Daily Mashriq

نیب کو قابل اعتماد بنانے کی ضرورت

نیب کو قابل اعتماد بنانے کی ضرورت

سپریم کورٹ کی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس1999 میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کرنے کے بعد اس ضمن میں اب کوئی کسر باقی نہیں کہ نیب قوانین کا ازسرنو جائزہ لیکر اسے ہموار اور غیرامتیازی بنایا جائے۔ آمر وقت نے اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق جو قانون منظور کروایا تھا یکے بعد دیگرے دو جمہوری حکومتیں آنے کے بعد اس ضمن میں غفلت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی وہ بھول ثابت ہوئی جسے اب دونوں جماعتوں کی قیادت بھگت رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی معاملے پر ایک دوسرے کی مخالفت پر کمربستہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی جماعت کا نیب قوانین میں ترمیم پر اتفاق اس قوانین کو حقیقت پسندانہ بنانے کیلئے ہے یا پھر تینوں بڑی جماعتوں کو نیب سے واسطہ اور خود کے متاثر ہونے کا یقین ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی عملی طور پر نیب قوانین کی زد میں ہیں جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کی فہرست بھی تحقیقات میں شامل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی باری آنے میں ابھی وقت باقی ہے مگر باری آئے گی ضرور۔ بہرحال ان معاملات سے قطع نظر نیب قوانین کے یکطرفہ اور امتیازی ہونے سے انکار نہیں جن کا ازسرنو جائزہ لینے اور حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کی ضرورت واہمیت کا اس امر سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو بدلتے حالات میں قومی احتساب آرڈیننس مجریہ1999 کی دفعہ9(بی) میں ایسی ترمیم کرنی چاہئے جس کی رو سے کسی ملزم کو احتساب عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا حق دیا جائے کیونکہ مذکورہ دفعہ ہائیکورٹ کی طرف سے ضمانت کے دروازے کھل جانے کے بعد ویسے بھی غیرمؤثر ہوگئی ہے۔ احتساب عدالت کو درخواست ضمانت کی سماعت کا اختیار نہ ہونے کے باعث ہائی کورٹس پر بوجھ پڑتا ہے۔ 22صفحات پر مشتمل فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ16( اے) کے تحت ٹائم فریم بھی غیر حقیقت پسندانہ ہے اور قانون سازوں کو اس کا جائزہ بھی لینا چاہئے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں احتساب اور بدعنوان عناصر کو سزا دلوانے کیلئے قوانین کم ہی بنتے ہیں۔ یہاں اس قسم کی قانون سازی کا مقصد سیاست کو قابو میں رکھنے کیلئے ہوتا ہے جس کا نتیجہ اور انجام کبھی اچھا نہیں نکلا اور نہ ہی نکلے گا مگر چونکہ یہ طاقتورکے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار ہے جسے قانون کے نیام میں رکھا اور بوقت ضرورت نیام سے نکالاجاتا ہے۔ اس لئے ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے والا معاملہ ہوتا ہے۔ ماضی میں ایسے قوانین بنائے جاتے رہے ہیں جن کے تحت سیاستدانوں کو سیاست سے باہر کیا جاتا رہا۔ تاہم وقت اور حالات نے دیکھا کہ جماعتیں موجود رہیں اور پذیرائی بھی پاتی رہیں۔ یہ الگ بات کہ پاکستان دولخت ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ایک بار پھر سیاستدانوں کو احتساب کی چکی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ واقعی بدعنوان ہوں مگر صرف سیاستدانوں اور وہ بھی اپوزیشن سے وابستہ سیاستدانوں کا احتساب محض انتقام کا تاثر دے رہا ہے۔ معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔ نیب کے بعض قوانین اور چیئرمین نیب کو آمرانہ دور میں مطلق العنان اختیارات کی تفویض ضرور ہوئی۔ ان قوانین اور اختیارات کو منصفانہ بنانے کی مساعی سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن جب تک نیب میں خفتگی رہی سیاسی جماعتوں کو جمہوری ادوار میں نیب قوانین میں اصلاح کا خیال نہ آیا بلکہ اس وقت تو ایک سیاسی جماعت نیب کی ترجمانی کرتی رہی مگر اب جبکہ فہرست میں خود ان کے عہدیداروں کے نام آگئے تو آمادہ بہ ترمیم ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کو احتساب کے نام پر مطعون کرنے والی جماعتیں اور احتساب کی علمبردار جماعت درون خانہ مل بیٹھ کر چیئرمین نیب کے اختیارات اور قوانین میں ترمیم وتبدیلی کیلئے عجلت میں ہیں۔ اس سے نیب کی جلد ومتوقع کارروائیوں پر مشترکہ خوف کا اظہار ہوتا ہے۔ نیب کے چیئرمین کے مطلق العنان اختیارات اور نیب کے غیرضروری طور پر سخت قوانین میں تبدیلی ضروری ہوتی تو اس کیلئے قبل ازیں بہت وقت تھا۔ اس وقت ایک خاص منظرنامہ کے تحت حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو قوانین میں تبدیلی اور اصلاحات مطلوب ہیں۔ بہرحال یہ معاملات اپنی جگہ لیکن اس امر سے انکار کی گنجائش نہیں کہ نیب کی مطلق العنانیت اور غیرحقیقت پسندانہ اختیارات کو اب قانون کے دائرے میں لایا جائے تاکہ اس کے استعمال کے اثرات اور عدالتوں پر اضافی بوجھ کو بانٹا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کے پاس اس وقت جو اختیارات موجود ہیں وہ اعلیٰ عدالتوں کے پاس شاید ہی ہوں اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کے سنیئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جن قانونی ضابطوں میں ترمیم کا مشورہ دیا ہے اس پر توعملدرآمد ہونا ہی چاہئے علاوہ ازیں مشترکہ طور پر غور وخوض کر کے نیب کو احتساب کا ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جو ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی کی بھی پگڑی نہ اچھال سکے اور مقتدروں کے ہاتھ کا کھلونا ہونے کی بجائے یہ ادارہ حقیقی معنوں میں احتساب کا ادارہ بن جائے۔ اس ادارے کی اس وقت جو ہیئت اور شہرت بنی ہوئی ہے یہ ازخود نیب کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ اس کے بعض افسران کی سرگرمیوں کے باعث خود نیب کٹہرے میں آکھڑا ہے جس کے باعث چیئرمین نیب کو بعض پابندیاں لگانے کی ضرورت پڑی ۔ وطن عزیز میں حقیقی معنوں میں اور بلاامتیاز احتساب عوام کا خواب ہے اور ملک کی ضرورت جس کیلئے سیاست اور اقتدار کی غلام گردشوں سے پاک ایک ایسے ادارے کا وجود ضروری ہے جو احتساب کے قابل ہونے کیساتھ ساتھ قابل اعتماد بھی ہو۔

متعلقہ خبریں