Daily Mashriq


سودن ۔۔۔؟ ایک نیا پنڈورہ باکس

سودن ۔۔۔؟ ایک نیا پنڈورہ باکس

دن کے بعد کیا ہوگا؟ جنوبی پنجاب صوبہ تحریک والوں نے تحریک انصاف کیساتھ معاہدہ کر کے حال ہی میں لیگ (ن) سے علیحدہ ہونے اور لیگی رہنماؤں پر جنوبی پنجاب کے عوام کو محرومیوں سے مسلسل دوچار کئے رکھنے کے جو الزامات لگائے تھے، اس ساری صورتحال کو سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے ڈرامے بازی قرار دیا ہے تو اس کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جنوبی اضلاع کے سیاسی رہنما گزشتہ پونے پانچ سال تک حکومت سے ہر قسم کی مراعات حاصل کرنے کے بعد اچانک کیوں پینترا بدلنے اور جنوبی پنجاب کے عوام کی ’’محرومیوں‘‘ کے نقیب بن گئے ہیں؟اگرچہ ان 20افراد میں سے اکثر کو Electables یعنی الیکشن جیتنے والے ضرور قرار دیا جا سکتا ہے تاہم ان دنوں جس طرح میاں نواز شریف کا بیانیہ پنجاب میں عوام کو اپنی جانب متوجہ کرتا نظر آرہا ہے اس کی وجہ سے لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کے سیاسی مستقبل پر سوال بھی اُٹھتے دکھائی دے رہے ہیں اگرچہ ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ انہیں پہلے جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کے نام پر اُکسانے اور اب بنی گالہ کی چراگاہ تک ہانکنے میں بھی کسی اور کا ہاتھ ہے تاہم اس بیانیئے سے قطع نظر اس بیس رکنی گروپ کے مطالبے اور ازاں بعد ان کو اپنی جانب متوجہ کر کے تحریک میں ضم کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے اقتدار کے پہلے سو دن میں جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے عملی اقدام کے حوالے سے ’’معاہدہ‘‘ پر دستخط کرنے کا جو کھیل رچایا گیا اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ہماری سیاست اس قسم کے معاہدوں سے پہلے ہی اٹی پڑی ہے، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں صرف پیپلز پارٹی اور لیگ (ن) کے مابین لندن میں محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے مابین جو میثاق جمہوریت طے پایا تھا جس میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی شریک تھیں اس کا جو حشر کیا گیا اور دھجیاں اڑائی گئیں، اس کے پرزے سندھ اور پنجاب کے درمیان سے لیکر اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ہر سو بکھرے دکھائی دیتے ہیں، اسلئے اس تازہ معاہدے کا آنے والے دنوں میں کیا حشر ہونے والا ہے اس حوالے سے پیشگوئی کرنے کیلئے بندے کو سیاست کا پی ایچ ڈی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بقول شاعر

کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل

کل نہ پہچان سکے گی گل ترکی صورت

مسئلہ اتنا سادہ اور آسان بھی نہیں ہے کہ اس پر خوشی کے جو شادیانے ان دنوں جنوبی پنجاب کے سادہ لوح عوام تو ایک طرف، وہاں کے دانشور اور باخبر صحافی، کالم نگار بجا رہے ہیں ان پر اظہار ا طمینان کر لیا جائے، ایسا لگتا ہے کہ ’’سو دن‘‘ کے اس معاہدے کے بعد گویا یہ قافلہ منزل مقصود پر پہنچ کر راستے کی تمام تھکاوٹ بھول کر اطمینان کی لمبی سانسیں لے رہا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ تو اب شروع ہوا ہے، چلئے ایسے موقع پر کوئی کھنڈت ڈالتے ہوئے اس بات سے بھی احتراز کرتے ہیں کہ وہ جو پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ’’د مقدمے سر تہ گورہ‘‘ یعنی مقدمے کا فیصلہ کیا ہوگا کہ دیوانی مقدمات تو ویسے بھی آدمی کو کیا آنے والی نسلوں کو بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں، اور ہم نہیں کہتے کہ ابھی تو الیکشن نے ہونا ہے اور نتیجہ کیا ہوتا ہے یعنی تحریک انصاف مرکز اور کم ازکم پنجاب میں دوتہائی اکثریت لینے میں کامیاب ہوتی بھی ہے یا نہیں، بلکہ تصور کر لیتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے، تو پھر کیا ہوگا؟ کیونکہ پنجاب اسمبلی پہلے ہی دو متفقہ قرار دادیں منظور کر چکی ہے جن میں ایک سرائیکی صوبہ (جسے اب جنوبی پنجاب صوبہ) قرار دے کر 20افراد لیگ (ن) کو خیرباد کہہ چکے ہیں اور تحریک انصاف کیساتھ معاہدہ کر کے مطمئن ہیں، تو دوسری قرارداد صوبہ بہاولپور کی بحالی کا ہے اور جنوبی پنجاب صوبہ تحریک کے سامنے آنے کے بعد نواب آف بہاولپور نے ایک بار پھر علیحدہ صوبے کیلئے آواز اٹھا کر حکومت کو الٹی میٹم بھی دیدیا تھا اب اس صورتحال میں جبکہ پنجاب اسمبلی میں کئی سال سے دو صوبوں کی متفقہ قرار دادیں موجود ہیں ایک نئے اور متحدہ صوبے کیلئے آواز اٹھانے اور اس کے حق میں ایک بار پھر نئے سرے سے قرارداد لانے کا انجام کیا ہوگا؟ یعنی سابقہ قراردادوں کی آئینی اور قانونی حیثیت کیا ہوگی جبکہ بہاولپور کے عوام جو سرائیکی کے نام پر صوبے کے قیام کے اگر حق میں نہیں تو عین ممکن ہے کہ مخالفت بھی نہ کریں تاہم چونکہ سرائیکی صوبہ لسانی بنیادوں پر بنانے کے مطالبات تھے جبکہ بہاولپور والے اپنی زبان کو ریاستی زبان کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی گمبھیر صورتحال ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے آئینی اور قانونی ماہرین زیادہ بہتر انداز میں رائے کا اظہار کر سکتے ہیں، اسی اثنا میں کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی آوازیں ایک بار پھر ابھرنا شروع ہوگئی ہیں، ساتھ ہی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے مطالبات کے سنگ صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی سرائیکی صوبے یا جنوبی پنجاب صوبہ میں ضم ہونے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں، ادھر ظاہر ہے صوبہ ہزارہ والے کیوں خاموش رہیں گے، وہاں سے بھی فی الحال تو کمزور سے مطالبات کا ایک بار پھر آغاز ہوا ہے لیکن آنے والے دنوں میں اس میں کتنی توانائی پیدا ہوتی ہے فی الحال اس پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ اس لئے تحریک جنوبی صوبہ محاذ کا آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے ہاتھوں کیا حشر ہونے والا ہے اور کیا اس ’’معاہدے‘‘ کا آخری نتیجہ بھی پیپلز پارٹی اور لیگ (ن) کے مابین ہونے والے میثاق جمہوریت جیسا نکلے گا یا پھر واقعی یہ وعدے وعید ایفائے عہد کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کسی منطقی انجام تک پہنچ پائیں گے۔ بقول ناز مظفر آبادی

برادران سیاست کسی کے دوست نہیں

یہ بیچ دیںگے تمہیں کوڑیوں کے بھاؤ میں

متعلقہ خبریں