مشرقیات

مشرقیات


شیخ سعدی فرماتے ہیں: ایک بادشاہ کو ایسی خوفناک بیماری تھی کہ ہر طرح کے علاج سے اسے کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ یونان کے حکیموں کی ایک جماعت اس پر متفق ہوگئی کہ اس تکلیف کی کوئی دوا نہیں ہے سوائے اس شخص کے پتے کے' جو مخصوص صفات سے متصف ہو' طبیبوں نے وہ صفات بتلا دیں۔ بادشاہ نے ایسے شخص کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔ ایک دہقان کے لڑکے کو ان صفات پر پایا جو حکیموں نے بتلائی تھیں۔وقت کے قاضی نے بھی اس بارے میں فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کی جان بچانے کے لئے رعیت میں ایک شخص کا خون بہانا جائز ہے ۔ جلاد نے اس بچے کو قتل کرنے کی تیاری کرلی' اس دوران اس لڑکے نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور مسکرایا۔ بادشاہ بھی وہاں موجود تھا اس نے دریافت کیا کہ اس حالت میں ہنسنے کا کیا موقع ہے؟ لڑکے نے جواب دیا کہ بچوں کا ناز ماں باپ پر ہوتا ہے' دعویٰ قاضی کے پاس لے جاتے ہیں' انصاف بادشاہ سے چاہتے ہیں۔ اب میرے ماں باپ نے دنیا کی قلیل دولت کی خاطر مجھے قتل کے لئے جلاد کو سونپ دیا( یعنی میرے قتل پر راضی ہوگئے) قاضی نے میرے قتل کے جواز کا فتویٰ دے دیا اور بادشاہ اپنی بھلائی میری ہلاکت میں دیکھتا ہے۔ ایسی صورت میں سوائے اللہ بزرگ و برتر کے میں کوئی پناہ نہیں دیکھتا۔ یہ سن کر بادشاہ کا دل نرم پڑ گیا اور اس نے بچے کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کہا کہ میرا ہلاک ہو جانا ایسے بے گناہ بچے کا خون بہانے سے بہتر ہے۔بادشاہ نے اسے رہاکردیا اور وہ ایک معصوم پر رحم کھانے کے سبب صحت یاب ہوگیا۔(حکایات سعدی)
حضرت سعید بن عروبہ کا بیان ہے: حجاج بن یوسف ایک مرتبہ مکہ مکرمہ جا رہا تھا ' راستے میں پڑائو ڈالا۔ اس نے اپنے دربان سے کہا: دیکھو' اگر کوئی اعرابی ( بدو) نظر آئے تو اسے لائو تاکہ وہ میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے۔ دربان کی نگاہ ایک اعرابی پر پڑی جو دو چادریں لپیٹے ہوئے تھا۔ اس نے اعرابی کو مخاطب کرکے کہا: گورنر کی دعوت قبول کرو۔ جب اعرابی حجاج کے پاس آیا تو حجاج نے کہا: قریب آئو اور میرے ساتھ کھانا تناول کرو۔ اعرابی: مجھے اس ہستی نے دعوت دے رکھی ہے جو تجھ سے بہتر ہے۔ حجاج: کون ہے وہ ہستی؟اعرابی: اللہ عزوجل نے مجھے رزہ رکھنے کی دعوت دی ہے' سو میں روزے سے ہوں۔ حجاج:اس شدید گرمی میں روزہ؟ اعرابی: جی ہاں! میں نے اس دن کے لئے روزہ رکھا ہوا ہے جو اس سے کئی گنا زیادہ گرم ہوگا۔ حجاج: چلو آج کھالو' کل روزہ رکھ لینا اعرابی: تجھ پر تعجب ہے اے حجاج! کیا کل تک میری زندگی کا تو ضامن ہوسکتا ہے؟ حجاج: یہ تو میرے بس میں نہیں ہے۔اعرابی: نہ تو' تو نے کھانا اچھا بنایا ہے اور نہ ہی باورچی کے ہاتھوں کاکمال ہے بلکہ صحت و عافیت نے اسکی لذت کو دوبالا کیا ہے۔ اگر صحت و عافیت نہ ہو تو پھر کوئی لذیذ سے لذیذ کھانا بھی اچھا نہیں لگتا۔ یہ کہہ کر اعرابی چل پڑا اور حجاج کے ساتھ کھانا تناول نہیں کیا۔(تاریخی واقعات)

اداریہ