Daily Mashriq

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے 7 حراستی مراکز کا ریکارڈ طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے 7 حراستی مراکز کا ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صوبے کے 7 حراستی مراکز کا ریکارڈ طلب کرتےہوئے خیبرپختونخوا حکومت کو مراکز میں قید کسی شخص کو ہٹانے یا منتقل نہ کرنے سے متعلق خبردار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے صوبے کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاسم ودود کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ' ہم جانتے ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) کی سماعت کے دوران کچھ افراد کو اِدھر سے اُدھر منتقل کیا گیا'۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ' ایسا دوبارہ نہیں چاہیے کیونکہ حراستی مراکز میں موجود افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی تھیں'۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے خیبرپختونخوا ایکشن ( ان ایڈ آف سول پاور) آرڈیننس 2019 کو دائرہ اختیار سے باہر قرار دینے اور سابق پاٹا ایکٹ 2018 اور سابق فاٹا ایکٹ 2019 کی وجہ سے مذکورہ ایکٹ کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔

حکومت کی اپیل کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر اور انسانی حقوق کے کارکنان افراسیاب خٹک، بشرہ گوہر اور روبینہ سہگل نے مشترکہ چیلنج کیا تھا کہ جس میں عدالت سے خیبرپختونخوا ایکشن ( ان ایڈ آف سول پاور) آرڈیننس 2019 کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے کیونکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر مسلط کیا گیا ہے۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے درخواست پر دلائل دیے۔

آرڈیننس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کا اختیار حاصل ہے۔

24 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا اور موجودہ لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا جس میں چیف جسٹس سمیت جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شامل ہیں۔

تاہم آج (14 نومبر کو) صوبائی حکومت حراستی مراکز میں موجود افراد کی مکمل تفصیلات فراہم کرے گی جس میں ان کا حسب نسب، ان کے خلاف الزامات اور ان کے زیرِ حراست ہونے کا عرصہ شامل ہے۔

متعلقہ خبریں