Daily Mashriq

درد منت کش دوا نہ ہوا

درد منت کش دوا نہ ہوا

دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو میٹھا چکھنے یا میٹھا کھانے کے رسیا ہوتے ہیں، بڑی دعوتوں میں نمکین کھانوں کے بعد سویٹ ڈش کا ہونا ضروری خیال کیا جاتا ہے، دنیا والے ہراس چیز کو میٹھا کہتے ہیں جو ان کے دل کو بھلی لگتی ہے۔ بھلا وہ زہر ہی کیوں نہ ہو

زہر میٹھا ہو تو پینے میں مزا آتا ہے

بات سچ کہئے مگر یوں کہ حقیقت نہ ہو

ہماری رومانوی شاعری میںمٹھاس کا ذکر مزے لے لیکر کیا گیا ہے

ایک موسم کی کسک ہے دل میں دفن

میٹھا میٹھا درد سا ہے مستقل

افتخار راغب

میرا معشوق ہے مزوں میں بھرا

کبھو میٹھا کبھو سلونا ہے

ظہور الدین حاتم

شاعری میں مٹھاس لانے کے رسیا گڑ گڑ کرکے منہ میٹھا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن وہ جو سیانے کہتے ہیں کہ گڑ گڑ کرنے سے منہ میٹھا نہیں ہوتا، گڑ چکھنے یا گڑ کھانے سے منہ میں مٹھاس آجاتی ہے، دنیا میں مٹھاس پسند کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ شائد ان میٹھا کھانے والوں کے دم قدم ہی سے حلوائیوں کی دکانیں چل رہی ہیں، نت نئی کینڈیز، لالی پاپس اور ٹافیوں کی ورائٹی مارکیٹ میں آکر دھڑا دھڑ فروخت ہورہی ہیں، ہمارے معاشرے میں کوئی خوشی اس وقت تک ادھوری سمجھی جاتی ہے اگر اس خوشی کی خوشی میں مٹھائی نہ کھائی جائے،رس گلے، گلاب جامن، برفی، جلیبی، امرسے، رس ملائی، کتنے بھلے لگتے ہیں مٹھائیوں کے یہ اور ان جیسے کتنے نام لیکن ان کا زیادہ استعمال اس وقت کسی زہر قاتل سے کم ثابت نہیں ہوتا جس وقت ہمارے رگ وپے میں گردش کرنے والے خون میں مٹھائیوں کی مٹھاس شوگریا گلوکوز کا لیول بڑھا کر میٹھا کھانے کے شوقین کیلئے عذاب جان بن جاتا ہے۔ خون میں شوگر لیول کا بڑھ جانا ایک مہلک اور جان لیوا بیماری کو جنم دیتا ہے جسے انگریزی میں ڈایا بیٹس کہا جاتا ہے اور جب یہی لفظ عربی زبان میں متعارف ہوتا ہے تواس کا تلفظ ذیابیطس ہوجاتا ہے اور ہم اردو بولنے والے میٹھا کھانے کی پاداش میں لاحق ہونیوالے اس مرض کو ذیابیطس ہی کہنے لگتے ہیں اور ہر سال نومبر کے مہینے کی 14تاریخ کو پاکستان سمیت ساری دنیا کیساتھ ملکر ذیابیطس سے بچاؤ کا عالمی دن منانے لگتے ہیں تاکہ دنیا والوں کو بتا سکیں کہ ذیابیطس کتنا موذی مہلک اور جان لیوا مرض ہے۔ بہت مشکل ہوجاتا ہے وجود انسانی میں شوگر لیول کو کنٹرول کرنا، اگر اس پر قابو پانے کیلئے انسولین ایجاد نہ ہوئی ہوتی۔ انسولین کی ایجاد کا سہرا فریڈرک پینٹنگ نامی نوبل انعام یافتہ سائنسدان کے سر سجتا ہے جس نے اپنی شبانہ روز کوششوں سے شوگر کنٹرول کرنے کی انسولین ایجاد کی۔ وہ چودہ نومبر کی تاریخ تھی جب انسولین کے مؤجد نے اس دکھوں اوربیماریوں بھری دنیا میں آنکھ کھولی۔ گویا 14نومبر ذیابیطس جیسے موذی مرض سے بچاؤ کا عالمی دن ہی نہیں انسولین کے مؤجد کا یوم پیدائش بھی ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھنے اور اسے ہیپی برتھ ڈے وش کرنے کے علاوہ اس کے کارنامے کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے ذیابیطس سے بچاؤ کا عالمی دن بھی14 نومبر کو منایا جاتا ہے اور اس دن لوگوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ ہرسال اس مرض میں مبتلاء ہونیوالے مریضوں میں سے ہر پانچواں فر د داعی اجل کو لبیک کہہ دیتا ہے۔ حساب لگانے والے بتاتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے، بلڈپریشر کا بڑھ جانا۔ بات بے بات غصہ آنا، سانس کا پھول جانا، توڑ پھوڑ، دھونس دھمکیاں اس مرض میں مبتلا ہونے کی عام سی نشانیاں ہیں۔ ذیابیطس کے مریض اپنے پیشاب کو کنٹرول نہیں کرسکتے ان کو بار بار پیشاب آنے کی تکلیف رہتی ہے۔ اگر ذیابیطس کے مریضوں میں شکر کی مقدار پائی جائے تو اس کے مرض کو ذیابیطس شکری کہا جائے گا اور اگر پیشاب میں شکر نہ پائی جائے تو لغت نگاراسے ذیا بیطس ملیخ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے جسم کے کسی بھی حصے کو کٹ لگ جائے تواس کا زخم اتنی آسانی سے نہیں بھرتا بلکہ اس کے مزید بگڑنے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات تو وہ زخم بگڑ کر اللہ بچائے کینسر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ بعض اوقات تو ذیابیطس کے مریضوں کی پاؤں کی انگلی کا گھاؤ زہر بن کر پوری ٹانگ میں پھیل جاتا ہے جس کے نتیجے میں معالج بے بس ہوکر مریض کی ٹانگ تک کاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، کہتے ہیں کہ انسولین کے علاوہ اس کا کوئی مکمل یا تیر بہدف علاج دریافت نہیں ہوا، البتہ مریضوں کی مجبوریوں کو چاندی میں ڈھالنے کی فیکٹریاں ضرور کھل گئی ہیں اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا عالم بے کسی میں ٹھنڈی آہیں بھر بھر کہتے رہ گئے ہیں کہ

درد منت کش دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

متعلقہ خبریں