Daily Mashriq


ایک تیر سے دو شکار کا حامل انٹرویو

ایک تیر سے دو شکار کا حامل انٹرویو

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاکستان کو ممبئی اور بھارتی پارلیمنٹ پر حملوں میں ملوث ہونے کا ا عتراف کر لیا۔ نوازشریف کا بیان روزنامہ ڈان میں چھپا۔ سابق وزیراعظم جو پانامہ کیس کی وجہ سے کسی بھی سرکاری عہدے کیلئے ساری عمر کے لئے نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نان سٹیٹ ایکٹر یعنی غیر ریاستی عناصر ممبئی 2008 کے حملوں میں ملوث تھے، جس میں 150لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں اپنے منفی کرتوتوں کی وجہ سے اکیلا ہو چکا ہے اور اب اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔ بقول نواز شریف کے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کیلئے بے تحاشا قربانیاں دیں مگر پاکستان کی کسی بین الاقوامی فورم پر کوئی بات نہیں مانی جاتی جبکہ اس کے برعکس افغانستان کے مؤقف کو سنا اور مانا جاتا ہے۔ انہوں نے ملٹری، سول اور عدالتی بیوروکریسی پر طنز کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو منفی پالیسیوں پر غور کرنا چاہئے۔ جماعت الدعوۃ، جیش محمد، حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا نام لئے بغیر نواز شریف نے کہا کہ عسکریت پسند تنظیمیں پاکستان میں فعال ہیں اور پاکستان کی عدالتیں ان کا ٹرائل صحیح طریقے سے نہیں کرتیں اور ایک لحاظ سے عدالتیں ان کو تحفظ دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسلح افواج کا نام لئے بغیر زہر میں بھجے تیر برساتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے ان غیر ریاستی عناصر کو سرحد کے اس پار بھیجنے کی اجازت دے کر ممبئی میں 150معصوم لوگوں کو نہیں مروایا۔ سابق وزیراعظم نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ٹرائل عدالتیں کیوں نہیں کرتیں۔ اگر ہم غور کریں تو نواز شریف ایک تیر سے دو شکار کر تے ہیں، ایک طرف مسلح افواج کو اور دوسری طرف عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دونوں پر بغیر کسی استدلال اور منطق کے حملے کر ر ہے ہیں مگر ممبئی اور دہلی پارلیمنٹ پر ملکی، بین الاقوامی اور بھارت کے کئی ٹی وی چینلز اور اخباروں کے تجزیئے اور خبریں دیکھ اور پڑھ چکا ہوں، جس میں باربار کہا جا چکا ہے کہ پاکستان نہیں، بھارت خود ان حملوں میں ملوث رہا اور بدنام پاکستان کو کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک سینئر ترین آفیسر ستیش برما جو بمبئی اور دہلی پارلیمنٹ حملوں کے اعلیٰ سطحی کمیٹیوں میں شامل تھے نے بھارت کی اعلیٰ عدلیہ کو تحریری بیان میں انکشاف کیا کہ ممبئی دہشتگردی کا واقعہ ایک سازش تھی جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور انسداد دہشتگردی کے قوانین کو مضبوط بنانا تھا۔ نواز شریف کے بیان پر بھارت کے تقریباً تمام چینلز تبصرے اور واویلا کر رہے ہیں کہ نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے اور ان کے بیان میں وزن ہے حالانکہ بھارت اور خود نواز شریف کو اس بات کا اچھی طرح ادراک ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ تھا اور اس کا مقصد پاکستان جو اسلامی دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے کو بدنام کرنا اور نقصان پہنچانا ہے۔ بھارتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بھی سیاستدانوں کیخلاف کرپشن اور بدعنوانی کے کیس چلتے ہیں مگر ان کے سیاستدان کبھی بھی ملکی مفادات کیخلاف نہیں بولے۔ وہ ملکی مفادات کو مقدم سمجھتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو بلوچستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پکڑا گیا ہے اور جس نے بلوچستان اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں دہشتگردی اور تخریب کاری کے واقعات میں ملوث ہونے کا خود اعتراف کیا، مگر سابق وزیراعظم اس جاسوس کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنے پڑوسیوں کیساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئے حالانکہ کلبھوشن نے خود متعدد دہشتگردی کے حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ کئی ممالک کے ٹی وی چینلز، ریڈیو اور اخبار اپنے تبصروں میں کہتے چلے آرہے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں نواز شریف پہلا واحد وزیراعظم ہوگا جو اپنے ملک اور ملک کے اداروں کیخلاف بول رہا ہے۔ کئی ٹی وی چینلز جن کو بمبئی اور دہلی پارلیمنٹ کے حملوں کا ادراک ہے وہ تو میاں نواز شریف کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کیخلاف بغاوت کا مقدمہ ہونا چاہئے۔ نواز شریف اپنے اقتدار کی خاطر بھارت اور امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کچھ بھی کر لیں گے۔ پچھلے دنوں ہمارے حکمرانوں نے ناموس رسالتؐ قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش کی مگر جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی بروقت کارروائی سے یہ قانون منظور نہیں ہوا مگر اس قانون کو منظور کرنے میں میاں نواز شریف اور ان کے پارلیمنٹ کے ممبران نے کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ پانامہ کیس کی طرح بھارت کو 5 ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا کیس ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔ جب سے نواز شریف نے تیسری دفعہ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر باگ ڈور سنبھالی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ ماضی میں مولانا مودودی اور ذوالفقار علی بھٹو کے تعلقات ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ٹھیک نہیں تھے۔ بھٹو نے تو موت کو گلے سے لگا لیا مگر کبھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ٹکراؤ میں ملکی مفادات پر آنچ نہیں آنے دی۔ یہ تو بھارت ہے جو سرحد پار سے پاکستان پر میزائل داغے جا رہے ہیں اور بے تحاشا کشمیریوں کو شہید کئے جا رہے ہیں۔ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر بھارت کیلئے خطرہ ہوںگے اور ان کے دشمن ہو سکتے ہیں مگر ہمارے لئے نہیں۔ لہٰذا میاں صاحب کے حالیہ انٹرویو کا سخت نوٹس لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں