Daily Mashriq

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن

نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)سے قرضے کے حصول کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے3سال کے دوران6ارب ڈالر ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر6ارب ڈالر اور یہ اضافی2سے3ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے تو ہمارے قرضے کی صورتحال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کیساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کیے جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی چیزیں تھیں جس کو ہمیں خود کرنا چاہئے جیسے کہ اگر آئی ایم ایف کہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات کریں تو یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے، اگر سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا ہمارے مفاد میں ہے۔ اس سے اتفاق ضروری نہیں کہ مشیر خزانہ جن امور کا عندیہ دے رہے ہیں ان کا حصول بھی ہو، کم ازکم ماضی میں نہ صرف یہ کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اُترنے کی زیادہ سعی نہ کرنے اور پروگرام کے مطابق اصلاحات لانے میں ناکامی کا شکار ہی رہا ہے۔ مشیر خزانہ کے برعکس وزیر خارجہ نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان حالات کا تذکرہ کیا ہے جس کے باعث پاکستان آئی ایم ایف سے رجوع پر مجبور ہوا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مالی تعاون حاصل کرنے کے خواہشمند نہیں تھے لیکن ہم بے بس تھے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک کو سرمایہ کاری کی کمی کا سامنا ہے، مالی خسارہ اور بیروزگاری عروج پر ہے، صورتحال روزبروز بگڑتی جارہی ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تین سال میں قسط وار ملنے والے چھ ارب ڈالر کا معاہدہ ہونا ملک کے عوام کیلئے کوئی خوشخبری نہیں اور نہ ہی اس سے حکومتی دعوؤں کے مطابق کسی معاشی بہتری کی توقع ہے، مستزاد یہ کہ چھ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے، یوں پاکستان تین ارب ڈالر کا قرض لیکر چھ ارب ڈالر کا مزید قرض دار ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ صرف پاکستان میں مزید غربت اور بیروزگاری کا باعث بنیں گی بلکہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عوام کو آن گھیرے گا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے قرض کی واپسی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو پورا نہ کرنا ہے۔ پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ پاکستان قرضہ تو لے لیتا ہے مگر قرض کے حصول کے وقت وعدہ کی گئی شرائط جیساکہ معاشی اصلاحات، پورا نہیں کرتا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اس مرتبہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہے اور پاکستان کو سخت شرائط پوری کرنا پڑیں گی۔ قرضوں سے معیشت اچھی ہوتی تب تو بہتری کی امید تھی، معیشت کی بہتری کا انحصار برآمدات میں معقول اضافے اور بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافہ، ٹیکس اور محصولات کی وصولی کے اہداف کے حصول کیساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری سے بہتری آتی ہے۔ فی الوقت ملک جن سیاسی ومعاشی حالات سے گزر رہا ہے اس میں تبدیلی آئے بغیر نہ تو بیرون ملک سے سرمایہ آنے اور نہ ہی ملکی سرمایہ داروں کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔ پاکستان شرح نمو اور ٹیکسوں کی وصولی کے اہداف سمیت سالانہ معاشی ترقی کے منازل میں اس سال خاص طور پر تنزلی اور ناکامی کا شکار رہا اور فی کس پاکستانی آمدنی بحساب ڈالر خاصی کمی ہوئی۔ عالمی ادارے سے مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے ہونے والے مذاکرات میں حتمی مرحلے پر وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران کو شامل نہ کرنا اور آخری لمحات میں غیرمنتخب افراد کی جانب سے حتمی مذاکرات اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کرنے کے بارے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اس سے بہتر اور مناسب شرائط پر معاہدہ کر سکتا تھا۔ یہ اعتراض اپنی جگہ، یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ناقابل تردید ہے کہ پاکستان کی کڑی شرائط تسلیم کرکے ہی حصول قرض مجبوری تھی۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے مذاکرات میں غیر ضروری تاخیر اور حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع کرنے سے ہچکچاہٹ بھی سودمند حکمت عملی ثابت نہ ہوئی۔ اس دوران ملک کو اگر قرض نہ لینا پڑتا تو اس فیصلے کو احسن قرار دینا ممکن تھا مگر صورتحال برعکس نکلی اور ملک مزید قرضوں میں جکڑے جانے کے بعد بالآخر آئی ایم ایف ہی سے رجوع پر مجبور ہوا۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور کھچاؤ کیفیت سے بھی مذاکرات کے ماحول پر اثر پڑا، وزیر خزانہ اور معاشی ٹیم میں تبدیلیوں کی نوبت بھی آئی۔ یہ سارے حالات خدانخواستہ معاشی بحران کی صورتحال سے بڑھ کر قومی بحران میں تبدیل ہوسکتے ہیں جس کی ساری ذمہ داری تو حکومت پر عائد نہیں ہوتی لیکن ذمہ داری کا بار بالآخر حکومت ہی پر آن گرنا فطری امر ہوگا۔ معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئی ایم ایف سے طے پانے والی شرائط کے باعث ڈالر دو سو روپے کے بلند ترین اور خطرناک سطح تک جا سکتا ہے۔ سات سو ارب روپے کے ٹیکسوں کے استشنیٰ کی واپسی، نئے ٹیکسوں کے نفاذ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ سے خدانخواستہ ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جسے سنبھالنا ہمارے لئے مشکل ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشی حالات میں بقا کی جنگ اور اس بحران کی شدت میں کمی لانے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام اور ہم آہنگی کی فضا کی اشد ضرورت ہے۔ اگر موجودہ حالات میں سیاسی عدم ہم آہنگی، سیاسی عدم استحکام اور انتشار کی کیفیت سے واسطہ پڑے تو ملک کو دہری مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں