Daily Mashriq

محکمہ صحت کی چشم کشا رپورٹ

محکمہ صحت کی چشم کشا رپورٹ

خود محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں صرف 47فیصد آبادی کو ہسپتالوں کی ایمرجنسی، آئی سی یوز اور دیگر نگہداشت یونٹس میں زندگی بچانے والی ادوایات کی سہولت میسر ہے جبکہ اٹھاون فیصد کو یہ سہولت میسر نہیں۔ حالانکہ متعلقہ ادوایات کی ہسپتالوں میں چوبیس گھنٹے دستیابی ضروری ہے۔ محکمۂ صحت کو اگلے سالوں کے دوران ہسپتالوں میں 90فیصد تک لازمی ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کا ٹارگٹ سونپا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود محکمہ صحت کی اس رپورٹ میں اعتراف جہاں ایک جانب ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کا بھرم کھولنے کیلئے کافی ہے وہاں ان سے ان دعوؤں کی بھی تردید ہوتی ہے جو عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اکثر وبیشتر ہمارے حکمران کرتے ہیں۔ یہ امر نہایت مضحکہ خیز ہے کہ فی الوقت ہسپتالوں میں ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ادویات دستیاب نہیں لیکن حکومت محکۂ صحت کو اگلے سالوں میں نوے فیصد تک لازمی ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کا ہدف دے رہی ہے۔ محکمۂ صحت کی بھی یقیناً کوشش ہوگی اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کی بھی کوشش ہوگی کہ ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی بوقت ضرورت دستیابی یقینی بن جائے۔ حکومت کو صرف ہدایت نہیں دینی چاہئے حکومت کا کام وسائل اور فنڈز کی فراہمی ہے جس کے بعد محکمے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد کرے۔ حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے کے بعد ہی ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کرنے کے نتائج مثبت نکل سکتے ہیں صرف رپورٹس مرتب کرنا لاحاصل امر ہوگا۔

بی آر ٹی پر کام تسلسل سے ہونا چاہئے

وزیراعظم عمران خان کی ایک مرتبہ پھر بی آرٹی پر کام تیز کرنے کی ہدایت اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی اس ضمن میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں تعطل دور کر کے دو شفٹوں میں کام کرنے اور کام کی تیزتر تکمیل یقینی بنانے کے اقدامات ٹرانسپورٹ کی مشکلات سے دوچار شہریوں کیلئے خاص طور پر قابل اطمینان امر ہے۔ یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ بی آرٹی کاریڈور پر چلنے والی بسوں کی آمد ورفت شروع ہوگئی ہے۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کی دو حکومتیں یہ منصوبہ جلد مکمل نہ کرسکیں اور ان کو میڈیا وعوام کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے تئیں ایسا کرنے میں میڈیا اور عوام حق بجانب ہیں۔ اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جس دن بی آر ٹی شروع ہوجائے اس دن وہ ساری باتیں تنقید اور شکایات ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔ بظاہر تو بی آرٹی پر تقریباً کام کی تکمیل ہوچکی ہے اس کے بعد مزید کتنا عرصہ درکار ہے اس کا درست اندازہ متعلقہ منصوبے پر کام کرنے والوں کو ہوگا، شاید سول ورک کی تکمیل دیگر تنصیبات کے قیام کیلئے ضروری ہے لہٰذا جتنا جلدی ہوسکے بقایا کام مکمل کیا جائے اور جلد سے جلد تکنیکی تنصیبات پر کام شروع کیا جائے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری وسائل کی فراہمی ہے جس میں کمی نہ آئے تو کوئی وجہ نہیں کہ کام میں تاخیر ہو۔

چینی باشندوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حال ہی میں سامنے آنے والے دلہنوں کی اسمگلنگ کے ریکیٹ کے معاملے میں اپنے تحقیقات کا دائرۂ کار وسیع کرتے ہوئے صوبہ سندھ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ پنجاب میں یہ ریکیٹ سامنے آیا تھا جہاں کچھ کیسز میں متاثرین نے انتظامیہ تک رسائی حاصل کی جس سے تحقیقات مزید آگے بڑھی اور گینگ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اب خیبر پختونخوا میں بھی اس قسم کا واقعہ سامنے آیا ہے ممکن ہے مزید واقعات سامنے آئیں، اگرچہ بعض عناصر اسے اسی پیک سے جوڑتے ہیں حالانکہ جرائم پیشہ عناصر کی وارداتوں سے سی پیک اور حکومتوں کا کوئی سروکار نہیں ہوتا، اسے کسی منصوبے سے جوڑنے کی بجائے اگر دھوکہ دہی فراڈ اور انسانی سمگلنگ کے مقدمات کی حد تک رکھا جائے اور گرفتار شدگان سے متعلقہ قوانین کے تحت نمٹا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ اس قسم کے عناصر چینی عوام اور چینی حکومت کیلئے بھی بدنامی کا باعث ہیں جن سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ ان واقعات میں ملوث مقامی افراد سے بھی سختی سے نمٹا جانا چاہئے اور اس قسم کے گروہوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں