Daily Mashriq


میاں صاحب اب ہمارے مجرم ہیں

میاں صاحب اب ہمارے مجرم ہیں

آخر سرل المیڈا ہی کیوں ؟ ڈان لیکس میں بھی سرل المیڈا ۔۔۔اور حاصل ۔ میاں نواز شریف اورفوج کے درمیان اختلافات کی نوعیت کی وضاحت کرنا ۔ یہ ثابت کرنا کہ میاں نواز شریف امریکہ کی بات ماننا چاہتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے کی مکمل بھر پور کوشش کرنا چاہتے ہیں لیکن فوج نہیں مانتی ۔ تب بھی معاملات میں انڈیا کی موجودگی تھی ۔ سرجیکل سڑائیکس کی بات کی جارہی تھی ۔ پاکستان انڈیا کے دعوئوں کی تردید کر رہا تھا ۔ اچانک ہی ایک شور شرابا مچ گیا ۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان میں فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان اختلاف ہے ۔ بیچاری سیاسی حکومت سمجھتی ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ ہونا چاہیئے لیکن پاکستانی فوج ایسا کرنے نہیں دیتی ۔ یہ خیال اس وقت اور بھی خطرناک ہو جاتا تھا جبکہ امریکی کانگریس میں ٹیڈ پو(Ted poe)کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس میں پاکستان کو امریکہ کے لیے ایک انتہائی خطرناک حلیف کہا گیا ۔ اس بل میں یہاں تک کہا گیا ’’پاکستا ن میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لے کر حقانی نیٹ ورک سے اسکے قریبی تعلقات تک ، خاصے شواہد موجود ہیں جو اس بات کو مشکوک کر دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان دراصل کس کا حلیف ہے ۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کم از کم امریکہ نہیں ‘‘۔

پاکستان میں بہت شور مچا رہا یہ تلاش کرنے کی بہت جدوجہد بھی کی گئی کہ بات کس نے کی کیوں کہ ، ذمہ داروں کی تلاش کا دھمال بھی رہا لیکن اصل بات ان کانوں تک پہنچا دی گئی جہاں پہنچانا مقصد تھا ۔ اب ایک بار پھر یہی ہوا ہے ۔ سرل المیڈا کو ہی دیئے گئے ایک انٹر ویومیں میاں نواز شریف ان غیر ریاستی قوتوں کا ذکر کرتے ہیں جو پاکستان میں کام کررہی ہیں ، جنہوں نے سرحدعبور کی اور ممبئی میں ڈیڑھ سو لوگ مار ڈالے ۔ ایک بار پھر ایک نیا ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ میاں نواز شریف کا اشارہ کسی جانب بھی ہو لیکن اس میں بھارت ، امریکہ ، پاکستان کے اندر کی قوتیں ، سب ہی شامل ہیں اور اس سازش کے بیچوں بیج میاں صاحب اپنے چہرے پر اسی حماقت نما معصومیت سجائے کھڑے ہیں۔ یہ سمجھ نہیں آتا کہ میاں صاحب کیا چاہتے ہیں۔ اس ملک کا ایک سابق وزیر اعظم کیا اس قدر احمق ہوسکتا ہے کہ ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان داغ دے یا یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس میں میاں صاحب کو کوئی بین الاقوامی تھپکی حاصل ہے۔ ٹیڈپو بل کے باوجود امریکہ کی اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بنائے رکھنا چاہتی تھی سو ٹیڈپو بل کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی لیکن اب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہیں اور ان کی طبیعت کا غیر ذمہ دارانہ میلان کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ٹیڈپو بل اتنا پرانا نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یاد نہ آسکے۔ بھارت میں بھی میاں نواز شریف کے اس بیان کے بعد ایک ہنگامہ کھڑا ہے۔بھارتی میڈیا اس بیان کو مسلسل حوالے کے طور پر پیش کر کے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے ۔ ایک ملک کا سابق وزیر اعظم اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ اس کا ملک سرحد پار دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ میاں صاحب کے اس بیان کے بعد ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ کیونکہ وہ حلف جو انہوں نے اس ملک کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے اٹھایا تھا وہ انہیں بہت سی باتوں کی پاسداری کا پابند کرتا تھا لیکن میاں صاحب تو اس حلف سے شاید واقف ہی نہیں ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اہم ملکی معاملات کے بارے میں بریفنگ کے دوران‘ ون بائٹ پیسٹری کے متعلق سوال کرسکتا ہو یا اچانک ہی درمیان میں اٹھ کر مالی سے گفتگو کا آغاز کرسکتا ہو‘ اس شخص سے ایسی حماقت بعید از قیاس نہیں۔ انہیں دکھ ہے کہ ان کی بدعنوانی پر ان سے سوال کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہیں دکھ ہے کہ وہ کیوں منی لانڈرنگ نہیں کرسکتے اوران کے ہاتھ کیوں روکے گئے ان کی انا ایسی مضبوط ہے کہ وہ ملکی مفاد کا بھی خیال نہیں کرتے۔ انہیں ملک سے زیادہ اقتدار سے محبت ہے اقتدار ان کے پاس نہیںتو پھر ملک کی بھی کوئی اہمیت نہیں ۔ انہیں یہ تک احساس نہیں کہ جس غیر ذمہ داری کا وہ ثبوت دے رہے ہیں اس کا انہیں بھی کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ شاید سرحد پار جا کر بس جانے والے میراثیوں کی طرح ان کا بھی یہ خیال ہوگا کہ وہ پاکستان کے خلاف باتیں کریں گے تو انہیں بھارت میں ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا‘ ان کا کاروبار تو پہلے ہی بھارت میں موجود ہے وہ اپنی باقی کی زندگی بھارت میں سیاست کرکے گزار لیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ یہی سب چاہتے ہوں لیکن اب انہیں پاکستان میں رہ کر سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔ اب انہوں نے پاکستان کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ باتیں جو وہ کر رہے ہیں شاید بھول چکے ہیں کہ انہوں نے حلف اٹھایا تھا کہ ’’ وہ اپنے ذاتی مفاد کو کبھی اپنے سرکاری کام یا فیصلوں پر حاوی نہیں ہونے دیں گے‘‘ اور وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ وہ کبھی بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ ایسی کوئی معلومات کسی کو نہیں دے سکتے جو وزیر اعظم ہونے کے باعث انہیں کبھی بتائی گئی ہوں یا معلوم ہوں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ذاتی مفاد کے باعث اگر وہ کسی بھی ایسی بات میں ملوث ہوں یا کسی ایسی فرضی بات کا ذکر کریں جو ملکی مفاد کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو تو ان پر فوجی عدالت میں غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا یا عدالت عالیہ کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی۔ بس اب بہت ہوچکا اب میاں نواز شریف کی زبان بندی کا سبب کیاجانا چاہئے اور وہ لوگ جو اس سب میں ان کے ساتھ شامل ہوں ان کو بھی پورا انصاف ملنا چاہئے کیونکہ اب یہ اس ملک کے عوام کے حصے کا انصاف ہے۔عوام انصاف ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مفاد کو نقصان پہنچانے والوں سے باز پرس ہو ان کو سزا ملے۔ میاں نواز شریف اب اس ملک کے‘ اس قوم کے مجرم ہیں۔

متعلقہ خبریں