Daily Mashriq


فاٹا اصلاحاتی ایجنڈے پر نظرثانی کریں

فاٹا اصلاحاتی ایجنڈے پر نظرثانی کریں

فاٹا کی اصلاحات کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور طریقۂ کار میں شروع دن سے ہی چند خامیاں موجود ہیں، اصلاحاتی پروگرام کو قبائلی تاریخی پس منظر کے برعکس غیرحقیقی توقعات پر استوار کرنا ہی اس ایجنڈے میں بنیادی نقائص کا مؤجب ہے۔ البتہ اب بھی اگر ہوش کے ناخن لے لئے جائیں تو فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں قبائلی لوگوں کے حوالے سے لوگوں کے ذہن میں ایک خاص طرح کا تاثر پایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام قبائلی غیرتعلیم یافتہ، دستار اور پگڑیاں پہننے والے اور ہردم اپنے ساتھ بندوقیں لئے چلنے والے باریش لوگ ہیں گوکہ قبائلیوں کے بارے میں اس تاثر نے انہیں ایک طویل عرصے تک کسی طرح کی بیرونی دخل اندازی سے محفوظ رکھا البتہ دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ کے نتیجے میں ہونے والے واقعات اور جنم لیتے حالات نے ان کے بارے میں عوامی تاثر کو مزیدگمبھیر کر دیا۔ جہاں اس جنگ کے نتیجے میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو دہشتگرد گردانا جانے لگا، پاکستان میںخاص طور یہ لیبل قبائلیوں کے سر آیا۔ اس حادثاتی تاثر کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے سے ہی پسماندہ رہ جانے والے قبائل کو ان حالات کے باعث مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بحالی اور اصلاحات کے عرصے کے دوران انہیں کوئی خاص توجہ نہ مل سکی۔ مزید برآں ہمارے ہاں قانون سازوں، دانشوروں اور امداد دینے والے اداروں میں بھی اس تاثر نے زور پکڑ لیا کہ قبائلی نہیں جانتے کہ ان کے اپنے لئے کیا بہتر ہے اور ایسے میں قبائلی اصلاحات کو لیکر ہونے والے تمام مباحثے اور اجلاس اسلام آباد کے مہنگے ترین ہوٹلوں تک محدود رہے جہاں ان قبائلیوں کی رسائی تک بھی ممکن نہ تھی۔ 9/11 سے پہلے ان قبائلی علاقہ جات کی تاریخ اور مسائل سمجھنے کے حوالے سے عالمی برادری میں کوئی خاص دلچسپی نہیں پائی جاتی تھی البتہ جنگ کے فوراً بعد ان علاقوں اور لوگوں کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کے مطالبے سر اُٹھانے لگے۔ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے کسی مستند اور قابل استعمال ریکارڈ کے نہ ہونے کے سبب عالمی امدادی اداروں نے جنگ سے متاثرہ یہاں کے لوگوں کی زندگیوں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر تحقیق کروائی۔ ان مشاہدات کے نتیجے میں بدقسمتی سے یہاںجنگ کے بعد رونما ہونے والے تلخ حالات اور بگڑی روایات کو قبائلیوں کا مستقل طرز زندگی سمجھا جانے لگا جبکہ حقیقت میں جنگ کے نتیجے میں اس علاقے اور یہاں کے لوگوں کی ثقافت، طرز زندگی اور تاریخی روایات کو شدید نقصان پہنچا تھا اور عالمی سطح پر ان کی ایسی شناخت بنی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عالمی برادری جو آج کل کے ایسے جدید معاشروں کا حصہ تھی جہاں ریاستی اداروں کے بغیر خود پر حکومت کئے جانے کا تصور بھی محال تھا، ان قبائلی علاقوںکو دیکھ کر ورطہ حیرت میں گم تھی جہاں جدید طرزحکمرانی جیسا کوئی نظام موجود ہی نہیں تھا، مزید برآں جنگ کے نتیجے میں جنم لینے والے پر تشدد حالات کو یہاں کا عمومی طرز زندگی سمجھ کر یہ عالمی برادری اس ظلم اور بربریت میں خود کو ایک مسیحا ماننے لگی تھی جو ان قبائلیوں کو انہی کی تاریک طرز زندگی سے نجات دلانا چاہتی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ سرکاری افسران جنہوں نے یہاں فرائض سرانجام دئیے اور جنہیں یہاں کے تاریخی حالات اور ثقافت کا بخوبی علم تھا، وہ بھی ان علاقوں میں پرانے نظام کو جاری رکھنے کے حمایتی تھے جبکہ حقیقت میں جنگ نے ان قبائلی علاقوں کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات کو شدید ترین نقصان پہنچایا تھا اور ضرورت اس بات کی تھی کہ ریاست یہاں کے لوگوں کی مشاورت کیساتھ ایک نئے معاہدہ عمرانی کو عمل میں لاتی مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہ ہو سکا۔بنیادی طور پر یہ دو غلط مفروضوں کے باعث ہوا۔ پہلا یہ کہ قبائلی علاقوں کا ماحول بھی ملک کے باقی حصوں میں کام کرنے والے حکومتی اداروں کیلئے بالکل موافق ہے اور دوسرا یہ کہ آس پاس کے علاقوں میں کام کرنے والے سرکاری ادارے ہی قبائلی اضلاع میں بہتر طور پر ریاستی کام سرانجام دینے کے قابل ہیں۔ اس تمام ماحول میں وزیراعظم کا گورننس کو ملک کی ترقی میں کلیدی کردار گرداننا خوش آئند ہے اور اسی سلسلے میں انہوں نے اداروں کی ازسرنو تشکیل کیلئے بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کی شروعات انہوں نے ایف۔بی۔آر کا نظام ٹھیک کرنے سے کی ہے البتہ ملک کے باقی اداروں کو لاحق مسائل کی نوعیت بھی چنداں کم نہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ حکومتی اداروں میں اصلاحات لانا یا انہیں ازسرنو تشکیل دینا موجودہ حالات اور چند گروہوں کی موجودگی میں خاصا مشکل ہے البتہ یہ رکاوٹ قبائلی علاقہ جات میں درپیش نہیں۔ جنگ نے وہاں کے اداروں اور حکومتی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اب اگر حکومت چاہے تو یہاں ایسے اداروں اور حکومتی نظم کی داغ بیل ڈال سکتی ہے جس کا خواب اس نے باقی ملک کیلئے دیکھ رکھا ہے۔ بھلا فاٹا وہ غلطیاں کیوں دہرائے جو ملک کے باقی اداراے بارہا دہرا کے تباہی کے اس مقام تک پہنچے ہیں؟حکومت فاٹا میں اصلاحات کیلئے سنجیدہ نظر آتی ہے۔ پچھلے چند ماہ میں وزیراعظم سمیت ریاستی حکام نے جس تواتر سے یہاں کے دورے کئے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ البتہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کے طریقۂ کار کو بدلے اور مؤثر اقدامات کے ذریعے قبائلی عوام کو وہ معیار زندگی دے جس کے وہ مستحق ہیں۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں