین ہستی ماں کی ہے ۔اس کادوسرا نام جنت ہے ۔ماں کے بغیر کائنات نامکمل ہے ۔ماں کی آغوش انسان کی پہلی درسگاہ ہے ۔

اگر مائوں کے عالمی دن کے حوالے سے بات کی جائے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ایک دن ماں کے نام مخصوص کر کے اس عظیم رشتے کا حق ادا کر دیا گیا ہے ۔ اس کا جواب یقینا نفی میں ہو گا ۔مائوں کے لئے تو پورا سال ہی ہونا چاہئے ۔کیونکہ اولاد جب چھوٹی عمر میں ہوتی ہے تو اس کے لئے تو ماں نے کوئی ایک دن مخصوص نہیں کیا ہوتا ۔وہ تو پورا وقت ہی اولاد کی پرورش میں مصروف رہتی ہے تو پھر اس کے لئے محض ایک دن ہی کیوں؟یہ رشتہ تو پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے ۔نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ والدین کی قدر کریں ،ان سے عزت سے پیش آئیں ، ان کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کریں ،ان کی دل جوئی کریں ،غرض بڑھاپے میں ان کا اسی طرح خیال رکھیں جیسے بچپن میں وہ آپ کا رکھتے تھے کیونکہ اسی میں آپ کی دنیا و آخرت کی فلاح پوشیدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں