Daily Mashriq

محفل رقص وسرود

محفل رقص وسرود

، شباب اور شراب اگر یہ تین قوافی کسی غزل میں در آئیں تو وہ غزل ’خمری‘ بن کر جھوم اُٹھتی ہے۔ بن پئے جھوم اُٹھتے ہیں دل اور ذوق والے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ

خود اپنی مستی ہے، جس نے مچائی ہے ہلچل

نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل

گویا نشہ شراب میں نہیں ہوتا وہ بے چاری مفت میں بدنام ہو جاتی ہے منی بن کر۔ میں خود نہیں کر رہا یہ خمار آلود باتیں۔ مجھے یاد آر ہے ہیں وہ دن جب مجھے سرکاری خرچے پر برادر اسلامی ملک ملائیشیا کے جزیرہ نما کونٹان میں ہونے والی چند روزہ ورکشاپ میں شرکت کیلئے بھیجا گیا تھا۔ آسٹریلیا، چائنا، انڈیا، سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور یاد نہیں آرہا کن کن ممالک سے زن ومرد آئے تھے اس ورکشاپ میں شریک ہونے کیلئے ۔ ہمیں وہ چاندنی رات بھلائے نہیں بھولتی جب ہم سمندر کے کنارے بچھی ٹیبلوں پر سجے جھینگوں، مچھلیوں اور رنگ رنگ کے سمندری کھاجوں پر مشتمل وہ دعوت اُڑا رہے تھے جس کے آخر میں ہمیں بادہ تلخ پینے کی پیشکش کی گئی تھی۔ مچھلی نما کپڑے پہنی میزبان لڑکی دیگر ٹیبلوں سے ہوتی ہوئی ہمارے پاس آکر ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں شراب لانے کا پوچھنے لگی۔ لے آیئے شیمپیئن کا ایک گلاس میں نے جیسا دیس ویسا بھیس کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا اور پھر چند ہی ساعتوں میں پہنچ گیا ہمارے سامنے مشروب آتشیں کا بلوریں جام۔ اس سے پہلے کہ میں اس جام کفر کی جانب ہاتھ بڑھاتا، کچھ ہی فاصلے پر پڑی ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے مہمانوں میں سے آسٹریلیا کے مسٹر برائن راقم السطور کو بآواز بلند مخاطب کرکے کہنے لگے۔ تم تو کہتے تھے میں نے کبھی بھی نہیں چھوا مینا وجام کی سرخ پری کو کیونکہ بقول تیرے حرام ہے ایسا کرنا۔ مسٹر برائین کی آسٹریلین انگریزی کے جواب میں، میں پاکستانی لہجے کی انگریزی میں اسے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہنے لگا کہ اللہ نے ہم کو شراب جنت میں پیش کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ معلوم نہیں کہ ہم جنت میں جا بھی سکتے ہیں یا نہیں اسلئے اس نے یہیں بھیج دی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں قاضی بھی نہیں چھوڑتا مفت کی شراب، سو بھلا میں کیوں ٹھکراؤں گا اس مفت کی ناری کو، میری یہ منطق سن کر ساری محفل زعفران زار بن گئی، وہ اتنا ہنسے کہ بس ہنستے رہ گئے، اس دوران نجانے وہ کونسی طاقت یا جذبہ تھا جس نے میرے اندر کے ’زاہد‘ کو جگا دیا اور میں نے جام اُٹھا کر ہونٹوں سے لگانے کی بجائے ایک طرف دھکیل کر پاک باز بنے رہنے کا ایکٹ پورا کر دیا۔ میری اس حرکت پر محفل کے شرکاء ایک بار پھر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔

ہم اپنے حال پریشاں پہ بارہا روئے

اور اس کے بعد ہمیں ہنسی بارہا آئی

ہم نے دل ہی دل میں رئیس امروہی کا یہ شعر پڑھا اور پھر ہنسنے والوں کے قہقہوں میں اپنے کھسیانا قہقہے ملا کر رسم دنیا نبھانے لگے۔ ساحل سمندر پر سجائی جانے والی اس محفل کے علاوہ ہمیں اپنے اعزاز میں سجائی جانے والی وہ الوداعی پارٹی بھی اچھی طرح یاد ہے جس میں شراب نام کی کوئی چیز نہیں تھی البتہ کباب اور شباب ضرور شامل تھے۔ بار بی کیو کی انگیٹھیوں کا دھواں، خوشبو اور دعوت کام ودہن کے بعد رقص وسرود کی محفل جمائی گئی جس میں سروں پر تاج سجائے چھوٹے چھوٹے قد والی ٹیکنی کلر پریاں ہمارے سامنے سجے سٹیج پر رقصاں تھیں، رقص کے دوران وہ سٹیج سے اُتر کر ایک ایک کے پاس جاکر انہیں اپنے ساتھ رقص کرنے کی دعوت دیتیں۔ ایک دو ناریاں میرے پاس بھی آئیں لیکن میرے اندر کی پاکستانیت نے مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ رقص وسرود کی یہ محفل بام عروج پر تھی جب بے پناہ تالیوں کی گونج میں ایک مہا گلوکار اور رقاص ’داتو محمد‘ کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ ہم یہ سن کر حیران رہ گئے کہ وہ بلدیہ کونٹان کے ناظم اعلیٰ کے عہدے پر فائزتھے۔ انہوں نے سٹیج پر آتے ہی ملائیشین زبان میں نہ صرف دل موہ لینے والا گیت پیش کیا بلکہ سٹیج پر موجود اپسراؤں کی باہوں میں باہیں ڈال کر جو رقص پیش کیا اسے دیکھ کر راقم السطور دل ہی دل میں کہتا رہ گیا کہ ’’اگر یہ بندہ پاکستان میں ہوتا اور ناظم اعلیٰ جیسے عہدے پر فائز ہوتا تو ان حرکتوں کی وجہ سے جانے کب کی چھٹی ہوگئی ہوتی اس کی‘‘۔ میں نے بیتے دنوں کی اس مسحور کن داستان کی جھلکیاں ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میران شاہ میں برپا ہونے والی ناچ گانے کی اس محفل کی خبر پڑھ کر عرض کرنا ضروری سمجھا جس کی بھاری قیمت محفل جمانے والوں کو نوکری سے معطلی اور انکوائری کمیٹی کی تشکیل کی صورت میں چکانی پڑی، اور مقامی لوگوں کا غم وغصہ اور لعن طعن الگ سے ان کی رسوائی کا باعث بنیں۔ پابندیوں کے پریشر ککر میں پکنے والے ہسپتالوں میں رقص وسرود کی محفلیں نہ جمائیں گے تو اور کیا کریں گے چاہے انہیں اس کی جو قیمت بھی ادا کرنے پڑ جائے۔ یہ ہے فرق ایک ترقی یافتہ اسلامی ملک اور ترقی پذیر ہونے کے معیار کو بھی نہ پہنچ پانے والے ملک کی قیادت اور لوگوں کے اجتماعی شعور میں، پاکستان اور برادر اسلامی ملک ملائیشیا کے ثقافتی رویوں کا تقابل صرف ایک کالم میں کرنا اتنا آسان نہیں، مجھے تو فکر ہے عمران خان کی رقص وسرود سے مزین متوقع تبدیلی کی، جو خاکم بدہن مار دھاڑ سے بھرپور مستقبل کا روپ نہ دھار لے۔

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا، کہ ہم نکلے

متعلقہ خبریں