Daily Mashriq

حیات آباد، منشیات اور ایم فل کی مشکل

حیات آباد، منشیات اور ایم فل کی مشکل

خیبر پختونخوا کی جس مثالی پولیس سے لوگوں کی بہت زیادہ توقعات تھیں ان توقعات پر تو پولیس کا پورا نہ اُترنا اپنی جگہ، بدقسمتی سے ایسی شکایات ملنے لگی ہیں جس میں پولیس پر منشیات کے سوداگروں سے ملی بھگت کا الزام لگ رہا ہے۔ تاتارا پولیس سٹیشن حیات آباد کی حدود میں رہائش پذیر ایک شہری نے علاقے میں آئس اور چرس کے منظم کاروبار کے نیٹ ورک کی جو کہانی بیان کی ہے وہ اس امر کے یقین کیلئے کافی ہے کہ متعلقہ تھانے کا عملہ اس صورتحال سے بے خبر نہیں ہوسکتا۔ وہ ایس ایچ او ہی کیا جو تھانیداری کا رعب تو جمائے مگر عالم یہ ہو کہ تھانے کی عمارت سے نظر آنے والی ندی کے کنارے آئس بیچنے والے اور آئس پینے کیلئے آئے ہوئے صاف نظر آرہے ہوں۔ ہمارے قاری کے مطابق تاتارا پولیس سٹیشن کے سامنے دیوارپار آئس کا کاروبار پوری طرح اور کھلے عام جاری ہے گوکہ یہ علاقہ اب بھی ضلع خیبر میں ہونے کی بناء پر یہاں نہ تو پولیس کی علمداری ہے اور نہ ہی خاصہ دار زحمت کرتے ہیں لیکن دیوار پھلانگ کر حیات آباد کی حدود میں داخل ہو جائیں تو تھانہ تاتارا کی حدود شروع ہوجاتی ہے مگر منشیات لانے والوں کو ذرا بھی اس بات کا خوف نہیں کہ ان کو منشیات سپلائی کرتے ہوئے کوئی روک لے گا، کوئی دھرلے گا۔ حوالات اور جیل بھجوانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تبھی تو ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ حیات آباد کی ہر مارکیٹ اور ہر کھیل کے میدان کے آس پاس موٹر سائیکل سوار منشیات فروش منڈلارہے ہوتے ہیں۔ گھروں پر باقاعدہ ڈیلیوری سروس چل رہی ہوتی ہے جس کسی مارکیٹ میں ٹھہر کر دیکھیں مشکوک عناصر کی موجودگی صاف دکھائی دے گی، اگر کسی کو نظر نہیں آتی تو وہ علاقے کی پولیس ہے۔ آئس کی وباء خود سے پھیل نہیں رہی ہے بلکہ منظم طریقے سے پھیلائی جارہی ہے اور خوفناک بات یہ ہے کہ ان منشیات فروشوں کا نشانہ نویں دسویں کے بچے ہوتے ہیں، نشاندہی کیلئے میرے خیال میں اتنا کافی ہے۔ معلوم نہیں اینٹی نارکاٹکس فورس کہاں سوئی ہوتی ہے۔ان دنوں پولیو مہم جاری ہے جسے کامیاب بنانے کا تو غلغلہ بہت سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے مگر ہمارے ایک قاری کے مطابق وہ بھی پولیو مہم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈر ڈرکے کام کرچکے ہیں مگر جب معاوضہ نصف ملا تو کنارہ کشی کرلی کہ سارا دن لگے رہو، تین دن کی تھکاوٹ سے بدن چور ہو اور آپ کو معاوضے کی آدھی رقم دی جائے۔خیبر پختونخوا کے مختلف پرائمری سکولوں کے اساتذہ نے متعلقہ حکام کی طرف سے ٹائم ٹیبل طلبی پر رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کیا ہے کہ ان سے ٹائم ٹیبل ضرور طلب کی جائے، ان کے اوقات کار اور کارکردگی پر بھی نظر رکھی جائے لیکن کنویں میں سے کتا نکالے بغیر جتنے بھی ڈول پانی نکال کر بہادیا جائے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ صوبے کے پرائمری سکولوں میں ہر کلاس میں طلبہ کی تعداد ساٹھ سے سو تک ہوتی ہے۔ کلاسیں کچی پکی ملا کر چھ سات ہوتی ہیں مگر کمرے دویاتین اور اساتذہ کہیں ایک کہیں دو کہیں تین مقرر ہیں۔ اس کے باوجود وہ جیسے تیسے طلبہ کو پڑھاتے ضرورہیں مگر جس ترتیب اور نظم کیساتھ باقاعدہ ٹائم ٹیبل مرتب کر کے اس کے مطابق پڑھانے کی ان سے توقع کی جارہی ہے وہ ان کیلئے ممکن نہیں۔ بہتر ہوگا کہ متعلقہ حکام تعلیم ہی ان کی رہنمائی کریں۔جامعہ پشاور میں ایم ایس، ایم فل کے ایک طالبعلم نے جامعہ پشاور سمیت سرکاری جامعات میں ایم ایس، ایم فل پروگرام اور نجی یونیورسٹیوں کے پروگراموں کا موازنہ کرتے ہوئے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان سے جامعہ پشاور میں داخلہ لینے کی غلطی ہوئی ہے گوکہ سرکاری جامعات کی فیس نصف ہے لیکن سرکاری جامعات میں داخلہ فیس کی وصولی کے بعد یہ تک معلوم نہیں کہ کلاسیں کب شروع ہوں گی۔ جب کلاسیں شروع بھی ہوں، تو بھی اساتذہ کی عدم دلچسپی اور غیرحاضری کے باعث طالبعلم جن مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اس کے برعکس زیادہ فیس دینے والے طالب علموں کو اساتذہ برائے تدریس ورہنمائی مقررہ وقت پر میسر بھی ہوتے ہیں، پوری طرح پڑھاتے بھی ہیں اور ریسرچ وتحقیق کا کام بھی بروقت کروایا جاتا ہے۔ وہاں پر طالب علموں سے ناانصافی بھی نہیں ہوتی جس کا سرکاری جامعات میں تصور بھی نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر تعلیم کی تجارت کرنے والوں سے کبھی ہمدردی نہیں رہی ہے اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔ مجھے یہ تاجر سب سے برے لگتے ہیں لیکن مجھے اس امر کا اندازہ بھی نہ تھا کہ ایم فل اور ایم ایس کی سطح کا ایک طالبعلم سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ ملنے پر اس قدر پشیمانی کا شکار ہوگا کہ وہ نجی یونیورسٹیوں کی وکالت پر مجبور ہوجائیگا۔ ان کی معلومات اور احساسات ایک ایسے نوجوان کے احساسات ہیں جو سنجیدگی اور اعلیٰ ترین تعلیم کی دہلیز پر ہے۔ طالبعلم عموماً بی ایس یا ایم اے کے بعد تلاش روزگار میں نکل جاتے ہیں ایسے بہت تھوڑے طالب علم ہوتے ہیں جو ایم ایس یا ایم فل کا تہیہ کرتے ہیں جو ان کی سنجیدگی اور مزید تعلیم کے حصول میں دلچسپی کا باعث امر ہے۔ اگر اس درجے کے طالب علموں کو کبھی سرکاری یونیورسٹیوں میں اس طرح دھتکارا جاتا ہے اور اساتذہ اپنے فرائض انجام نہیں دیتے تو کس کے سامنے رونا روئیں۔ ایچ ای سی کے اعلیٰ حکام کو اس مسئلے کا خاص طور پر نوٹس لینا چاہئے اور ایم ایس و ایم فل کے طالب علموں کو بروقت تعلیم کی تکمیل کے مواقع یقینی بنانا چاہئے۔ اگرچہ مجموعی طور پر عوامی مسائل کا حل حکومت کے بس میں نہیں ہوتا لیکن آئے روز سامنے آنیوالے مسائل کی نوعیت اس قسم کی ہوتی ہے جس پر توجہ دی جاتی تو ان کا اعادہ نہ ہوتا۔ صوبے کے سرکاری اداروں میں اصلاح وتبدیلی دعوئوں سے نہیں عملی طور پر اقدامات سے ممکن ہوگی۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں