Daily Mashriq


گوادر حملہ اور بڑے کھیل کے بڑے کھلاڑی

گوادر حملہ اور بڑے کھیل کے بڑے کھلاڑی

گوادر میں پی سی ہوٹل میں ہونے والے حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور تین حملہ آور مارے گئے۔ حملہ کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نامی زیرزمین گروہ نے قبول کی۔ یہ تنظیم پہلے بھی چینی انجینئروں کی بس پر خودکش حملے اور کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ چینی قونصل خانے پر حملے کے چند ہی دن بعد بی ایل اے کا سربراہ اسلم اچھو افغانستان میں پراسرار انداز میں مارا گیا تھا۔ گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پر راکٹوں سے حملہ بھی کیا جا چکا ہے۔ گوادر مکران ڈویژن کا حصہ ہے اور اس کی سرحد ایران سے ملتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسی علاقے میں پاکستان نیوی اور سیکورٹی فورسز کے چودہ افراد کو بسوں سے اتار کر بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد ہی پاکستان نے ایران کی سرحد پر باڑھ لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب اس باڑھ کو نقصان پہنچانے کیلئے ہونے والی ایک کارروائی بھی ناکام بنائی جا چکی ہے جس میں چودہ حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ کمانڈر فرنٹیر کور نے سینیٹ کو بتایا کہ اس حملے میں ملوث تمام افراد ایران کی طرف سے نہیں آئے تھے بلکہ ان میںکچھ مقامی افراد بھی شامل تھے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورۂ ایران کے موقع پر ان مسائل پر کھل کر گفتگو ہوئی تھی بلکہ عمران خان نے تو بعض واقعات میں ایران کیخلاف پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے کی بات برسرعام تسلیم بھی کی تھی جس پر خود اپنے ملک میں انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں تھی کیونکہ ماضی میں پاکستان اپنی سرزمین پر کارروائیاں کر کے ایران کو مطلوب افراد حوالے کر چکا ہے اور ایران مانے یا نہ مانے مگر کلبھوشن یادیو ایران کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے کا زندہ ثبوت ہے۔ گوادر کا پی سی ہوٹل بندرگاہ کے کنارے پر ایک نمایاں مقام پر تعمیر ہوا ہے جس کی ایک علامتی حیثیت ہے۔ یہ غیر ملکی مہمانوں کیلئے جائے عافیت بھی ہے اور اس کی رونقیں گوادر کے پُرامن ہونے اور بیرونی دنیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کا باعث بھی ہیں۔ اسے گوادر کی سب سے پہلی اور بڑی نجی سرمایہ کاری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اور اس طرح کی دوسری علامتوں پر حملے کا مقصد غیرملکیوں کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ ہر علاقہ اور شہر ان کیلئے محفوظ نہیں۔ پاکستان نے اپنا اندرونی دفاع بڑی حد مضبوط بنا لیا ہے اور اب ریاست اپنی حدود کے اندر شناختی کارڈ، پاسپورٹ، شہریت، بیرونی سفارتکار، کنٹریکٹرز اور این جی اوز سمیت دیگر بہت سے معاملات پر اپنی گرفت قائم کر چکی ہے۔ اب یہ ملک اس طرح غریب کی جورو نہیں رہا جو منظر آج سے دس سال پہلے پیش کر رہا تھا۔ جب ریاست کے اندر غیرملکی ایما پر ریاستیں قائم ہو رہی تھیں اور اصل ریاست لاچار ومجبور ہو کر اس ساری صورتحال پر ٹھنڈی آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی تھی۔ حد تو یہ کہ ریاست بند کمرہ اجلاسوں میں سرگوشی کے انداز میں دہشتگردی کے اصل محرکات اور سرپرستوں کا نام تو لتیی تھی مگر کھلے عام بس رحمان ملک کی مبہم سی اصطلاح ’’تیسرا ہاتھ‘‘ ہی سنائی دیتی تھی، یہ منظر اب بڑی حد تک بدل چکا ہے۔ ریاست اپنا گھر ٹھیک کر چکی ہے مگر بیرونی خطرات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ جن تین دہشتگردوں کو پی سی ہوٹل میں مہمانوں کو یرغمال بنانے کا منصوبہ سونپا گیا تھا ان کی تیاری اور تربیت پر ایک خطیر رقم خرچ ہوئی ہوگی۔ یہ کسی پرائیویٹ فورس کے بس میں نہیں اس کے پیچھے کسی پردہ نشیں کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ امریکہ اور چین کے دفاعی تصورات بری طرح تضادات کا شکار ہیں۔ امریکہ کیلئے خطے میں جو بات خوب ہے چین کی نظر میں وہ ناخوب ہے۔ امریکہ اس بات کو ذہن نشین کر چکا ہے کہ چین دنیا کی اقتصادی اور عسکری فرنٹ سیٹ بہت مہارت کیساتھ امریکہ سے خالی کرا کے خود براجمان ہونا چاہتا ہے۔ اس تصور یا غلط فہمی سے سوائے دشمنی کے اور کوئی جذبہ جنم نہیں لے سکتا۔ حال ہی میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں امریکہ کی غیرحاضری بتا رہی تھی کہ وہ چین کے منصوبوں کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کر رہا۔ پاکستان سے گزرنے والا پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ مرکزی نہیں تو چند مرکزی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اسی لئے یہ منصوبہ بھی عالمی پراکسی جنگوں کا ہدف بن کر رہ گیا۔ بلوچستان اور گوادر سی پیک کا سب سے اہم حصہ ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی نشانے پر ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس علاقے کو غیرمستحکم کرنے کیلئے بڑے کھیل کے بڑے کرداروں کو ہمسایہ ملکوں میں بیس کیمپ میسر آگئے ہیں۔ ایران اور افغانستان کی سرزمین اس مقصد کیلئے آسانی سے استعمال کی جا رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں قبرستان جیسا امن چاہتا ہے اور چاہتا بھی اپنی شرائط اور اپنے پسندیدہ نظام الاوقات کے تحت ہے۔ بھارت یہی معاملہ کشمیر میں بھی چاہتا ہے مگر خود وہ پاکستان میں کئی ’’نرم پیٹ‘‘ اور کئی رستے ہوئے زخم رکھنا چاہتے ہیں۔ سی پیک کا اہم ترین حصہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان اس میں سب سے مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور اس کے زیراثر طاقتیں چاہتی ہیں کہ ان کیخلاف پراکسی جنگیں ختم ہو جائیں اور وہ جب، جہاں اور جس نام سے چاہیں پراکسی جنگیں چھیڑے رکھیں۔ یہ سوچ دنیا میں امن کی راہ میں بری طرح رکاوٹ ہے۔ پراکسی جنگیں دنیا میں بیک وقت ختم کرنا ہوں گی۔ دھونس، دباؤ اور لالچ سے جنگوں کی بنائی گئی فضا ختم نہیں کی جا سکتی۔ جنگوں کی محنت سے بنائی گئی فضا کو جنگوں کے خاتمے کی حقیقی اور سنجیدہ کوشش سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں