Daily Mashriq


جناب نواز شریف کا متنازعہ انٹرویو

جناب نواز شریف کا متنازعہ انٹرویو

سابق وزیراعظم جناب نواز شریف کے ممبئی حملہ کے حوالے سے ایک حالیہ انٹرویو سے پیدا ہونیوالے تنازعے کا جس طرح بھارتی میڈیا نے فائدہ اٹھایا اور پاکستان کیخلاف چارج شیٹ قرار دیا اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ گو سابق وزیراعظم نے اس حوالے سے کوئی نئی بات نہیں کی۔ قبل ازیں جنرل مشرف‘ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک‘ آئی ایس آئی کے ایک مرحوم سربراہ جنرل حمید گل مختلف اوقات میں ممبئی حملہ کے حوالے سے اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کر چکے تھے لیکن نواز شریف کے حالیہ انٹرویو کو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ بالخصوص اس صورت میں جب وہ اپنے خلاف کرپشن مقدمات کی سماعت کے دوران عدالتوں کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تواتر کیساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے سینے میں بہت راز ہیں دیوار سے لگایا گیا تو وہ رازوں سے پردہ اٹھا دیں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دو بار پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور تین بار ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے فرائض ادا کرنیوالی شخصیت کو صورتحال کی نزاکت کا احساس ہے نا ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے فرائض اور حدود کا۔ ان کی سیاسی زندگی کا پورا سفر سرپرستیوں سے طے ہوا اب بھی ان کا غصہ یہ ہے کہ انہیں اقتدار سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اشاروں کنایوں میں وہ ملک کے بعض اداروں بارے الزام تراشی سے کسی پل چوکتے نہیں مگر ممبئی حملہ کے واقعہ کو لے کر انہوں نے حالیہ انٹرویو میں جن خیالات کا اظہار کیا ان سے بھارت کی پاکستان پر بھونڈی الزام تراشی کو تقویت ملتی ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والی شخصیت کو اس معاملے کے دوسرے پہلو سے آگاہی نہیں یہ کہنا کہ ’’ہمیں انہیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ سرحد پار جا کر 150لوگوں کو قتل کر دیں۔ یہ کہ اگر ملک میں2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں گی تو آپ ملک نہیں چلا سکتے‘‘۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت کے پرجوش سرپرست امریکہ اور دفاعی اتحادی اسرائیل کے علاوہ بہت کم ممالک اور اداروں نے بھارت کے پاکستان مخالف موقف اور سنگین الزامات کی تائید کی۔ کچھ عرصہ قبل معروف جرمن صحافی ایلیس ڈیوڈسن کی ممبئی حملوں پر لکھی گئی کتاب میں اس واقعہ کو بھارت اور اس کے دو پرجوش اتحادی ملکوں کی ایجنسیوں کا کھیل قرار دیا گیا۔ اس ضمن میں یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان میں جاری عدالتی کارروائی اسلئے رکی ہوئی ہے کہ بھارت سے جرح کیلئے جو گواہ مانگے گئے وہ گواہ آج تک فراہم نہیں کئے گئے۔ پاکستان اپنے ہائی کمیشن کی معرفت گواہان کیلئے پروٹوکول اور دیگر سہولتوں کیساتھ یقینی حفاظت کی پیشکش کرچکا لیکن بھارتی حکومت سرد مہری سے نجات حاصل نہیں کر سکی۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے والے چند عناصر کے علاوہ پوری قوم سابق وزیراعظم کے حالیہ انٹرویو سے صدمے کی حالت میں ہے۔ عوام الناس دریافت کر رہے ہیں کہ تین بار وزیراعظم رہنے والی شخصیت اس طور غیر ذمہ داری، عاجلانہ پن اور انتقام کے جنون میں بھی مبتلا ہوسکتی ہے؟ کاش میاں نواز شریف نے ممبئی حملوں کے حوالے سے لکھی گئی متعدد کتب اور خود بھارت کے اندر تحقیقاتی عمل کے دوران اٹھے ان سوالات پر بھی غور کر لیا ہوتا جن سے یہ حملے ایک سنگین سازش کے طور پر سامنے آئے۔ مثال کے طور پر بھارتی حکومت اور خفیہ ادارے آج تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات کرنیوالے اعلیٰ پولیس افسر ہیمنت کرکرے اور ان کے تین ساتھیوں کو کس نے قتل کیا۔ یا یہ کہ ان حملوں کے مرکزی کردار اجمل قصاب کو نیپال سے اغواء کرکے بھارت کون لے گیا؟ ہماری دانست میں جناب نواز شریف کے حالیہ متنازعہ انٹرویو سے پیدا ہونیوالے مسائل تو اپنی جگہ سنگین ہوں گے ہی مگر اس کی بنیاد پر بھارت میں پاکستان کیخلاف جو میڈیا مہم شروع کردی گئی ہے وہ زیادہ خطرناک ہے۔ جناب نواز شریف کے متنازعہ انٹرویو سے ایک اور بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ سیاسی عمل کی تربیت سے محروم غیر سنجیدہ لوگوں کو سیاسی قیادت کے طور پر مسلط کرنے اور رکھنے سے فائدہ کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ ہمارے لئے فوری طور پر اس رائے کو مسترد کرنا ازبس مشکل ہوگیا ہے کہ ’’سابق وزیراعظم کا یہ جوابی وار اصل میں سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بھارت میں اپنے خاندان کی سرمایہ کاری کے حوالے سے بعض معاملات کے انکشاف کے بعد انہوں نے اپنے ہی ملک کو دباؤ میں لانے کیلئے یہ پتہ کھیلا ہے‘‘۔ بہرطور یہ امر مسلمہ ہے کہ ان کے حالیہ خیالات کی کسی بھی طرح تائید نہیں کی جا سکتی اسی طرح یہ عرض کرنے میں بھی کوئی امر مانع نہیں کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے ان کے خیالات کی بنیاد پر فتویٰ بازی سے بھی گریز کیا جائے۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے کہ خود پارلیمنٹ کسی تاخیر کے بغیر سابق وزیراعظم کو طلب کرے اور ان سے اپنے موقف کے حوالے سے شواہد پیش کرنے کو کہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاک امریکہ تعلقات کی دراڑیں پوری دنیا پر عیاں ہیں اور بھارت کی کوشش ہے کہ امریکہ کے تعاون سے پاکستان کو عالمی تنہائی سے دوچار کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دے جناب نواز شریف کے خیالات جلتی پر تیل کا کام دیں گے۔ اندریں حالات ہم سابق وزیراعظم سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ اپنے خاندان پر لگنے والے کرپشن اور کمیشن کے الزامات کے جواب میں ایسی باتوں سے گریز کریں جنہیں وہ ثابت تو نہ کر سکتے ہوں لیکن پاکستان کے ازلی دشمنوں کو اس سے پاکستان مخالف مہم چلانے میں مدد ملے۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر ایک بار پھر پارلیمنٹ سے یہ درخواست ازحد ضروری ہے کہ سیاسی تعلقوں سے بالاتر ہو کر اس معاملے کا کسی تاخیر کے بغیر نوٹس لیا جائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ایک آئینی کمیشن کی حیثیت دے کر سابق وزیراعظم کو بلایا جائے اور اس حوالے سے شواہد طلب کئے جائیں۔ سابق وزیراعظم سے بھی یہ استدعا ہے کہ وہ ’’ہم نہیں تو کچھ نہیں‘‘ کے کھیل میں نہ پڑیں اس سے ان کا نقصان تو ہوگا ہی مگر مسخ کردہ حقائق پاکستان کیلئے بھی نقصان کا باعث ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں