Daily Mashriq

پانی بانسوں اُچھلا

پانی بانسوں اُچھلا

محاورہ تو پانی بانسوں اُچھلنا ہے مگر عنوان ہردلعزیز حکمران جماعت کی زیرک رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید نے جن کو اگر حدیدالذہن کہا جائے تو کم نہ ہوگا۔ فرمایا ہے کہ ہم یہودیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن جب ہم نماز میں درود ابراہیمی پڑھتے ہیں تو یہودیوں کو بھی دعائیں دیتے ہیں، اس طرح اللہ کے حکم کے مطابق یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس اور مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہے، لہٰذا اب مسلمانوں اور یہودیوں میںاس معاملے پر لڑائی ختم ہو جا نی چاہیے،جس طرح حدیدالذہن ترکیب ہے اسی طر ح ایک دوسری ترکیب حدید صینی ہے، جس کا مطلب ہے بھاری اور سخت پتھر جو سرخ رنگ کا ہو تا ہے، ماضی میں جو عناصر مذہب کے بارے میں پتھر دل ہوا کرتے تھے ان کو سرخا کہا جاتا تھا شاید اسی وجہ سے کیونکہ وہ دین کو تسلیم نہیں کیا کرتے تھے یا دین کو کوئی اہمیت نہیں دیا کرتے تھے اب سرخو ں کو زوال آگیا ہے۔ عاصمہ حدید کی تقریر انہی حدید صینی سے ملتی جلتی لگ رہی ہے، سوشل میڈیا پر جو تقریر ان کی وائرل ہوئی اس کے مطابق عاصمہ حدید فرما رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اب پاکستان کو عرب دنیا میں امن کیلئے چنا ہے اور وہ یمن میںکردار ادا کریگا۔ محمدۖ نے بھی مدینہ میں یہودیوں سے معاہدہ کیا تھا، ہم بھی اسی طرح یہودیوں سے معاہدہ کریں گے تاکہ عورتوں اور بچوں کا خون نہ بہے۔ میڈیا کے مطابق عاصمہ کا کہنا ہے کہ حضورۖ بھی بنی اسرائیل سے تھے، یہودی بھی بنی اسرائیل ہیں، ان سے معاہدے کرنے چاہئیں۔دینی حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کی طرح ہی دینی شدھ بدھ رکھتی ہیںکیونکہ محترمہ کو معلوم نہیں کہ حضورۖکا تعلق بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ بنی اسماعیل سے ہے، اور نہ وہ میثاق مدینہ کے حالات سے واقفیت رکھتی ہیں اور کس وجہ پر حضورۖ نے یہودیوں کو مدینہ اور خیبر سے بے دخل کیا۔ ان عناصر کو میثاق مدینہ تو ازبر رہتا ہے لیکن مدینہ بدر یاد نہیں ہو پاتا۔ نہ فتح خیبر کے اسباب زبر ہو پاتے ہیں۔ محترمہ نے اسرائیلی طیارے کی مبینہ آمد کے بارے میں قومی اسمبلی میں بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے کا مشورہ دیا۔ جب مبینہ طور پر طیارے کی پاکستان آمد کا چرچا ہوا تھا۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ناقدین نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہی ہے جس پر پی ٹی آئی کے لیڈروں اور محبین نے جوشیلے انداز میں اس کی تردید کر دی تھی، اب اسی طیارے کے موضوع کے مو قع پر موصوفہ نے ایسی بات کردی کہ ناقدین کی بات درست محسوس کی جانے لگی ہے۔رکن قومی اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے اس موقع پر ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید کے ان خیالات پر گہرا دکھ ہوا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری قیادت اور جماعت نے تحریک انصاف کی قیادت کے بارے میں دس سال پہلے جو مؤقف اختیار کیا تھا، خاتون رکن قومی اسمبلی کا بیان ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے۔ حزب اختلاف کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے عاصمہ حدید کی تقریر پر تشویش کا ردعمل آیا ہے۔محترمہ عاصمہ حدید نے اسرائیل کیساتھ دوستی کی بات ایسے موقع پر کی ہے جبکہ اسرائیل سے راولپنڈی میں نورخان ائیربیس پر اسرائیلی طیارے کی آمد پراسراریت اختیار کر چکی ہے۔ یہ پراسراریت اسی اندا ز کی ہے کہ جب 2مئی2011 کو پراسرار طور پر امریکی طیاروں نے پاکستان کے علاقہ ایبٹ آباد میں گھس کر اسامہ بن لادن کیخلاف کارروائی کی تھی جس کے حقائق جاننے کیلئے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا مگر سات سال گزرنے کے باوجود آج تک اس کے حقائق سامنے نہیں آئے، اس وقت بھی پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی تھی اور اسرائیلی طیارے کے حوالے سے اگر حکومتی مؤقف تسلیم کر لیا جائے تو بھی پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا امکان پایا جاتا ہے۔جہاں تک اسرائیل سے دوستی کی تجویز کی بات ہے تو شاید محترمہ رکن قومی اسمبلی کو یہ گمان ہے کہ اسرائیل کیساتھ پاکستان کے تعلقات نہ ہونے کی وجہ کوئی دینی معاملہ ہی ہے جبکہ ایسی بات نہیں دین سے الگ بھی اصولی بات ہے کہ اسرائیل ایک غیرقانونی اور غیراخلاقی مصنوعی ریاست ہے۔ کیا یورپ اور امریکا اس امر کو قبول کرنے کو تیار ہے کہ اسپین جہاں سینکڑوں سال مسلمانوں کی حکومت رہی ہے ابن رشد جیسے عظیم شخصیات کا تعلق اسی خطہ زمین سے تھا وہاں کسی زمین کے ٹکڑے پر دنیا بھر سے مسلمانوں کو ڈھو کر ایک مسلم ریاست قائم کردی جائے، ایک تو فلسطینیوں سے مراد صرف یہ لے لی جاتی ہے کہ مسلمان فلسطینی، جس طرح امریکا، بھارت، یورپ میں غیرمسلم اکثریت کے علاوہ اقلیت میں آباد ہیں جن میں مسلمان بھی شامل ہیں اسی طرح عرب میں بھی یہودی اور نصاریٰ آباد ہیں مگر کیا اسرائیل میں سب عربی یہودی آباد ہیں یا دوسرے ممالک کے صیہونیوں کو لاکر آباد کیا گیا ہے جبکہ اسرائیل کو جس طرح سے ریاست بنایا گیا ہے کیا وہ قانونی حیثیت رکھتی ہے، زمین پر مقامی آبادی یا باشندوں کا ہی حق ہوتا ہے۔ روس، پولینڈ، برطانیہ، امریکا کے باشندوں کو فلسطین کی سرزمین پر لاکر آباد کرنا بڑی ڈکیتی ہے محترمہ رکن قومی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ دین کی حقانیت کیساتھ ساتھ تاریخ کا بھی مطالعہ کریں پھر اس موضوع کو زبان سے اترائیں۔ فلسطین فلسطینیوں کا ہے کسی عرب یا صیہونیوں کا نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں