Daily Mashriq

 اصل بات سات سو ارب کی واپسی کی ہے

اصل بات سات سو ارب کی واپسی کی ہے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے مطابق پاکستان کا7 سو ارب روپیہ غیرقانونی طور پر باہر گیا ہوا ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کی غیرقانونی دولت کا ایک چھوٹا حصہ ہے، جس کا سراغ لگا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بلیک اکانومی کا حجم پاکستان کی کل اکانومی کے برابر ہے۔ اگر یہ بلیک اکانومی نہ ہوتی تو پاکستان بہت ترقی کر چکا ہوتا۔ حکومت نے ابھی صرف ان لوگوں کی تحقیقات کی ہے جن کے اثاثے ایک ملین ڈالر سے زائد ہیں۔ بڑی مچھلیاں پکڑنے کے بعد چھوٹی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالیں گے۔ دبئی لینڈ اتھارٹی کے مطابق دبئی کے ریئل سٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے میں پاکستان پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ہمیں اثاثوں کی چھان بین کرنے میں وہاں مشکل آرہی ہے جہاں پیسے مالی، ڈرائیور اور کک کے نام پر رکھوائے گئے ہیں۔ فالودے اور رکشے والے سے ملتے جلتے کیسز میں منی لانڈرنگ کی رقم ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ ابھی تک ہم نے پانچ ہزار سے زائد اکاؤنٹس کی تحقیقات کی ہیں جو سارے جعلی نکلے ہیں۔ جس صورتحال کی نشاندہی ہو رہی ہے اور جتنی رقم کے غیرقانونی طور پر باہر جانے کا انکشاف یا دعویٰ کیا جاتا ہے ممکن ہے صورتحال اسی سے کم وبیش یا اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ اصل بات یہ نہیں کہ انکشاف کتنے رقم کا ہوا اصل بات یہ ہے کہ حکومت اس ضمن میں ایسے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ فالودہ والے، باورچی اور گھریلو ملازمین کے پس پردہ جو کردار ہیں ان کرداروں کو سامنے لایا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ یہ رقم ان کی ہے اور انہوں نے یہ رقم ان غیرقانونی ذرائع سے کمائی۔ وہ صرف ٹیکس چور نہیں بلکہ بدعنوان بھی ہیں جب تک اس سطح کی تحقیقات اور پیشرفت سامنے نہیں آتی اس وقت تک ان دعوؤں کو ہوائی قلعے ہی کے مثل سمجھا جانا فطری امر ہوگا۔ بہرحال یہ بات قابل اطمینان ضرور ہے کہ پہلی مرتبہ ایف آئی اے کی جانب سے اس قسم کی تحقیقات کی گئی ہے مگر جب تک ان تحقیقات کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاتا اور ذمہ دار عناصر کو کٹہرے میں لاکھڑا نہیں کیا جاتا تب تک خواہش کے باوجود اس سے توقعات کی وابستگی حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جلد ہی نہ صرف پس پردہ کردار سامنے آسکیں گے بلکہ اس رقم کو حسب دعویٰ واپس لاکر ملکی معیشت کو سہارا بھی دیا جائے گا۔

پولیو مہم کے باوجود انسداد پولیو میں ناکامی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ آج ہم پولیو فری پاکستان کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ 2014 میں پولیو کے 68کیسز رپورٹ ہوئے تھے، موجودہ حکومت کی کوششوں سے اب صرف ایک پولیو کیس پشاور میں سامنے آیا ہے جوکہ ہزارخوانی یونین کونسل سے رپورٹ ہوا ہے لیکن ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور پورے ملک کو پولیو فری بنائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بچے پولیو کی وجہ سے جسمانی معذوری کا شکار ہوئے تو بحیثیت قوم پولیو کا خاتمہ ہمارے لئے ایک چیلنج بن چکا تھا۔ صوبائی حکومت نے اس موذی مرض کے خاتمے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر جدوجہد کا فیصلہ کیا، ہماری سابق صوبائی حکومت نے پولیو کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات اُٹھائے۔ وزیراعلیٰ نے علاقہ کے عمائدین کا آگاہی مہم پر شکریہ ادا کیا۔ انسداد پولیو مہم کی ایک خاص طریقے سے افتتاح اور روایتی باتوں کا اعادہ ایک رسم کی صورت اختیار کر گیا ہے جس کی بناء پر پولیو مہم سے رسم تو پوری ہوتی ہے مگر یہ مہم کس قدر پراثر ہے اور ہر پولیو مہم پر پہلے کے مقابلے میں ایسے کیا اقدامات کئے جائیں کہ مہم زیادہ مؤثر طریقے سے آگے بڑھے اس پر توجہ نہیں دی جاتی جس کے باعث پولیو مہم اور سالوں کی محنت کے باوجود پولیو کے انسداد کی منزل نہیں آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں صرف پولیو سے بچاؤ مہم کافی نہیں بلکہ اسے حقیقی معنوں میں انسداد پولیو مہم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پھر کسی علاقے میں یہ انکشاف نہ ہو کہ پولیو مہم کے باوجود اس علاقے کی کوئی بچی یا بچہ خدانخواستہ پولیو زدہ ہو گیا ہے۔ جتنے وسائل کا اس مہم میں استعمال ہوتا ہے اتنے وسائل کے استعمال کے اثرات پولیو کے خاتمے کی صورت میں سامنے آنے چاہئے نہ کہ ہر دو تین ماہ بعد ایک نئی پولیو مہم چلانے کی ضرورت پڑے۔

متعلقہ خبریں