Daily Mashriq


عاجزی کو تکبر کھا جاتا ہے

عاجزی کو تکبر کھا جاتا ہے

انسان رویوں سے پہچانا جاتا ہے۔ انسان سماج میں رہتے ہوئے دوسروں کیساتھ جو باہمی لین دین کرتا ہے اس سے انسان کے رویے ظاہر ہوتے ہیں اور انہی رویوں کی بنیاد پر ہم کسی دوسرے انسان کے بارے میں رائے بناتے ہیں۔ رویوں کے تناظر میں انسان کی صفات تو بہت زیادہ ہو سکتی ہیں لیکن شاید انسان کی سب سے خوبصورت صفت عاجزی ہے۔ دوسروںکے لئے عاجز وانکسار بندہ آسان ہوتا ہے۔ اس سے بات کی جا سکتی ہے۔ اس کیساتھ معاملات میں آسانی ہوتی ہے۔ اسے سمجھانا آسان ہوتا۔ اس سے سمجھنا آسان ہوتا ہے جبکہ ذاتی سطح پر عاجزی وانکساری برتنے والے انسان کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی رِیا سے پاک ہوکر سادگی کی طرف چلی جاتی ہے جو زندگی گزارنے کا سب سے آسان آلہ ہے جبکہ مصنوعی پن ایک ایسا بوجھ ہوتا ہے کہ جس کو انسان بڑی مشکلوں سے ڈھوتا ہے۔ ایسا انسان حسد سے ماوراء ہو جاتا ہے جبکہ حسد ایک ایسا دیمک ہے جو انسان کو اندر ہی اندر سے کھاتا رہتا ہے اور انسان کو خبر تک نہیں ہوتی۔ حسد کرنے سے انسان دوسروں کو بدحال اور انہیں دکھی دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ یہ منفی رویے کا وہ حوالہ ہے کہ جس میں خود انسان پھنس کر رہ جاتا ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور منکسرالمزاج لوگوں کو تلاش کرکے ان کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو شدید حیرت ہوگی کہ ان کے چہروں پر آپ کو کسی قسم کی مایوسی، تکبر، ٹنشن وغیرہ کے آثار دکھائی نہیں دیں گے۔ ایسے لوگ مشکل حالات میں آسانی سے جی لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عاجزی ہو سکتا ہے کہ کسی کو ودیعتاً مل جائے لیکن عام طور پر یہ صفت گہری ریاضت سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس ریاضت میں انسان نے اتنا کرنا ہوتا ہے کہ اپنی حیثیت کو سمجھنا ہوتا ہے۔ انسان اپنی حیثیت کو اسی وقت سمجھ سکتا ہے جب وہ اپنے خالق کو سمجھنے کی کوشش کرے کیونکہ خالق کو سمجھ کر ہی انسان خود کو سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی لامنتہا ذات پر جب انسان سوچتا ہے اور اس ذات کی کبریائی انسان کے حواس کو چونکا دیتی ہے اور اپنی اصل حقیقت کو جان جاتا ہے کہ وہ دراصل کچھ بھی نہیں ہے۔ کائنات میں انسان کی حیثیت کسی چوٹے سے نقطے سے بھی کم ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جب انسان عجزو انکسار سے آشنا ہوتا ہے۔ عجز وانکسار تکبر کی دوسری انتہا ہے۔ انسان جب تکبر کرتا ہے تو دوسرے انسان اسے اپنی ذات سے کمتر دکھائی دیتے ہیں حالانکہ اس کا تکبر کسی دنیاوی خوبی کی بنیاد پر ہوتا ہے جو دراصل ودیعت کے سوا اور نہیں ہوتی۔ پیسہ، حسن، علم، عہدہ، طاقت وغیرہ میں کون سی چیز ہے جو پائیدار ہے یا جسے دوام ہے۔ پھر ان غیر فانی چیزوں پر غرور بے وقوفی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ پھر کتنی عجیب بات ہے کہ انسان زندگی اپنی جئے اور سوچے دوسروں کے بارے میں۔ تکبر ہو یا عجز وانکساری دونوں بنیادی طور پر زندگی کے Perception ہیں۔ انسان کی زندگی کی پرسپشن مخصوص ہوجانے پر بھی عجیب صورتحال سامنے آتی ہے۔ اب ان پرسپشن میں بھی دو قسمیں ہوسکتی ہیں۔ ایک وہ جو حقائق پر مبنی ہوتی ہے اور دوسری وہ جو حقائق سے منافی ہوتی ہے۔ دوسری صورت انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے جب انسان زندگی کے بارے میں کسی نقطہ نظر کو دل میں یوں راسخ کر دے وہ سمجھے کہ جو وہ سمجھتا ہے بس وہی ٹھیک ہے تو دماغ بیرونی دروازے مقفل کر لیتا ہے، کوئی بات باہر سے اندر نہیں آسکتی۔ یوں وہ انسان دوسرے انسانوں کو جو اس جیسے نہیں ہوتے یا ان کا نقطہ نظر ان جیسا نہیں ہوتا یہاں تک کہ ان کا لائف سٹائل بھی ان جیسا نہ ہو تو وہ اشخاص اس انسان کیلئے کمتر ہو جاتے ہیں۔ علاقے کی ایک ہردلعزیز شخصیت کی وفات پر انہیں دفن کیا جا رہا تھا۔ اس شخصیت کی وفات پر سب دکھی تھے۔ علاقے کے ایک نوجوان زبیر بھی ان کے معتقد تھے اگرچہ زبیر اوباش قسم کی شہرت رکھتے تھے۔ ان کی تدفین کے وقت زبیر قبر میں اُتر گیا، کچھ دیر بعد بڑوں نے اس میت کے بھائیوں کو کہا کہ وہ قبر میں خود اُتر کر تدفین کا فریضہ انجام دیں۔ قبر میں اُترے تمام لڑکوں کو باہر کھڑے لوگوں نے ہاتھ دے کر اوپر اُٹھا دیا۔ زبیر کے قریب ایک بہت ہی پاکیزہ شخص کھڑے تھے۔ جب زبیر نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس پاکیزہ شخصیت نے نخوت سے منہ ہی موڑ لیا۔ میں نے بعد میں اس پاکیزہ شخصیت سے دریافت کیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تو جواب ملا کہ مجھے زبیر کے کردار سے نفرت ہے اور میں اس سے ہاتھ ملا کر خود کو پلید نہیں کر سکتا۔ میں نے جواب میں بس اتنا ہی کہا کہ حضرت کتنی عجیب باتہے کہ ہم دونوں ایک امتحان میں بیٹھے ہوں اور پیپر حل کر رہے ہوں اور آپ مجھے فیل قرار دے دیں۔ انسان تو اللہ کی تخلیق ہے اور ہر انسان نے اللہ کو جواب دینا ہے۔ میں اور آپ کون ہیں کہ کسی کو برا کہیں۔ اللہ بہت بڑا ہے اور بہت بڑا معاف کرنے والا ہے۔ زبیر اگر بری زندگی گزارتا ہے تو اسے اچھی زندگی کی طرف محبت ہی واپس لاسکتی ہے۔ اللہ بھی تو انسان کی انسان سے محبت کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں