Daily Mashriq

جنگوں کے اسباب اور امکانات

جنگوں کے اسباب اور امکانات

دنیا میں اس وقت پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کا صد سالہ جشن منایا جا رہا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو ایک شخص کی ہلاکت کے نتیجے میں شروع ہونے والے دو ملکوں کے تنازعے سے شروع ہوئی۔ الفاظ کی توتکار باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر گئی اور دیکھتے دیکھتے اس جنگ میں کئی طاقتور یورپی ممالک شامل ہوتے چلے گئے۔ ایک طرف روس، برطانیہ اور فرانس تھے تو دوسری طرف جرمنی، ہنگری، آسٹریا، اٹلی اور سربیا جیسے مشرقی یورپی ممالک تھے۔ بنیادی طور پر یہ یورپی اقوام کی جنگ تھی جس میں ایک مرحلے پر سلطنت عثمانیہ کو بھی کودنا پڑا اور یوں اس جنگ کی قیمت مسلمان دنیا کو کچھ اس انداز سے ادا کرنا پڑی کہ ان کی ایک عالمی طاقت سلطنت عثمانیہ زوال کا شکار ہوئی اور پھر مسلمانوں کے زوال کا یہ سفر کہیں رک نہ سکا۔ پہلی جنگ عظیم1914سے 1918تک لڑی گئی۔ اس میں کروڑوں افراد مہلک ہتھیاروں کے باعث ہلاک اور کروڑوں زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں دنیا بھر کے لوگ شامل تھے کیونکہ اس وقت برطانیہ ایک بڑی عالمی طاقت تھا اور اس کی فتوحات اور کالونیوں کا سلسلہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا تھا۔ ہندوستان اور کئی دوسرے مسلمان ممالک بھی ان میں شامل تھے۔ یوں ہندوستان کے طول وعرض سے انگنت لوگوں نے برطانوی فوج کے حصے کے طور پر اس جنگ میں حصہ لیا۔ بہت سے مارے گئے، بہت سے لاپتا اور زخمی ہوگئے۔ اس سال فرانس نے جنگ بندی کے معاہدے کے سو سال پورے ہونے پر جشن منایا۔ جس میں روسی صدر ولادی میر پوٹن، جرمن چانسلر انجیلا مرکل، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو، ترک صدر رجب طیب اردوان اور اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے شرکت کی۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا کو امن کی ضرورت ہے جنگ کی نہیں۔ پہلی جنگ عظیم کو جنگوں کے خاتمے کیلئے لڑی جانے والی جنگ کہا گیا تھا مگر اس کے بعد جنگوں کا سلسلہ ختم ہونے کی بجائے دراز ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم بھی لڑی گئی۔ جس میں انسانیت کیخلاف بھیانک جرائم روا رکھے گئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے سفاکی کی وہ داستان رقم کی جس پر انسانیت ہمیشہ شرمسار اور نادم رہے گی۔ دوسری جنگ عظیم بھی انسانیت کو جنگوں سے نہ بچا سکی اور دو ملکوں کے درمیان جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک ملیشیا کو کچلنے کے نام پر افغانستان میں نیٹو اور امریکہ نے ملکر وہ تباہی مچائی کہ جس کا کوئی حساب ابھی تک مرتب نہیں ہو سکا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں، ارجنٹینا اور برطانیہ کی جنگ، ویت نام کی جنگ، مشرق وسطیٰ کی جنگیں دو عالمی جنگوں کے بعد کا قصہ ہے۔ دنیا میں امن کے گیت گانے والوں میں وہ ملک سب سے آگے ہیں جو جنگوں کو شروع کرانے میں پس پردہ کردار ادا کرتے ہیں۔ ان جنگوں کے مقاصد میں کسی ملک کی تہذیب کو نیچا دکھانا، کسی ملک کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا، منشیات کی تجارت اور بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مارکیٹ کو مضبوط اور وسیع کرنا شامل ہوتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی لیگ آف نیشنز کا تصور سامنے آیا تھا مگر یہ ڈھیلا ڈھالا اتحاد ناکام ہوا کیونکہ جنگ چاہنے والوں کو امن کی مالا جپنا تو قبول تھا مگر امن کی شمع کی لو کو بڑھانا قبول نہیں تھا۔ اس طرح جو جنگ جنگوں کے خاتمے کے نام پر لڑی گئی تھی وہ اس سے زیادہ خوفناک جنگ کی بنیاد بن گئی اور آج ایک سو سال گزرنے کے باوجود دنیا امن سے کوسوں دور ہے۔ انسانیت آج بھی اسلحہ ساز کمپنیوں اور منشیات فروش مافیا کے ہاتھوں لاچارگی اور بے بسی کی تصویر بنی ہے۔ جو لوگ جنگ کا کاروبار بھی کرتے ہیں وہی ''سویٹ ڈش'' کے طور پر ذائقہ بدلنے کیلئے امن کے پروجیکٹس بھی چلاتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے جو امریکہ اور نیٹو افغانستان اور عراق پر کروز میزائلوں کی بارش کئے ہوئے تھے وہی ساتھ ساتھ دنیا میں امن کے فروغ کیلئے این جی اوز قائم بھی کروا رہے تھے اور ان کو سیمیناروں اور مذاکروں کیلئے رقوم بھی مہیا کرتے تھے۔ گویاکہ یہاں وہی قاتل وہی منصف کا معاملہ تھا۔ ابوغریب اور دشت لیلیٰ کی جیلوں میں قیدیوں کیساتھ انسانیت سوز ظلم کرنے والے بھی وہی تھے اور انسانی حقوق کے نام پر این جی اوز کو فروغ دینے والے بھی وہی تھے گویاکہ کسی میدان کو اپنے کسی حقیقی حریف کیلئے کھلا چھوڑنا انہیں گوارا نہیں تھا۔ تضادات سے بھری اس پالیسی نے جنگوں کے خطرات کو کم کرنے کی بجائے بڑھا ہی دیا ہے۔ جنوبی چین کے جزیروں میں امریکہ اپنے ایک عالمی اقتصادی حریف ملک چین کی فوجوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا ہے۔ یوکرائن میں امریکہ اور روس آمنے سامنے رہ چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کی دو روایتی حریف ایٹمی طاقتیں چھوٹی موٹی جنگ میں مصروف ہیں۔ یہاں کشمیر کا تنازعہ دونوں ملکوں کے درمیان امن کے قیام میں مستقل رکاوٹ ہے مگر عالمی طاقتیں بے بسی اور مجبوری کا رونا رو کر اس تنازعے کو حل کرنے سے گریزاں ہیں اور یوں تنازعے کو مزید سنگین کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی تنازعات کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں۔ جب تک تنازعات کے خاتمے کے اسباب کا خاتمہ نہیں ہوتا جنگوں کے امکانا ت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جنگوں کے اسباب کا خاتمہ اس لئے ممکن نہیں کیونکہ جنگ ایک عالمی کاروبار ہے۔

متعلقہ خبریں