Daily Mashriq


افغانستان میں دہشتگردی کے مزید واقعات

افغانستان میں دہشتگردی کے مزید واقعات

افغانستان میں فراہ شہر اور زابل پولیس چیک پوسٹوں پر طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے متعدد حملوں کے دوران 65 پولیس اہلکار جاں بحق اور 50 شدید زخمی ہوگئے۔ افغانستان میں شہری مراکز‘ دفاتر اور پولیس چیک پوسٹوں پر حملوں کی حالیہ لہر سے ہونیوالے جانی ضیاع پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ آگ وخون میں غلطاں افغانستان میں دنیا کی بہترین سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ تربیت یافتہ اہلکاروں اور اتحادی افواج کی موجودگی کے باوجود پچھلے دو مہینوں کے دوران 500 سے زیادہ شہری اور سیکورٹی اہلکار حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حالیہ عسکری کارروائیوں نے عالمی امن اور بالخصوص تشدد سے پاک افغانستان کے نام پر افغانستان میں موجود اتحادی افواج اور اس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ صدیوں کی تاریخی تہذیبی رشتوں اور حق ہمسائیگی کی بدولت افغانستان میں جاری خونی کھیل پر اہل پاکستان کا غم زدہ ہونا فطری امر ہے۔ افسوس کیساتھ یہ عرض کرنا پڑتا ہے کہ افغانستان کو آگ وخون میں ڈبونے کی ذمہ دار عالمی قوتیں ہی بحالی امن کے پروگرام کے تحت افغان سرزمین پر موجود اور دوہرے کھیل میں مصروف ہیں۔ امریکی خود تو طالبان سے مذاکرات کرتے اور داعش کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہیں مگر دوسری طرف مخصوص مقاصد کیلئے ان غیر ریاستی عسکریت پسند گروپوں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ امریکہ اور اتحادیوں کو دوغلی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کی بجائے افغان قیادت سے اس طور تعاون کرنا چاہئے کہ وہ ملک سے بدامنی کو ختم کرکے قومی تعمیرنو کے نئے دور کی بنیاد رکھ سکے تاکہ مرحلہ وار جنگوں اور دہشت گردی سے متاثر افغانستان میں بھی پائیدار امن قائم ہو سکے۔

وحدت وایثار کی مصطفویؐ دعوت

مسجد الحرام کے امام وخطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید کا یہ کہنا بھی بجا طور پر درست ہے کہ تعصبات خطرناک سماجی مرض ہے جو افراد، اقوام اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، تعصب اور شدت پسندی انتہاپسندی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں شدت پسندی، تعصب اور عدم برداشت کا دوررورہ ہے۔ ان امراض کے پھلنے پھولنے کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے پیدا ہونے والی محرومیاں ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دین فطرت اسلام جس عصبیت، جاہلیت، تکبر اور شخصی وقبائلی زعم کو پاش پاش کرنے اور محبت ووحدت پر مبنی سماج قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے اسے مسلم معاشروں میں یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ محبت ووحدت ایثار وتعاون کی مصطفویؐ دعوت کی جگہ عقیدوں کی بالادستی کے جنون نے لے لی۔ اس جنون کی کوکھ سے جنم لینے والی انتہا پسندی نے مسلم امہ کے مختلف ممالک میں اسلام، انسانیت اور مسلم وحدت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ صورتحال کی سنگینی میں اضافے اور بڑھتے ہوئی تمدنی نقصانات کے باوجود مسلم معاشروں میں وحدت اسلامی کی دعوت مساوات کے قیام انصاف کی بلاامتیاز فراہمی سے صرف نظرجاری ہے۔ مسلمان علماء دانشور، زعما اور سیاسی قائدین کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ مسلم معاشروں کو زوال سے نجات دلا کر ارتقائی عمل میں شریک کرنے کی عملی کوششیں نہ کی گئی تو آنیوالے برسوں میں مسائل آج کے مقابلہ میں زیادہ سنگین ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیائے اسلام کی تمام حکومتیں حضرت رسول اکرمﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع کو حکومتی وسماجی رہنمائی کیلئے بیانیہ قرار دیں اور اپنے اپنے ہاں استحصال وجبر کے خاتمے اور تعصب وشدت پسندی کی جگہ علم وانسانیت دوستی کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کریں تاکہ مسلمان بھی دوسری ملتوںکی طرح ترقی کر پائیں۔

متعلقہ خبریں